بتانِ وہم و گماں

Judiciary

Judiciary

تحریر : طارق حسین بٹ شان

عدلیہ کسی بھی ریاست کا سب سے محترم ادارہ تصور ہوتا ہے کیونکہ وہ سب کیلئے بلا رنگ و نسل ،مذہب، زبان اور قبیلہ عدل کرنے کا پابند ہو تا ہے۔اس کی نظر میں طاقتور اور کمزور میں کوئی فرق نہیں ہوتا کیونکہ اس کی نظر قانون کی حقیقی حکمرانی پر ہوتی ہے۔وہ مدارج کی بجائے برابری کا علمبردار ہو تا ہے ۔ایک صاحبِ ایمان،نڈر اور سچا منصف نہ توکسی سے خائف ہوتا ہے اور نہ ہی کسی سے متاثر ہو تا ہے کیونکہ خوف اور لالچ کا پنپنا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہو تا ہے ۔منصف کی عدالت میں حاکم و محکوم سب کو پیش ہونا ہو تا ہے اس لئے منصف کی نگاہ قانون کی روح میں اٹکی رہتی ہے۔وہ قانون کی طاقت سے خود میں توانائی حاصل کرتا ہے اور اپنے منصفانہ فیصلوں سے سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے ۔ انصاف کا تقا ضہ ہوتاہے کہ وہ امیر اور غریب میں امتیاز کی کوئی لکیر نہ کھینچے بلکہ ننگے پائوں والوں کو زیادہ اہمیت دے کیونکہ وہ معاشرے کے ستم رسیدہ لوگ ہوتے ہیں اور معاشرے نے ان کا بے رحمانہ استحصال کیا ہوتا ہے ۔ایسے بے خانماں لوگوں کے پاس عدلیہ کے سوا کوئی ایسا در نہیں ہوتا جو ان پر روا رکھے گے ظلم و جبر اور نا انصافی کا مداوا کر سکے 0ملک کی اشرافیہ اور با اثر افراد پہلے ہی خستہ خال لوگوں کا جینا دوبھر کئے ہوتے ہیں اور ان کی املاک اور جائدادوں پر قابض ہو چکے ہوتے ہیں لہذا عدلیہ ہی ان کی شنوائی کی آخری امید ہوتی ہے۔

عدلیہ کیلئے امید کے شعلہ کو اپنے انصاف کی ہوا سے قائم رکھنا سب سے کٹھن کام ہو تا ہے اور ایک اعلی پائے کا منصف اس امید کو نہ صرف زندہ رکھتاہے بلکہ ظالم کی کلائی مروڑ کر کمزور کو اس کا حق بھی واپس دلاتا ہے ۔ اشرافیہ اور حکومت کی جانب سے عدلیہ پر بے شمار دبائو ہو تا ہے۔ وہ اسے ڈراتی دھمکاتی بھی ہے لہذاہر طرح کے دبائو سے خود کو آزاد رکھ کر فیصلہ کرنا بڑا جان جوکھوں کا کام ہو تا ہے۔تنے ہوئے رسے پر چلنا آسان کام نہیں ہوتا لیکن جس منصف میں ایمان کی دولت ہو گی، علم کی روشنی ہو گی، قانون سے محبت ہو گی،انصاف کی لگن ہو گی تنے ہوئے رسے پر وہی چل سکے گا ۔ ذاتی مفاد کے اسیر عد ل و انصاف کی میزان کو کبھی قائم نہیں رکھ سکتے اور شائد یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں عدلیہ کی تاریخ قابلِ فخر نہیں رہی بلکہ یہ جبری اور من پسند فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔

