مسئلۂ بیت المقدس کا عملی حل اور ہمارے مطالبہ باز احتجاجی

Jerusalem

Jerusalem

تحریر : صادق رضا مصباحی
۶دسمبر کے دن بیت المقدس کو اسرائیل کی باقاعدہ سرکاری راجد ھانی تسلیم کیے جانے کے فیصلے سے مطالبات اور احتجاجی بیانات کا سلسلہ تھمنے کانام نہیں لے رہا ہے لیکن اگر آپ کے اندر حالات حاضرہ کا ذرا سا بھی ادراک ہے توآپ یقیناً میرے اس خیال کی تصدیق کریں گے کہ ان میں سے زیادہ تراحتجاجات اورمطالبات پروفیشنل ہیں جومحض ’’احساس ذمےداری ‘‘کے تحت کیے گئے ہیں اوربس ۔ڈونالڈٹرمپ کا تل ابیب سے یروشلم میںاسرائیلی راجدھانی منتقل کرنے کااعلان صرف علامتی ہے ورنہ واقعہ یہ ہے کہ فتح المقدس آج سے نہیں ۱۹۶۷سے اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ جو شہر نصف صدی سے اسرائیل کے قبضے میں ہو،اس کے خلاف نہ جانے کتنے احتجاج ہوئے مگرکیاکبھی امریکہ اوراسرائیل کے کانوںپرجوں بھی رینگی ؟کیاہمارے مطالبات پرعمل درآمدہوا؟اسرائیل ۱۹۴۸سے ہی ظلم وتشددکابازارگرم کیے ہوئے ہے ، دنیابھرمیں اس کے خلاف نہ جانے کتنی قراردادیں پاس کی جاچکی ہیںمگرعملاًکیاہوا؟اب جب اسے عملاًراجدھانی بنانے کا فیصلہ ہوہی چکاہے توہماراسوال یہ ہے کہ کیا مطالبات پرعمل ہوسکے گا؟جواب یقیناناں میں ہے اس لیے یقین کرلیجیے کہ جونصف صدی سے نہ ہواوہ اب بھی نہیں ہوگا،ہرگزنہیں ہوگا۔جناب عالی!خالی قراردادوں اورمطالبات سے آج تک کچھ ہواہے اورنہ ہوسکتاہے ۔شیخ چلی کے خواب مت دیکھیے ، ذراحقیقت کی دنیامیں آجائیے۔محض جذباتی نہ بنیے ،کچھ حکمت عملی بھی اپنائیے۔

یہ اس لیے کہاجارہاہے کہ ۱۳؍دسمبرکوترکی راجدھانی استنبول میں اوآئی سی یعنی’ آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ کے عالمی اجلاس میں۵۷مسلم ممالک کے سربراہوں نے یروشلم کومتفقہ طورپرامریکی فیصلے کے برخلاف فلسطین کی راجدھانی تسلیم کرلیاہے اوراس کااعلان بھی کردیاہے ۔مجھے اس تنظیم کے اخلاص پرشبہہ نہیں مگراس تنظیم نے آج تک سوائے قراردادپاس کرنے کے کبھی کچھ کیابھی ہے؟کربھی کیسے سکتی ہے کہ اس کےسارے ممبران یاتوامریکی مفادات کے غلام ہیں یاوہ اتنے بونے ہیں کہ امریکہ کے ہمالیائی قدسے خوف کھاتے ہیںاس لیے وہ کچھ کرنے کی ہی پوزیشن میں نہیں ہیںاس لیے بے چارے کیا کریں گے صرف قرارداد ہی پاس کرکے اپنے ’’جوش ایمانی ‘‘کامظاہرہ کریں گے اورہمارے معاشرے کے کورفہم لوگ اس کوبہت بڑی کامیابی قراردیں گے ۔واقعہ یہ ہے کہ قراردادیں،مطالبے اوردھرنے دراصل انہی ’’کورفہموں‘‘ کی تسکین کے لیے ہوتے ہیںکیوں کہ مطالبہ بازوں کوہرحال میں عوامی رائے کاخیال رکھناپڑتاہے ۔عرب ممالک سمیت غیرمسلم ممالک کی جانب سے جوبھی احتجاجی بیانات میڈیامیں آئے ہیںوہ سب اسی ذیل میں آتےہیں البتہ ترکی کے مرددانارجب طیب اردوگان نے ضرورجراءت ایمانی کاثبوت دیتے ہوئے اوآئی سی کی کانفرنس کرنے کافیصلہ کیااورنہایت جراءت مندانہ موقف اختیار کیا۔

