مہنگائی کا شدید دھماکہ

Inflation

Inflation

تحریر : ڈاکٹر میاں احسان باری
731 در آمدی اشیاء پر80%تک ریگولیٹری ڈیوٹی کے اعلان کی ہر فرد شدید مذمت کر رہا ہے غریب دشمن حکومت کا منی بجٹ سال میں کئی بار آتا ہے یہ بجٹ اب کی بار تو سرکاری ملازمین کسانوں مزدوروں اور عام غرباء پسے ہوئے طبقات پر بم دھماکہ سے کم نہیں ہے غریب عوام تو پہلے ہی روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی مہنگائی کے قبرستان میں زندہ دفن ہونے پر مجبور تھے اور بیوی بچوں سمیت خود کشیاں اور خود سوزیاں کی جارہی تھیں کہ اب یہ قیامت آن پڑی ہے نااہل شریفوں اور ناکام اور کرپٹ وزیر خزانہ کی سزا غریب عوام کو دینا قرین انصاف نہ ہے 25ارب کے نئے ٹیکس لگا نا انتہائی ظلم اور عوام پر مہنگائی کا ڈرون حملہ کرنے کی طرح ہے ریگولیٹری ڈیوٹی کے ذریعے لوگوں کے کندھوں پر مزید بہت بڑا بوجھ ڈالنا حکومتی معاشی ناکامیوں کا تسلسل ہے اگر اس کو واپس نہیں لیا جاتا تو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں سمگلنگ بھی مزید بڑھے گی اور لا محالہ اس کا سارا بوجھ بھی بے سہاراغریب پاکستانیوں پر ہی پڑے گا۔کہ یہاں تو اسی ریٹ پر چیزیں بکیں گی مگر سرمایہ دار ،اور نودولتیے سودخور تو خوب کمائیاں کریں گے اس طرح ہماری قرضوں میں جکڑی معیشت کا مزید بھٹہ بیٹھ جائے گا اور ایسا عمل سراسر ملک دشمنی کے مترادف ہے اب جبکہ انتخابات میں چھ ہی ماہ باقی ہیں تو ایسے ٹیکسوں کا فائدہ حکومتی جماعت ،اس کے ہم جولیوں ،اور ہم نوالہ ،ہم پیالہ سرمایہ داروں کو تو مالی طور پر بہت ہوگا مگر سیاسی طور پر حکمرانوں کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کی طرز پر ہو گاگو کہ اشیائے تعیش کی در آمد کو روکنا اور ان پر پابندی لگانا ضروری ہے مگر اس کی آڑ میں ضروری خام مال تو متاثر نہیں ہو نا چاہیے کیونکہ ہمارا صنعتی شعبہ ہی ان سے صنعتی اشیاء کا مال تیار کرکے بیرون ملک بھجواتا ہے خام مال پر پابندی یا اس پر ڈھیروں ریگولیٹری ڈیوٹی سے لامحالہ صنعتی پیداوار کی کمی ہو گی اور ہماری مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی اور برآمد میں بھی شدید کمی ہو گی بیرون ممالک ہمارا مہنگا مال بک ہی نہیں سکے گاا س لیے صنعتی خام مال پرریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنا سخت کم فہمی اور بے عقلی ہے۔

غیر ضروری عیاشیانہ اشیاء کی در آمد پر تومکمل پابندی عائد کرڈالی جاتی تو بہتر ہوتا مگر 731 درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی بڑھانا کسی صورت بھی ایسے مسائل کا حل نہ ہے چاہیے تو یہ تھا کہ جس ملک سے بھی تجارتی کاروبار کریں اس سے معاہدہ بھی کیا جائے کہ در آمدات کے برابر ہماری برآمدات بھی وہ خریدیں تاکہ ہمارا ٹرید بیلنس بہتر اور متوازن ہوتا رہے درآمدات میں تو اضافہ کا رجحان ہے مگر بر آمدات میں مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے اس طرح ہمارے زرِ مبادلہ پر انتہائی برا اثر پڑ رہا ہے۔اسٹیٹ بنک کے مطابق 2سال میں روپے کی گردش میں اوسطاً 25فیصد اضافہ ریکارڈ ہو اہے جب کہ قبل ازیں11سال میں روپے کی گردش 14فیصد تھی ٹیکسوں کے نفاذ سے بنکوںمیں لین دین میںبہر حال کمی ہورہی ہے اور لو گ کھاتوں میں رقوم رکھنا ہی نہیں چاہتے بنکوں میں ڈیپازٹ کی کمی کی وجہ سے اسٹیٹ بنک کو بھی بینکنگ سیکٹر کو رقوم فراہم کرکے سہارا دینا پڑتا ہے۔اسٹیٹ بنک کی سفارش پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا مکمل خاتمہ کیا جانا چاہیے وگرنہ بینکنگ سسٹم بھی دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے گا۔ویسے تو دنیا کے پلید ترین اور غیر اسلامی سودی سسٹم کا ہی مکمل خاتمہ ہماری معیشت کو سنبھالنے کا بہترین ذریعہ ہے مگر چونکہ مرکز اور صوبوں میں حکمرانی بنچوں پر ظالم جاگیردار کرپٹ وڈیرے ڈھیروں منافع کمانے والے صنعتکار اور نودولتیے سود خور افراد ہی نوے فیصد سے زائد براجمان ہیں اس لیے سابقہ شریفوں کی حکمرانی کے دور میں لیا گیاسپریم کورٹ سے سودی نظام کو برقرار رکھنے کا اسٹے آرڈرواپس لیے جانے کا امکان نظر نہیں آتا۔