ہماری عدالتی تاریخ اتنی شاندار نہیں جس پر فخر کیا جا سکے کیونکہ طالع آزمائوں نے بندوق کے زور پرمن پسند فیصلے حاصل کر کے اس کی شہرت کو شدیدگزند پہنچائی ہے لیکن اس کے باوجود ایسے منصفوں کی بھی کمی نہیں ہے جو کسی دبائو کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ سارے فیصلے اپنے ضمیر کے مطابق کرتے ہیں۔ذات پات کی تقسیم اور نمود ونمائش سے آلودہ معاشرے میں عدل و انصاف کو قائم رکھنا انتہائی مشکل کام ہو تا ہے کیونکہ ہر کوئی اپنے حق میں فیصلہ سننے کا منتظر ہو تا ہے۔جہاں سچائی کو سچائی سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا استحقاق سمجھ کر مقدمہ دائر کیا جا تا ہواور اپنی جیت کی خاطر جا ئز و ناجائز حربے بروئے کار لائے جاتے ہوں وہاں پر میزانِ عدل کو متوازن رکھنا جوئے شیر لانے کے متراف ہو تاہے ۔لیکن با ہمت منصف اپنے من کی روشنی سے میزانِ عدل کو ڈولنے نہیں دیتا ۔وہ بھیڑ یوں کے جھرمٹ میں میزانِ عدل کو سیدھا رکھ کر عدل کی حکمرانی کو یقینی بنا تا ہے جس پر اسے دا دو تحسین سے نواز ا جانا چائیے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ دادو تحسین کے سارے پھول فوج کی جھولی میں ڈال دئے جاتے ہیں ۔شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ فوج کسی بھی قوم کا سب سے محبوب ادارہ ہوتاہے کیونکہ اس سے ملک کا استحکام ،قومی یکجہتی اور اس کی بقا وابستہ ہوتی ہے ۔دھرتی کو دشمن کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھنا اس کا بنیادی فریضہ ہوتا ہے جبکہ دنیا کی تسخیر اور دوسری قوموں پر اپنی دھاک بٹھانے کا سب سے موثر ہتھیاربھی فوج ہی ہوتی ہے۔،۔

مضبوط فوج مضبوط کسی بھی ریاست کے استحکام کی ضمانت تصور کی جاتی ہے شائد یہی وجہ ہے کہ پو رے کرہِ ارض پر دفاع کی مد میں خرچ کئے جانے والا بجٹ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔بھارت اور پاکستان ازلی دشمن ہونے کے ناطے اپنے دفاع پر زرِ کثیر خرچ کرتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن وہ جن کا کوئی دشمن نہیں ان کا بجٹ بھی اسی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔امریکہ ، روس ، چین ، برطانیہ ،فرانس،سعودی عرب،اسرا ئیل،شام،مصر ، عراق اور ایران بھی قومی دولت کاکثیر سرمایہ دفاعی بجٹ پر خرچ کرنے والے ممالک میں شمار ہو تے ہیں۔اس بات کا ادراک حکمرانوں کو بھی ہوتا ہے کہ وہ بجٹ کا کثیر حصہ دفاع کی نذر کر دیتے ہیں جس سے عوامی خوشخالی اور ترقی کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے لیکن عالمی تناظر میں ایسا کرنا ناگزیر ہو تا ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے ملک کی سلامتی اور استحکام خطروں کی نذر ہو سکتاہے۔پاکستان میںدھشت گردی کی فضا نے پاکستانی ریاست کو جس طرح سے ے بس کیا ہو اہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