اس سے کیاہوگا؟مطمئن ہوکربیٹھ جائیے ، اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا۔یہ اعلان محض علامتی ہے اوررسمی کیو ںکہ ذرامجھے بتائیے کہ ان ۵۷ممالک میں سے کتنے ملک ہیں جنہوںنےامریکہ اور اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کردیے ہیں ؟ اور اگر اب تک نہیں کیے تھے تواس ظالمانہ فیصلے کے بعدکتنوںنے ان دونوں ظالم ملکوں سے اپنے اپنے سفراواپس بلائے ہیں؟توپھر کانفرنس میں یہ منافقت کیوں؟ہم اس کانفرنس کی کامیابی اسی وقت تسلیم کریں گے جب یہ تمام ممالک اپنے اپنے سفراواپس بلالیں گے ۔مگرکیاایساہوجائے گا؟ایں خیال است ومحال است وجنوں۔ ترکی کے مرددانا کے جذبہ ایمانی کوسلام کرناہوگا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اسٹینڈلے کرحدیث نبوی کے ٹکڑے ذالک اضعف الایمان کے زمرے میں ضرورشامل ہوگئے مگر دوسرے سربراہانِ مملکت پر امریکی مفادات اس قدرسوارتھے کہ وہ اپنے اندرایمان کایہ کمزوردرجہ بھی پیداکرنے میں ناکام رہے ۔آپ اس سے اندازہ لگالیجیے کہ جوکچھ بھی ہورہاہے سب پروفیشنل انداز میں ہورہاہے اورسب کومعلوم ہے کہ اس کانتیجہ صرف اورصرف زیروہے۔ہمارے برصغیرمیں احتجاج کرنے والے دوسرے ممالک کی بنسبت کچھ زیادہ ہی پائے جاتےہیں ،یہا ںایسے مواقع پرامریکی اور اسرائیلی جھنڈوں کوروندنا،پرچم نذر آتش کرنا،میمورنڈم دینااوراخبارات میں چھپوانے کاشوق پالناایک عام بات ہے۔

اگردھرنابازوں کوحقیقت حال سے ذرابھی آگہی ہوتی توایسے کاموں کے لیے اس قدر جذباتی نہ ہوتے بلکہ شایدکوئی دوسرا طریقۂ کاراپناتے۔یہاں کوئی مجھ سے پوچھ سکتاہے کہ پھراس مسئلے کاحل کیاہے ،کیااس فیصلے کویوں ہی قبول کرلیاجائے ؟ایک بات توطے ہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے حکمراں کی طرف سے آیاہے جونہایت جنونی ہے ،دوسری بات یہ کہ نصف صدی سے عملاًبیت المقدس اسرائیل ہی کے قبضے میں ہے۔بیت المقدس میں اگرکسی کونمازبھی پڑھنی ہوتی ہےتواس کے لیے اسرائیلی فوج کی اجازت درکارہوتی ہے۔ ہم ۱۹۴۸سے لے کراب تک فلسطینیوںپراسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج ہی کرتے رہےہیں اورفلسطین کے پڑوسی ممالک نے بھی سوائے احتجاج کے کچھ اورنہیں کیاہے ۔اگرکچھ کیا ہوتاتوآج فلسطین کا منظرنامہ کچھ اورہوتااورامریکہ یوں فرعونیت کامظاہرہ نہ کرپاتا۔ہمارے ان احتجاجات کاایک فائدہ البتہ ہوسکتاہے کہ ہم اس فیصلےپرامریکہ اوراسرائیل سے چندشرائط منوالیں کہ اب فلسطینیوں کےساتھ اسرائیل کی پالیسیاں کیاہوں گی ۔کیاوہ اسی طرح ظلم کی چکی چلاکر فلسطینیوں کالہونکالتارہے گا؟یاصدیوں سے یہودیوں کے دماغو ںسے چِپکی خواہش کے عملی نفاذکے بعد وہ فلسطین پرظلم وجبرکرنابندکردے گا؟ ممکن ہے ہمارے اتنے زبردست احتجاجات کے نتیجے میں امریکہ اوراسرائیل ایسی کچھ شرائط پرراضی ہوجائیں جوہمارے فلسطینی بھائیوں کے حق میں ہوںاورکچھ شمع امید نظرآئے۔ویسے ہٹ دھرم یہودیوں سے کسی بھی چیزکی توقع فضول ہے مگرکوشش کرنے میں کیاجاتاہے ۔یہاں ایک بات یہ بھی یادرکھیے کہ فلسطینیوں کے لیے اگرکوئی ملک کچھ کرسکتاہے توہ سعودی عرب ہے مگرکیاسعودی عرب اپنی ذمے داری ادا کرے گا؟جواب میں ہاں یاناں کہنے کااختیارآپ کے پاس ہےکیوںکہ اتنی توسمجھ آپ کے پاس بھی ہے۔

Sadiq Raza

Sadiq Raza

تحریر : صادق رضا مصباحی
موبائل نمبر:09619034199