بڑھتی مہنگائی اور غربت میں اضافہ

Inflation

Inflation

تحریر : ڈاکٹر محمد عدنان
مہنگائی سے مراد اشیاء کی قیمت کا آمدن کے مقابلہ میں بڑھ جانا یعنی اتنی ہی ر ہے یا اس نسبت سے نا بڑھیں جس نسبت سے قیمت ،پاکستان میں غربت و افلاس کی ماری عوام گزشتہ کئی برسوں سے مہنگائی کا ایٹم بم برداشت کر رہی ہے پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں ہر روز پیش آنے والے نت نئے مسائل کی وجہ سے عوام کی پریشانیوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔دہشتگردی،لوڈشیڈنگ ،بے روزگاری ،صاف پانی کی عدم فراہمی،کرپشن اور دیگر بہت سے مسائل کے ساتھ ساتھ بڑھتی مہنگائی اور غربت میں اضافے نے لوگوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور لوگوں کو دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہے۔

پاکستان کو در پیش مسائل میں سے مہنگائی اور غربت ایک بہت بڑا مسئلہ ہیںجس پر بد قسمتی سے حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کی کوئی خاص توجہ نہیں ہے ہمارے ملک میں ساڑ ھے انتیس فیصد آبادی غربت کی لائن کے نیچے زندگی گزار رہی ہے جسے حکومت نے بھی تسلیم کر لیا ہے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں پانچ کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیںوزارت منصوبہ بندی کے مطابق3ہزار 30روپے سے کم آمدن کھانے والے افراد کو خط غربت سے نیچے تصور کیا جاتا ہے دوسری طرف ان اعداد و شمار کے بر خلاف اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی آبادی کا 39 فیصد حصہ غربت کا شکار ہے۔

میری ناقص عقل کے مطابق جہاں بہت سے مسائل دوسرے ممالک کو پیش ہیں ان میں سب سے بڑا مسئلہ غربت اور بے روزگاری کا ہے جو ملک میں فساد ،کرپشن اور دہشتگردی کی وجہ بھی بن رہی ہے پٹرول اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ صرف مہنگائی بڑھنے کا ہی نہیں بلکہ گداگری اور غربت میں اضافے کا بھی نام ہے لوگ مہنگائی کے سبب پیٹ کاٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

بیشتر گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں مہینے کا اکٹھا راشن لانے کا رواج بھی ختم ہو گیا ہے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ تین سالوں میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ ہوا ہے پاکستان کی معیشت زراعت پر منحصر ہے اور اجناس کی پیداوار میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے لیکن منافع خوروں اور کمیشن ایجنٹوں کی ملی بھگت اور گزشتہ چند برسوں سے خوراک کی ایران ،افغانستان اور دوسرے ممالک کواسمگلنگ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اجناس کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے مزید مہنگی اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے غربت کی ایک اور بڑی وجہ کرپشن ہے کرپشن کی ہمارے معاشرے میں مختلف اقسام ہیںجس کی وجہ سے نظا م کا ڈھانچہ بیرونی طور پر مضبوط اور اندرونی طور پر کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔

اوپر سے نیچے تک تمام ادارے اس گھنائونے قتل میں ملوث ہیںعالمی شماریاتی ادارے کے مطابق کرپشن کی فہرست میں پاکستان بیالیسیویںنمبر پر ہے ہمارے معاشرے میں آپسی تعلقات میںشدت کا عنصر تیزی سے بڑھ رہا ہے ایک دوسرے پر سبقت کی دوڑ میں ہر شخص اپنے مفاد کی خاطر اپنی ضروریات کی تکمیل کے حصول کے لیے انسانی قدروں کو پا مال کر رہے ہیںلہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بے ضابطگیوں کو غور طلب فیصلوں کے ذریعہ حل کیا جائے ہماری قوم کی خوش قسمتی ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جس کا حل نہ ہومگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہم خود کی اصلاح نہیں کرنا چاہتے حکومت اور اپوزیشن کو خصوصاًعام آدمی کو ذہن میں رکھ کر مہنگائی کے خلاف کام کرنا چاہئے تا کہ عام آدمی آسانی سے دووقت کی روٹی کھا سکے۔

Dr. Mohammad Adnan

Dr. Mohammad Adnan

تحریر : ڈاکٹر محمد عدنان