دھشت گردوں سے دھرتی کو پاک کرنے کیلئے پاک فوج کے جوانوں کی قربانیاںتاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں ۔ اپنی جان کو اپنی دھرتی کی خاطر قربان کرنا غیر معمولی جرات کا متقاضی ہو تا ہے اور پاک فوج کے جوان اس طرح کی جرات کے مظاہرے آئے دن کرتے رہتے ہیں ۔جیسا کہ میں نے اس کالم کے شروع میں لکھا ہے کہ عدلیہ کسی بھی ریاست کا سب سے محترم اداراہ ہوتا ہے لیکن شاعروں اور ادیبوں نے ہمیشہ فوجی جوانوں کی محبت میں گیت لکھے ہیں ۔ان کی جراتوں کو سراہا ہے اور ان کی ہمتوں کو سلام پیش کیاہے حالانکہ غیر جاندار عدلیہ بھی اس کی مستحق ہوتی ہے کہ اس کی عظمت کے گن گائے جائیں لیکن ایسا نہیں ہوتا کیونکہ جان کا نذرانہ صرف فوجی دیتا ہے۔طالع آزمائی اور فوجی شب خون کے غیر آئینی فعل کو سرِ دست ایک طرف رکھتے ہوئے مجھے کہنے دیجئے کہ کبھی کبھی فوج کی قربانیوں کے ایسے ایسے مناظر نظر سے گزر جاتے ہیں کہ انسان کیلئے خود پر ضبط کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔کم عمر فوجی جوانوں کے تابوت جب ٹیلیو یژن سکرین پر دیکھتے ہیں تو آنسوئوں کو ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔شہید کے کمسن بچے،جوان بیوہ ،بوڑھے والدین کودیکھ کر کلیجہ منہ کو آ تا ہے۔جب دھرتی اپنی ذات سے زیادہ مقدم ہو جائے تو ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔دھرتی سدا لہو کا نذرانہ مانگتی ہے اور لہو کا نذرانہ صرف دل والے ہی دیا کرتے ہیں۔

انھوں نے بھی تو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے خواب سجائے ہوتے ہیں لیکن وہ سارے خواب وطن کی سالمیت کے سامنے ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ملک کی حفاطت کی خاطر لڑتے وقت نہ تو بچوں کی محبت دامن کھینچتی ہے اور نہ ہی بیوی کی الفت سدِ راہ ہوتی ہے ۔ بوڑھے والدین اور بہن بھائی بھی غیر اہم ہو جاتے ہیں کیو نکہ اس وقت سوال دھرتی ماں کاہوتا ہے اور دھرتی ماں اس وقت جان کو ہتھیلی پر رکھنے کا تقاضہ کر رہی ہوتی ہے۔اس لمحے دوست چھوٹ جاتے ہیں،ساتھی پیچھے رہ جاتے ہیں، سارے رشتے ناطے دم توڑ جاتے ہیں جبکہ وطن کی محبت پورے وجود میں سما جاتی ہے تب ایک سچے جانباز کی منزل صرف شہادت قرار پاتی ہے ۔ نفسا نفسی کے اس دور میں جہاں ما ل و دولت اور عیش و عشرت کی زندگی ہر انسان کی پہلی ترجیح بنی ہوئی ہے اور جن کی خاطر آج کا انسان اپنے اصولوں اور ادرشوں کو بڑی بے رحمی سے پامال کر رہا ہے کرنل سہیل عابد کی اپنی دھرتی ، اپنے ہم وطنوں،ان کے امن ،ان کی سلامتی اور بقا کی خاطر جان کی قربانی مجھ جیسے لوگوں میں جینے کی امنگ پیدا کر دیتی ہے۔اس کی لازوال قربانی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ انسانیت ابھی بانجھ نہیں ہوئی۔اہلِ دل اب بھی موجود ہیں، جان لٹانے والے اب بھی موجود ہیں ، اصولوں کا علم بلند کرنے والے اب بھی موجود ہیں اور وطن کی شمع کو اپنے لہو سے روشن رکھنے والے باجرات انسان اب بھی موجود ہیں۔جن کی نظر میں دھرتی کی حفاظت ان کی اپنی اولاد کی خوشیوں سے کہیں بڑی ہوتی ہیں پھولوں کے ہار صرف انہی کو سجتے ہیں۔علامہ اقبال نے شائد ایسے ہی لازوال لمحوں کیلئے کہا تھا کہ ۔،۔
یہ مال و دولتِ دنیا یہ رشتہِ پیوند ۔۔۔۔۔۔ بتانِ وہم و گماں لا ا لہ اللہ ۔،۔

Tariq Hussain Butt Shan

Tariq Hussain Butt Shan

تحریر : طارق حسین بٹ شان
(چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال