منگل مورخہ 13 مارچ 2018 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر 1 اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آباد میں منعقد ہوئی

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

اسلام آباد : منگل مورخہ 13 مارچ 2018 بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست مکان نمبر 1 اسٹریٹ 38،G6/2اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ ایجنڈے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں ڈاکٹر ساجد خاکوانی کا مضمون ” اسلامی اندلس میں معاشی و معاشرتی ترقی”پیش ہونا طے تھا۔ بزرگ اور معروف کالم نویس جناب میر افسر امان نے صدارت کی۔ادبی نشست کے آغاز میں محمود وسیم نے تلاوت کی ،جناب حبیب الرحمن چترالی نے مطالعہ حدیث پیش کیا اور ساجد عباس عباسی نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔

صدر مجلس کی اجازت سے جناب ڈاکٹرساجدخاکوانی نے اپنی تحریر پیش کی،تحریر میں اسلامی اندلس کے جملہ حالات تفصیل سے درج تھے۔تحریر پر گفتگو کا آغاز حبیب الرحمن چترالی نے کیااور کہاکہ اتنی شاندارتہذیب کے زوال کے اسباب بھی بتانے چاہیں تھے جبکہ صاحب تحریر نے اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا۔اس کے بعد پروفیسرآفتاب حیات نے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ دور صرف اسلامی اندلس میں ہی نہیں بلکہ کل اسلامی دنیامیں ایک شانداردور تھا،انہوں نے خاص طور پر اس زمانے کے بغدادکاذکر کیاجو مرقع تہذیب تھااور وہاں پر عباسیوں کی خلافت قائم تھی۔راجہ جاوید علی بھٹی نے تحریرکی تعریف کی اور کہاکہ بھارتی خفیہ ایجنسی نے اپناایک وفدخاص طور پر اسپین میں تھاتاکہ وہاں پرقائم عظیم الشان مسلم اقتدار کے اسباب زوال معلوم کیے جائیںاورپھران کی روشنی میں برصغیرکے مسلمانوں کو بھی زوال آشنا کیاجاسکے۔جناب شاکر علی نے کہاکہ جب قرطبہ میں اوردیگربلاد اسلامیہ میں بڑے بڑے محلات اور دیگر عمارتیں تیارہورہی تھیں اس وقت یورپ اپنے علاقوں میں جامعات اور تعلیمی ادارے قائم کرنے میں مصروف تھا چنانچہ تعلیمی ترقی نے یورپ کوسیاسی عروج عطاکیااور سامان تعیش میں مسلمانوں کو روبہ زوال کیا۔جناب محمداکرم نے کہا تہذیب و تمدن ان کی دلچسپی کاخاص موضوع ہے اسی لیے انہیں یہ تحریربہت پسند آئی ہے،انہوں نے کہامسلمانوں کی تہذیب خاص طورپر وحی کی تہذیب ہے اور جب تک مسلمان وحی کی تعلیمات کو تھامے رہے ان کا عروج قائم رہااورجب وحی کی تعلیمات کی بجائے دیگرمصادر و منابع کے پیچھے لگ گئے تب سے مسلمان زوال کاشکارہوگئے اور دنیاظلم سے بھرگئی۔جناب اعجازرانا نے تحریرسے متعلق چند بنیادی سوالات اٹھائے توصاحب تحریر نے ان کے تسلی بخش جوابات دے دیے۔علمی و تحقیقی گفتگوکے باعث بھاری بھرکم ماحول کو ہلکاپھکلاکرنے کے لیے بزرگ شاعر جناب عبدالرازق عاقل کو غزل سنانے کے لیے مدعوکیاگیاتوشرکاء نے ان کے کلام کو بہت پسند کیا۔

آخرمیں صدرمجلس جناب میرافسرامان نے اپنے صدارتی خطبے میں مضمون نگارکے اسلوب تحقیق کی تعریف کی اور کہاکہ ہم کشمیری لوگ اپنے خطے کو قدرتی حسن کے باعث جنت ارضی کہتے ہیں جبکہ اس مضمون سے معلوم ہوا کہ سرزمین اندلس بھی اپنی خوبصورتی اور حسن میں جنت ارضی ہی تھی۔صدر مجلس نے کہاکہ مسلمانوں نے کم و بیش ایک ہزار سال اس دنیامیں ازشرق تاغرب حکومت کی ہے اور یہ دور انسانیت کاسب سے قیمتی دورتھاجس دوران علمی و تہذیبی و ثقافتی بے پناہ ترقی ہوئی،جب کہ مسلمان اندلس بھی اسی زمانے کی بات ہے۔صدارتی خطبے کے بعد ادبی نشست ختم ہوگئی اور اگلے منگل کو انشااﷲ تعالی،23مارچ کے حوالے سے دوقومی نظریے پر تحریری سیمینار کااعلان کردیاگیا۔

House No 1, Street 38 G6/2, Islamabad(qalamcarwan@gmail.com)