عالمی برادری خصوصاً یورپ مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد فراہم کرے، سردار مسعود

Kashmir Council EU

Kashmir Council EU

برسلز (پ۔ر) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہاہے کہ یورپ سمیت عالمی برادری مسئلہ کشمیرکے منصفانہ اور پرامن حل کے لئے کشمیریوں کی مدد کرے۔وہ برسلزمیں کشمیرکونسل یورپ (ای یو) کے زیراہتمام ’’یورپ میں کشمیرپر جدوجہد ‘‘ کے عنوان سے عشائیہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ تقریب میں اراکین یورپی پارلیمنٹ ، اراکین برسلزپارلیمنٹ، یورپی دانشوراورماہرین کے ساتھ ساتھ بلجیم میں کشمیریوں اور پاکستانی کمیونٹی کے نمائندگان کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔

اس سے قبل علی رضاسید کی قیادت میں کشمیرکونسل ای یو نے صدر آزادکشمیرکا برسلزپہنچنے پر استقبال کیا۔عشائیہ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ مولاناسید حسنات بخاری نے تلاوت کا شرف حاصل کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیرنے کہاکہ دنیابھرمیں کشمیریوں کے ہمدرد اور سپورٹرز موجودہیں اور اسی وجہ سے کہاجاسکتاہے کہ کشمیری ہرگز تنہانہیں۔

بلجیم اور یورپ کے دیگر ممالک کے لوگ انسانی حقوق اورانسانی اقدارپر یقین رکھتے ہیں اور ہمیں ان سے امید ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں ہماری مددکریں گے۔یورپ دوسری جنگ عظیم کے بعد دوبارہ تعمیرہواہے اوراب اس خطے کے لوگوں نے اختلافات ختم کرکے اپنے علاقے کی ترقی اورامن کے لئے سوچ پائی جاتی ہے۔ مسائل اور تنازعات کے حل کے لئے یورپ کے پاس مہارت موجودہے۔

مقبوضہ کشمیرکی صورتحال بہت خراب ہے ۔ آئے دن بھارتی افواج مظلوم کشمیریوں پر مظالم ڈھارہی ہیں۔ گذشتہ سال پیلٹ گن کو بھارت نے جنگی ہتھیارکے طورپر استعمال کیااور کئی لوگوں کی جان لے لی اور بڑی تعدادمیں لوگوں خصوصاً نوجوانوں کو آنکھوں سے محروم کردیاہے۔

کشمیریوں کے اتحادواتفاق کے بارے میں صدر آزادکشمیرنے کہاکہ کشمیری چاہے مقبوضہ کشمیرسے ہوں یا آزادکشمیرسے، یاپھر باہر رہنے والے ، تمام کشمیریوں کے مابین اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ہمیں یک زبان ہوکربھارتی مظالم کے خلاف اورآزادی کے حق میں آوازبلند کرناہوگی۔انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیرمیں اس نئی غیرقانونی آبادکاری سے روکاجائے جس کا مقصد کشمیر میں آبادی کا تناست تبدیل کرناہے۔

انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بھارت اپنی فوجیں کشمیرسے باہر نکالے اور کشمیریوں کواپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق دیاجائے۔کشمیری مسئلہ کشمیرکے اصل فریق ہیں ان کی مرضی کے بغیرکوئی بھی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔ انھوں نے مزیدکہاکہ کشمیربھارت کا حصہ نہیں اورنہ ہی کوئی علاقائی یا دوطرفہ تنازعہ ہے بلکہ یہ بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ مسئلہ ہے جس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں موجودہیں۔

