سرمایہ دارانہ نظام کے فراڈ اور ان کے نتائج

Investment

Investment

تحریر : ڈاکٹر میاں احسان باری
صدر بی آف پی کے شیرز کی فروخت کے بعد شئیرز کی قیمتیں نادانستہ طور پر گرائی گئیںاور اس میں میاں منشاء کا بھرپور کردار نظر آتا ہے اور اس میں وہ کلی طورملوث ہیںسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی اور اسطرح لوگوں کے اربوں روپے ڈوب گئے مسلسل 72گھنٹوں تک سٹاک مارکیٹ کی نبض ڈوبی رہی اور مارکیٹ پر مردنی چھائی رہی خود میاں منشاء نے اربوں ڈالرز ان تین دنوں میں کما لیے کوئی ایکشن اس عمل پر نہ لیے جانے سے واضح ہوتا ہے کہ اس میں حکمرانوں بالخصوص وزارت خزانہ کا بھی بڑا حصہ ہوگابنک آف پنجاب کے شیرز میں انہوں نے اپنے شیرز 18روپے80پیسہ میں بیچے ہیں اس بات کا انکشاف سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں کیا گیا تو سبھی ششدر رہ گئے کہ اس طرح پاکستان کی معیشت کی نبض ڈوبتی رہی اور ایسا کرنا بڑے بنکوں کے مالکان کی صوابدید پر ہی ہوتا ہے کہ وہ جب چاہیں اپنے شیرز کی قیمت میں اتار چڑھائو پیدا کرکے سٹاک مارکیٹ کو کرچی کرچی کرڈالیں خودسیٹھ حبیب ودیگر بنکر اربوں کمالیں اور نچلے درجوں کے افراد اس سودی سرمایہ دارانہ نظام کی کشمکش میں غرق ہوتے رہیں یہودیوں کا ایجاد کردہ دنیا کا غلیظ ترین کافرانہ سودی سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا کی معیشتوں پر قابض ہے اور بڑے بڑے بنکرز اور بڑی بڑی کمپنیوں کے مالک نودولتیے اور سود خور سرمایہ دار کسی بھی ملک کی معیشتی گاڑی کو جس طرف چاہیں ہانک کر لے جائیں دنیا بھر کے بنک بھی اپنے حواری سرمایہ پرست اژدھوں ،سانپوںکوکم سود پر قرضے فراہم کرتے ہیں جب کہ دیگر چھوٹے چھوٹے سرمایہ دار سنپولیے بھی اس میں حصہ بقدر جسہ لے کرغرباء اور بھوکوں مرتے افراد کو مہنگائی کی چکیوں میں پیستے رہتے ہیں راقم آج ٹھیٹ الفاظ میں سودی نظام کی وضاحت کررہا ہے تاکہ اس پر اس نظام کے کسی سرپرست کو دلیلیں و وضاحتیں دینے کی جرأت ہی نہ ہو۔

فرض کریں آپ نے کسی بنک میں ایک لاکھ روپیہ ذاتی سرمایہ میں سے جمع کروایا ہے اور بنک نے آپ سے سالانہ دس فیصد منافع یا سود دینے کی ڈیل کرلی ہے کہ آپ نے جو رقم ایک لاکھ ایک سال قبل جمع کروائی ہے وہ اگلے سال کے شروع میں آپ بنک سے ایک لاکھ دس ہزار روپے لے سکتے ہیںاب بنک والے کسی کارخانہ دار کو ڈھونڈھ کر آپ کے ایک لاکھ روپے اسے نیا فرض محال برف کا کا رخانہ ہی سہی لگانے کے لیے دے دیںگے۔اور اسے پابند کردیں گے کہ آپ نے پندرہ فیصد کے حساب سے اگلا سال مکمل ہونے پر ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے جمع کروانے ہیںاس طرح آپ کا ایک لاکھ دس ہزارروپے دیکر انہیں پانچ ہزار روپے بچت ہو گی اب وہ سرمایہ دار تو پہلے ہی ایک برف کا کارخانہ اپنے سرمائے سے چلا رہا تھااوراسے 2روپے کلوبرف عوام کو بیچ کر اسے لاکھ پر پانچ ہزار روپے منافع مل رہا تھا جب اس نے بنک سے سود ی قرضہ لیاتو اسے سال بعد ایک لاکھ 15ہزار بنک میں واپس کرنے کے لیے اسے اب ایک لاکھ بیس ہزار کمانا ہوں گے تبھی وہ پانچ ہزار روپے کی بچت کرسکے گااس طرح اسے عوام کو دو روپے برف فی کلو کی جگہ اڑھائی تین روپے فی کلو بیچنا پڑے گی اگر کپڑے والے سرمایہ دار صنعتکار نے بھی ایسی رقم سودپر بنک سے لی ہو گی تو وہ بھی کپڑے کی قیمت فروخت بڑھانے پر مجبور ہے جس کا لا محالہ اثر عام خریداروں پر ہوگا۔

