میرے ہم وطنوں

Election

Election

تحریر : شیخ توصیف حسین
گزشتہ روز میں اپنے صحافتی فرائض کی ادائیگی کے بعد تھکاوٹ سے چور ہو کر گھر پہنچا اور کھا نا کھانے کے بعد نیند کی آ غوش میں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ ایک سیاست دان جو علاقے کی غریب عوام سے جابر آنہ اور تکبرانہ انداز میں گفتگو کرنے کا عادی تھا بڑے معصومانہ انداز میں ایک مجمع جس میں اُس کے بریانی کھانے والے خوشامدی جن کا کام صرف اور صرف جلسے جلوسوں میں اپنے ان داتا کے حق میں نعرے بازی کرنا ہوتا ہے بھی شامل تھے سے مخا طب ہو کر کہہ رہا تھا کہ میرے ہم وطنوں بھائیوں اور بزرگوں خداوند کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں 2013کے الیکشن میں جیتنے کے بعد سکتے جیسی موذی مرض میں مبتلا ہو کر عرصہ پانچ سال تک نہ صرف آپ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہا بلکہ آپ سے کیے ہوئے وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا نے سے بھی قاصر رہا لیکن اب میں آپ کی دعائوں سے اور بالخصوص خداوندکریم کے فضل و کرم سے 2018کے الیکشن کے لڑنے کیلئے مکمل طور پر تندرست ہو کر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا ہوں۔

میرے ہم وطنوں بھائیوں اور بزرگوں آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں نے جو پچھلے الیکشن میں آپ سے وعدے کیے تھے وہ میں سب کے سب بھول چکا ہوں ایسا ہر گز ہر گز نہیں وہ سب کے سب مجھے یاد ہیں بلکہ اب میں ایک جوش و جذبے کے ساتھ پرانے و نئے وعدے نبھانے کیلئے حاضر ہوا ہوں میرے ہم وطنوں بھائیوں اور بزرگوں یہ مجھے بخوبی علم ہے کہ میرے ضلع کی تمام کی تمام سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں تو آج میں آپ کو ایک نئی خو شخبری سنانا چاہتا ہوں کہ اگر فرہاد ایک عورت کے عشق میں دودھ کی نہر نکال سکتا ہے تو میں آپ کیلئے سونے چاندی کی نہ سہی کارپٹ سڑکیں تو بنوا سکتا ہوں جو میں انشاء اللہ تعالی 2018کا الیکشن جیت کر ضرور بر ضرور بنوا دوں گا اور ہاں مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میرے ضلع میں بجلی اور سوئی گیس کی غیر اعلا نیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بارہ سے چودہ گھنٹے تک آئے روز جاری رہتا ہے تو میں آپ کو یقین دلواتا ہوں کہ میں اس کے خاتمے کیلئے قومی اسمبلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا چونکہ بجلی اور سوئی گیس کی بندش کے نتیجہ میں کاروباری زندگی معطل جبکہ طلباء و طالبات بزرگ و لاغر افراد کے علاوہ گھریلو صارفین اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہو کر رہ گئے ہیں۔

ہاں ہاں مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میرے ضلع میں تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ بے روز گاری کا شکار ہو کر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے لیکن کیا کروں کہ میں کسی ایک تعلیم یا فتہ نوجوان کو محض اس لیئے نوکری دلوانے میں قاصر رہا چونکہ میں عرصہ پانچ سال تک سکتے جیسے موذی مرض میں مبتلا رہا اور ہاں مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میرے ضلع کا سیوریج نظام مکمل طور پر تباہ و بر باد ہو کر رہ گیا ہے جس کے نتیجہ میں بد بو دار پا نی بازاروں محلوں اور گلیوں میں جمع ہو کر مختلف موذی امراض پھیلا رہا ہے جس کی زد میں آ کر نجانے کتنے گھروں کے چراغ گل ہو چکے ہیں۔