صدرآزادکشمیرنے مدعو کرنے پر کشمیرکونسل یورپ کا شکریہ اداکیا اور کونسل کی مسئلہ کشمیرکو یورپ میں اجاگرکرنے کے لئے کوششوں کو قابل ستائش قرار دیا۔ قبل ازیں ، چیئرمین کشمیرکونسل یورپ (ای یو) علی رضاسید نے بلجیم کا دورہ کرنے پر صدرآزادکشمیرسردارمسعود خان سے اظہارتشکرکیا۔ انھوں نے تقریب میں شریک مہمانوں کا بھی شکریہ اداکیا۔ چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے اس عزم کا اظہارکیا کہ وہ مسئلہ کشمیرکو یورپ میں اجاگرکرنے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انھوں نے تقریب کے شرکاء کو کشمیرکونسل ای یو کی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ کونسل اب تک یورپ میں متعدد پروگرام کشمیر پر کرواچکی ہے جن میں یورپی پارلیمنٹ سمیت متعدد یورپ ممالک میں سیمینارز، کانفرنسیں، مظاہرے اور ایک ملین دستخطی مہم شامل ہے۔تقریب کے دوران میزبانی کے فرائض کشمیرکونسل ای یو کے سینئرعہدیداراور دانشور شیرازراج نے انجام دیئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن یورپی پارلیمنٹ ڈاکٹر سجادکریم نے کہاکہ کشمیرکونسل ای یو نے مسئلہ کشمیرکو یورپ میں اجاگر کرنے خاص طورپر اس مسئلے کویورپی پارلیمنٹ میں اٹھانے کے لئے ایک مشکل وقت میں کام شروع کیااور کونسل یہ کام نہ کرتی تو کشمیرکی بات کو پارلیمنٹ میں اٹھاناایک کٹھن کام ہوتا۔ انھوں نے کشمیریوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت پر پاکستان کے موقف کی بھی تعریف کی۔

یورپی پارلیمنٹ میں فرینڈزآف کشمیرگروپ کی شریک چیئرپرسن انتھیا ماکلن ٹائرنے کہاکہ اس وقت ضرورت ہے کہ کشمیریوں کا ساتھ دیاجائے۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں پر مظالم سے روکاجائے۔کشمیریوں کو حق خودارادیت دیاجائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا خودفیصلہ کرسکیں۔

ایک اور رکن یورپی پارلیمنٹ اورپارلیمنٹ میں فرینڈ آف کشمیرکے وائس چیئرپرسن راجہ افضل خان نے کہاکہ ان کی والدہ کشمیرسے ہیں اور اس لئے ان کا کشمیرسے گہرا تعلق ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ہمارافرض بنتاہے کہ ہم دیگر اراکین یورپی پارلیمنٹ کو مسئلہ کشمیرخاص طورپر کشمیریوں پر مظالم سے آگاہ کریں۔ رکن پارلیمنٹ اور یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن امجدبشیرنے کہاکہ وہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے اپنی جدوجہدجاری رکھیں گے اور کشمیریوں کے حق کے حوالے سے کبھی سودابازی نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہاکہ انہیں بھارت جانے میں اس لئے روکاوٹ ہوئی کیونکہ وہ کشمیریوں کے حق کے متعلق بات کرتے ہیں۔ ایک اور رکن یورپی پارلیمنٹ جولی وارڈنے کہاکہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ کشمیریوں کو اس وقت مدد کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کے سابق سفیر انتھونی کرزنر نے کہاکہ دنیاکو کشمیریوں پر مظالم سے روکاجائے اور ان حق انہیں دلوایاجائے۔

تقریب سے کشمیرکونسل ای یو کے سینئررہنماء سردارصدیق نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کہاکہ کشمیری آزادی چاہتے ہیں اور حق خودارادیت سے کم کوئی چیز قابل قبول نہیں۔ انھوں نے کہاکہ خطے میں اس وقت تک امن اور خوشحالی نہیں آسکتی جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں ملتی۔آخر میں کشمیرکی آزادی کے لئے دعا کی گئی۔تقریب سے رکن برسلزپارلیمنٹ اندرے دی بوس اور سابق رکن برسلزپارلیمنٹ ڈینیال کارون نے بھی خطاب کیا۔

صدر آزادجموں وکشمیرسردار مسعود خان بلجیم کے تین دورے پرپیرکے روز یورپی ہیڈکوارٹر(بلجیم کے دارالحکومت) برسلز پہنچے ہیں۔وہ برسلزمیں اپنے تین روزہ قیام کے دوران یورپی پارلیمنٹ میں کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کریں گے اور یورپی حکا م سے مسئلہ کشمیرپر بات چیت کریں گے۔

Kashmir Council EU

Kashmir Council EU

Kashmir Council EU

Kashmir Council EU

Kashmir Council EUDinner AJK President

Kashmir Council EUDinner AJK President