اب چونکہ نئے انتخابات سے قبل سرمایہ کی چھینا جھپٹی کا غلیظ عمل شروع ہو چکا ہے سبھی قسم کے ممبران اسمبلی آئندہ منتخب ہونے کے لیے ڈھیروں سرمایہ اور مال و دولت جمع کرنے پر تلے ہوئے ہیںتاکہ آئندہ پھر ووٹوں کی خریداری کرکے منتخب ہوسکیں اس لیے بجٹ کے چار ماہ بعدہی منی بجٹ کے ذریعے کھانے پینے سمیت سینکڑوںاشیاء پر ٹیکس عائد کرنے سے مہنگائی کا جو طوفان آئے گا وہ غربت میں بستے ہوئے نچلے طبقات کو سانس لینا تو درکنار موت کے قریب کر ڈالے گا موجودہ حکمرانوں کی 2013 کی انتخابی مہم میں لگائے گئے نعرے اور وعدے کہ اگر ہم اقتدار میں آگئے تو قیمتیں 1999کی سطح پر لے آئیں گے۔

کیا ان سابق نعروںپر رتی برابر بھی عمل ہوا ؟ہرگز نہیں ۔ مگر اب سرکاری اعلانات کے مطابق پولٹری مصنوعات دودھ مکھن کریم مچھلی گندم مکئی دھی پنیر شہد سبزیاں پھل خشک میوہ جات منرل واٹر آئس کریم پالتو جانوروں کی خوراک ان سب پر ٹیکس لگا کر ان کی قیمتیں بڑھانا ظلم ہی نہیں بیہودہ حرکت بھی ہے بجلی کی گھریلو مصنوعات اور سٹیل کی قیمتوں کو بڑھانا بھی احمقانہ حرکت ہے حکمران طبقات کے ہی تمام چینی کے کارخانے ہیں برآمدات پر وہ سبسڈی کے ذریعے اربوں کماتے ہیں پھر بھی عوام کی پہنچ سے چینی دور ہے اور دیہاتی لوگ بدستور گڑ شکر استعمال کرتے ہیں۔

نئی گاڑیوں پر تو ٹیکس بڑھا دیا مگر پرانی گاڑیاں تو سستی ہونی چاہیے تھیں ایسا بھی نہ ہوسکا۔گندم پڑی خراب ہورہی ہے گوداموں اور کھلے آسمان تلے بنائے گئے گندم سینٹرز پر تو گندم کی حالت انتہائی خراب ہے اس کی سابقہ کھپت دو کروڑ تیس لاکھ ٹن تھی مگر پیداوراڑھائی کروڑ ٹن سے زائد رہی اس کو بھی بروقت برآمد نہ کرنا حکمرانوں کی کوتاہی ہے قرضوں میں ڈوبتی معیشت تباہ و بربادہورہی ہے صدر مملکت تک چیخ اٹھے ہیں اتنے کھربوں روپوں کا قرضہ کسی ہسپتال تعلیم صاف پانی کی فراہمی اور غربت بیروزگاری کے خاتمے کے لیے نہ لگ سکاچار سال سے اللے تللے کاموں میںہی رقوم لگا کر ملک سخت قرضوں میں جکڑا جا چکا ہے۔قسطوں کی واپسی ایک بڑا مشکل مرحلہ ہو گی۔

Dr Mian Ihsan Bari

Dr Mian Ihsan Bari

تحریر : ڈاکٹر میاں احسان باری