افسوس صد افسوس کہ میں گزشتہ پانچ سالوں میں اُن کے ورثا کو افسوس کر نے سے بھی قاصر رہا محض اپنے سکتے کی بیماری کی وجہ سے مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہاں سے کراچی جانے والی ریل گاڑی کو حکومت پاکستان نے بند کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں یہاں کی غریب عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے تو آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق جو کہ میرا ہم پیالہ اور ہم نوالہ دوست ہے سے کہہ کر راولپنڈی پشاور لاہور اور کراچی کیلئے خصوصی ٹرینیں چلوائوں گا یہاں پر میں آپ لوگوں کے بچوں اور بچیوں کیلئے یونیورسٹی بنائوں گا جہاں پر سے وہ اعلی تعلیم حاصل کر کے نہ صرف ملک وقوم بلکہ آپ کا نام روشن کرے گے میرے ہم وطنوں بھائیوں اور بزرگوں مجھے یہ معلوم ہے کہ یہاں کے ریلوے اسٹیشن عرصہ دراز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بھوت بنگلہ کی شکل اختیار کر چکے ہیں جس کے نتیجہ میں میرے غریب بہن بھائی نہ صرف مسافر خا نے سے محروم ہیں بلکہ لیٹرینوں اور پانی کی سہولت سے محروم ہو کر بے بسی اور لا چارگی کی تصویر بن کر نہ صرف مجھے بلکہ ہر دور کی حکومت کو بد دعائیں دینے میں مصروف عمل ہیں لیکن میں کیا کروں اپنے سکتے کی بیماری کی وجہ سے کچھ کرنے سے ہمیشہ قاصر رہا میرے ہم وطنوں بھائیوں اور بزرگوں میرے سیاسی مخالفین کا خیال ہے کہ میں اپنے دور اقتدار میں جتنے بھی تعمیراتی فنڈز حکومت پاکستان سے وصول کرتا رہا از خود ہڑپ کر گیا ہوں تو آج میں آپ لوگوں کو آگاہ کر دینا چاہتا ہوں کہ مجھے جتنے بھی تعمیراتی کاموں کی مد میں فنڈز ملے میں نے انھیں سرکاری خزانے میں جمع کروا دیا جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اگر مذکورہ فنڈز میں از خود ہڑپ کر گیا ہوتا تو آج پانامہ کیس میں میرا نام بھی ہوتا میرے بھائیوں اور بزرگوں آج میں آپ کو بہت بڑی خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے ساتھ سیاست میں اپنے بھائیوں اور اپنے بزرگ کو بھی شامل کر لیا ہے کہ وہ آپ کی رہی سہی کسر کو پورا کر نے میں اپنا اہم کردار ادا کرے گے جس سے آپ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غموں اور اور پریشانیوں سے آزاد ہو کر رہ جائو گے جس کا معنی ہے کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی۔

بانسری تو میرے بھائیوں اور بزرگوں تو یہ سب کچھ اُس وقت ہو گا کہ جب تم ووٹ دیکر مجھے 2018 کے الیکشن میں کامیابی سے ہمکنار کروا کر قومی و صوبائی اسمبلی میں پہنچائو گے اور ہاں کسی بھائی یا بزرگ نے مجھ سے اگر کوئی سوال کرنا ہے تو بے شک یہاں میرے پاس آ کر بھرے مجمع میں کر سکتا ہے یہ سن کر ایک بزرگ بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ اُٹھا اور مجمع کی طرف مخا طب ہو کر کہنے لگا کہ میرے غریب اور بے بس ہم وطنوں آج میں آپ کو ایک کہاوت سنا رہا ہوں کہ کسی ایک دیہات میں ایک کتا کنواں میں گر گیا جس کی بد بو کی وجہ سے کنواں کے گردونواح کے رہائشی متاثر ہوئے اور کنواں کے اردگرد جمع ہو کر سوچنے لگے کہ اس کتے کی بد بو کو کیسے ختم کیا جائے تو اسی دوران ایک شخص نے اُن کو مشورہ دیا کہ کنواں کے سارے کے سارے پانی کو نکال کر ضائع کر دیا جائے تو بد بو از خود ختم ہو جائے گی۔

بس اسی سوچ کے مطابق مذکورہ افراد تقریبا ایک ماہ تک کنواں کا پانی نکالتے رہے لیکن بد بو کو ختم کرنے میں قاصر رہے یہ سلسلہ ابھی جاری تھا کہ اسی دوران ایک سمجھ دار شخص وہاں آ پہنچا اور اُس نے مذکورہ افراد کو کہا کہ جب تک تم لوگ اس مرے ہوئے کتے کو کنواں سے نکال نہیں لیتے یہ بد بو کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا قصہ مختصر کہ مذکورہ افراد نے فوری طور پر مرے ہوئے کتے کو کنواں سے نکال کر دور پھینک دیا تب بدبو کا سلسلہ بند ہوا تو میرے ہم وطنوں بالکل اسی طرح جب تک تم ان عیار مکار اور غاصب مفاد پرست سیاست دانوں کو جو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ڈریکولا کا روپ دھار کر غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں کو نکال باہر نہیں پھینکتے تب تک نہ تم خوشحال ہو سکتے ہواور نہ ہی تمھارا ملک غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔

پگھل ہی جائے گی بالآ خر ایک دن یہ ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی زنجیریں
میں تو بے رحم وقت کی تقدیر کو بدلنے کیلئے چلا ہوں

Sheikh Tauseef Hussain

Sheikh Tauseef Hussain

تحریر : شیخ توصیف حسین