حسد ہار گیا حسنِ سخاوت کی جھلک سے

Generosity

Generosity

تحریر: رشید احمد نعیم
یمن نامی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بہت رحم دل اور نیک بادشاہ تھا ۔اپنی رعایا کا خیال رکھتا تھا۔ سخاوت بھی کرتا تھا۔اس کے دروازے سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔سب لوگ بہت خوش تھے۔دن رات بادشاہ کے حق میں دعائیں کرتے تھے۔اسی ملک کے ایک قبیلے کا نام ”طے”تھا۔حاتم نامی ایک شخص اس قبیلے کا سردار تھا۔ اس لیے اسے حاتم طائی کہتے تھے۔حاتم طائی بھی بہت بہادر اور سخی انسان تھا۔مہمان نوازی میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔اگر کوئی مہمان آ جاتا تو حاتم خود بھوکا رہ کر بھی اس کو اچھا کھانا کھلاتا پلاتا اور اس کی خوب خدمت کرتا۔بادشاہ کے دربار میں کبھی حاتم طائی کا ذکر آتا تو لوگ دل کھول کر اس کی تعریف کرتے۔حاتم طائی کی تعریف سن کر بادشاہ پر فطری طور پر منفی اثر پڑتا۔

آہستہ آہستہ بادشاہ کے دل میں حسد پیدا ہونے لگا ۔اور بادشاہ حاتم طائی کی تعریف سن سن کر اس سے حسد کرنے لگا۔ایک بار بادشاہ نے شہزادے کی سالگرہ کا جشن منایا۔ملک بھر میں خوشی کے شادمیا نے بجائے گئے۔ رعایا کے لیے خزانے کا مُنہ کھول دیاگیا۔جشن کے دوران جب بادشاہ بہت خوش تھا اور بات بات پر قہقے لگا رہاتھا، کسی بات پر حاتم طائی کی سخاوت کا ذکرآ گیا۔لوگ بڑھ چڑھ کر اس کی تعریف کرنے لگے۔بادشاہ کو اس بات پر بہت غصہ آ گیا ۔اس نے سوچا،جب تک حاتم طائی زندہ ہے میں سخاوت میںاس سے نہیں بڑھ سکتا۔چنانچہ ایک دن بادشاہ نے تنہائی میں اپنے ایک انتہائی با اعتماد درباری کو بُلا کر کہا ” تم حاتم طائی کا سر کاٹ کر لائو تو میں تم کو مُنہ مانگا انعام دوں گا”بادشاہ کے حکم کی تعمیل کرنے کے لیے درباری روانہ ہو گیا۔۔

Hatim Tai

Hatim Tai

قبیلہ’ ‘طے”کے قریب اسے ایک شخص ملا۔ وہ اسے اپنے گھر لے گیا۔اس کی خوب خدمت کی۔اس قدر عمدہ خاطر مدارت کی کہ درباری بادشاہ کی دعوتیں بھول گیا۔دوسرے دن صبح سویرے درباری نے میزبان سے جانے کی اجازت چاہی تو اس نے کہا”مُجھے دو چار دن مزید خدمت کا موقع دیں” درباری بولا” میں آپ کے پاس چند دن اور ٹھہر تا مگر میں بادشاہ سلامت کے ایک خاص حکم پر عمل کرنے نکلا ہوں۔ اس لیے ٹھہر نہیں سکتالیکن سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ کامیابی کس طرح حاصل ہو گی’ ‘ میزبان نے کہا”بادشاہ سلامت نے آپ کو کیا حکم دیا ہے ، مُجھے بتائیے، ممکن ہے میں آپ کے کام آ سکوں”اب درباری نے کہا”اس بات کو راز میں رکھنا ضروری ہے” بادشاہ نے مُجھے حاتم کا سر لانے کو کہا ہے۔ اگر آپ یہ بتا دیں کہ حاتم کہاں مل سکتا ہے تو مُجھے بڑی سہولت ہو جائے گی”میزبان بولا”آپ کا کام تو پہلے ہی آسان ہو گیا ہے۔حاتم آپ کے سامنے ہی بیٹھا ہوا ہے۔

میں ہی حاتم ہوں۔میرا سر کاٹیے اور روشنی پھیلنے سے پہلے پہلے یہاں سے نکل جائیے۔یہ نہ ہو کہ میرے قبیلے کے لوگ آپ کو گرفتار کر لیں” درباری نے حاتم کی بات سُنی تو حیران رہ گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔وہ حاتم طائی کے قدموں میں گر پڑا اور بولا”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں آپ جیسے عظیم شخص کی جان لے لوں”وہ حاتم طائی سے رخصت ہوا اور جا کر بادشاہ کو سارا قصہ سنایا۔بادشاہ نے حاتم طائی کی مہمان نوازی اور سخاوت کا ماجرا سنا تو حیران رہ گیا اور بولا” میں حاتم طائی سے نہیں بڑھ سکتا۔بے شک وہ بڑا سخی اور عظیم انسان ہے۔اس کے بعد بادشاہ نے حسد کرنا چھوڑ دیا۔

Rasheed Ahmad Naeem

Rasheed Ahmad Naeem

تحریر: رشید احمد نعیم
سینئر ممبر کالمسٹ کونسل آف پاکستان،
صد ر الیکٹرونک میڈیا حبیب آباد پتوکی
03014033622