اس طرح سے بنکرز اور سود خور سرمایہ دار صنعتکاروں کی ملی بھگت سے غریب عوام انہیںبلاوجہ برف اور کپڑا خریدنے کے لیے زائد رقم دینے کے لیے مجبور ہیں جس شخص نے ایک لاکھ بنک کو دیکرواپس ایک لاکھ دس ہزار سال بعد لیے ہیںوہ بھی اسی مہنگائی کی زد میں آکر اس سودی رقوم کا کوئی فائدہ نہ اٹھاسکے گابنکر اور صنعتکار پانچ پانچ ہزار روپے کما لیں گے مگر پیسے جمع کروانے والا اور پورے ملک کے غریب خریدار کومہنگائی کی چکی کے پاٹوں میں پسنا پڑے گااس طرح غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جاتا ہے اسی لیے نبی اکرمۖ نے اپنی قوم کو غربت کی لعنت سے بچانے کے لیے سودی نظام کو حرام قرار دیا اور بیان ہوا ہے کہ سود پررقم لینے والے سودپر رقم دینے والے اور اس پلید نظام کے گواہ بننے والے اگر اپنی سگی ماں سے 69دفعہ زنا کرلیویں تو بھی سودی لین دین کا گناہ اس سے کہیں بڑا ہے واضح طور پر قران مجید میں آیا کہ سود ی کاروبار خدا اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کے مترادف ہے۔

اسلامی ممالک میں خصوصی طور پر یہ دنیا کاغلیظ ترین کافرانہ سودی نظام چلتا رہا تو ہم قعر مذلت میں اورغربت کے گڑھوں میں مزید گہرے گرتے چلے جائیں گے۔پاکستانی شریعت کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے سودی نظام کے خلاف فیصلہ دے ڈالا تھامگر سابقہ نواز شریف کی حکومت کے دور میںاس پر سپریم کورٹ میں نگرانی کی اپیل کرکے اس پر سٹے آرڈر( order Stay)حاصل کرلیا گیا تھا جس نے غالباً اسے دوبارہ شریعت کورٹ کو ریفر کردیا اس طرح سودی نظام اپنی ساری قبا حتوں کے باوجود جاری و ساری ہے بنکر اور صنعتکار دونوں غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہم سودی غلاظتوں کا لبادہ اوڑھے مہنگائی کی مزید قہر مانیوں کا شکار ہیں جتنی جلدی ہوسکے سودی نظام کو گہرا دفن کرکے اسلامی نظام معیشت کو اپناکر ہمیں غیر سودی بنکاری کا نظام اپنانا ہو گا وگرنہ ہم خدا کی رحمتوں سے بھی محروم رہیں گے اور ملکی معیشت کا پہیہ بھی صحیح ڈگر پر نہ چل سکے گاکہ سودی نظام اختیار کرتے ہوئے خدا اور اس کے رسول ۖ کے خلاف جنگ میں مبتلا قوم کیسے ترقی کرسگے گی؟وما علینا الا البلاغ۔

Dr Mian Ihsan Bari

Dr Mian Ihsan Bari

تحریر : ڈاکٹر میاں احسان باری