بھارت نے کشمیری راہنماء مقبول بٹ کو تو شہید کر دیا مگر مقبول بٹ شہید کی سوچ پر پہرے نہ بٹھا سکی۔ بلال تبسم

Bilal Tabassum

Bilal Tabassum

اٹلی : سیاسی و سماجی رہنما کو بھارت نے 11 فروری 1984ء کو تہاڑ جیل دہلی میں کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرنے والے سیاسی اسیر اور کشمیریوں کے عظیم لیڈر مقبول بٹ شہید کو تختہ دار پر لٹکا کر شہید کر دیا تھا۔ جبکہ شہید کشمیر مقبول بٹ شہید کا جسد خاکی بھی انکے وارث کشمیریوں کے حوالے نہیں کیا گیا اور آج 33 برس گزر جانے کے بعد ان کی میت تہاڑ جیل دہلی (ہندوستان) کے احاطہ ہی میں مدفون ہے۔

کشمیری آج بھی اپنے شہید ہیرو کی میت کی باقیات کا مطالبہ کرتے ہیں۔تاکہ انکے جسد خاکی کو سرینگر (کشمیر) لے جا کر عزت و احترام، اعزاز اور اسلامی روایات کے مطابق مزار شہداء میں ان کے لئے مختص کی گئی قبر میں سپرد خاک کیا جا سکے۔ کشمیر آزاد ہو گا اور بھارت کو وہاں سے بے نیل و مراد ہو کر نکلنا پڑے گا۔ بھارتی فوج کشمیریوں کی قاتل ہے۔

بھارت نے کشمیری راہنماء مقبول بٹ کو تو شہید کر دیا مگر مقبول بٹ شہید کی سوچ پر پہرے نہ بٹھا سکی۔ آج کا کشمیری نوجوان انکے نظریات سے متاثر ہے اور آزادی کا مطالبہ کرتا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر اپنا وعدہ پورا کرے اور گیارہ فروری کو آزاد ریاست میں عام تعطیل کا اعلان کرے۔