اب جواب دو زرداری جواب دو

 Khawaja Saad Rafique

Khawaja Saad Rafique

تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم
لیجئے! وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے تو بڑی سادگی سے حقائق پر مبنی یہ بات ’زرداری کی حکمرانی نے شہر قائد کو اُجاڑ ڈالا“ ایک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہہ کر کراچی کی کمسپرسی اور کھنڈر حالی کا منہ بولتا ثبوت پیش کر کے مقدمہ لڑ لیا ہے۔

اَب خواجہ سعدر فیق کی اِس بات کا جواب دوزرداری جواب دو،آج عرس البلاد کراچی اور تمہارے سندھ کے عوام تم سے جواب مانگتے ہیں تمہیں اِس کا جوا ب ضرور دینا ہوگا ورنہ اگلے الیکشن میں تین صوبوں سے تو پہلے ہی تمہاری وجہ سے پی پی پی کوکامیا بی کے چانس کم ہیں مگراَب خواجہ سعد رفیق کی اِس بات کی وجہ سے تمہارے سندھ سے بھی تمہاری ناکا می تمہارا مقدر ہوگی۔

اِس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ دنیا کے بارہویں انٹرنیشنل شہرقا ئد عروس البلاد کراچی کی کھنڈرحالی کسمپرسی اور بحالت کچراکنڈی سے متعلق وفاقی وزیرریلوے سعدرفیق نے جتنا کہاہے وہ حق اورسچ ہے اَب اِسے زرداری اور بلاول اور پی پی پی کی سندھ حکومت کے ذمہ داران نہ ما نیں مگر اِس سے عوام ضرور واقف ہیں کہ سعد رفیق نے حقائق سے بڑی سادگی سے پردہ اُٹھا دیا ہے۔

خبر ہے کہ پچھلے دِنوں وفاقی وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کراچی آئے اور وہ جب ائیر پورٹ سے شاہراہ فیصل سے گزرے تو اُنہوں نے سڑک کے اطراف میںگندگی اور غلاظت اور ملبے کے لگے انبار دیکھے تو اُنہوں نے ایک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرکہا کہ کچھ دیر پہلے کراچی آمد ہوئی ہے آصف علی زرداری کی حکمرا نی نے شہرقائد کو اُجاڑڈالاہے افسوس ہے کہ کراچی کو سنبھالنے کی بجا ئے پیشہ ور مجرموں کے رحم وکرم پر چھوڑرکھاہے،شاہراہ فیصل سے گزرتے ہوئے ہر طرف غلاظت اور ملبے کے ڈھیرنظر آرہے ہیں عروس البلاد کراچی ملبے اورکچرے سے اٹاپڑاہے، زرداری صاحب! آپکی حکمرانی نے شہرقا ئد کو اُجاڑڈالا، افسوس ہے کہ اِسے سنبھالنے کی بجائے پیشہ ور مجرموں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھاہے“ اَب کیا مسٹرزرداری !سعدرفیق کی حقائق پر مبنی بات کا شہرقائد کو فی الفولاہور سے بھی زیادہ صاف سُتھرااور جدیدشہر بنا کرجواب دیں گے یاکراچی کا سارا ترقیاتی بجٹ اگلے انتخابات میں اپنی کا میا بی کو یقینی بنا نے کے لئے ہارس ٹریڈنگ میں لگا ڈالیں گے جیسا کہ ممکن ہے لگا بھی دیا ہواور کنی کٹا کر اِدھر اُدھر بغلیںجھانکنے میںہی اپنی عافیت جا نیں گے۔

اِس سے آپ سب بھی متفق ہیں کہ اِن دِنوںمملکتِ خداداد پاکستان میں متوقعہ الیکشن 2018ءقریب ترہیں تب ہی آج کل مُلک بھر میں سیاستدانوں کے درمیان بیان بازی کا بازار گرم ہے اور اداروں کی توہین کرنے سے لے کر سیاسی اشخاص کے ذاتی اور سیاسی کردار کشی کا سلسلہ ثواب ِ دارین سمجھ کر جاری و ساری ہے اِس بہتی گنگا میں سب سبقت لے جا نا چاہتے ہیں اِسی لئے سیاستدانوں نے اخلاقیات کی متعین کردہ حدود کو بھی ایک طرف رکھ دیاہے حکومتی جماعت تو اِس حوالے سے یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ یہ عدلیہ اور سیکیورٹی کے اداروں کی عوامی اجتماعات اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر کردارکشی کرکے اگلے الیکشن میں اپنی کا میابی کا پکا ارادہ اورخام خیال بنا چکی ہے جبکہ اپوزیشن بھی اِس حوالے سے بظاہر کھل کر تو نہیں مگر اکثر و بیشتر یہ بھی عدلیہ اور سیکیورٹی کے اداروں کی برا ئی اور تنقیدوں کی بھر پوری حامی ضرور دکھا ئی دیتی ہے الغرض یہ کہ اِن دِنوں برسرِاقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کی جیت کے لئے سیاسی چالیں ایک سی محسوس ہورہی ہیںمگر افسوس ہے کہ اپنی اِس روش پر قا ئم رہنے کی وجہ سے برسراقتدار اور اپوزیشن جما عتیںپریشان حال عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں بُری طرح ناکام ہو گئیں ہیں۔

ہمیشہ سے ہی ہرزمارے کی تاریخ گواہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن لازم و ملزم رہی ہیں اور دودنوں ایک سکے کے دورخ ہیں مگر اکثر حکومتی امور کے معاملات کو مُلکی اور عوا می فلاح و بہبود کے منصوبوں میں آئینہ اپوزیشن ہی دکھاتی ہے اور اگر یہی عمل خالصتاََ نیک نیتی کی بنیاد پر ہو تو اپوزیشن حکومت سے زیادہ اپنے ملک اور عوام کے لئے کام کرتی ہے مگر بدقسمتی سے مملکتِ پاکستان میں نہ حکومت ہی مُلک اور عوام کے ساتھ مخلص دکھا ئی دیتی ہے اور نہ ہی اپوزیشن اپنا ویسا مثبت اور تعمیری کردار ادا کررہی ہے جیسا اِسے کرنا چاہیئے یعنی کہ آج جو برسراقتدار میں ہے اُسے کسی نہ کسی طرح اپوزیشن اور عدلیہ اور فوج جیسے اداروں کو شدید ترین تنقیدوں کا نشانہ اور اِن کی توہین کرکے اقتداکی سیج پر سکون مل رہاہے اور جو ہمارے یہاں اپوزیشن کی بینچ پر بیٹھی جماعتیں ہیں وہ حزب اختلاف کے مزے اپنے انداز سے لوٹ رہی ہیں گو کہ سب کاکسی نہ کسی طرح اپنااپنا دال دالیہ چل رہاہے،کو ئی کسی کے شہر میںآکر اِس کے عوامی مسائل اجاگر کررہاہے تو کوئی مسائل سا منے آنے پر بھی قومی خزا نے سے رقم نہیں دے رہاہے اِن کی آپس کی اِس کھینچا تا نی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھا نے کی سیاسی لڑا ئی میں کسی کو بھلا کیا پڑی ہے کہ وہ مُلک اور عوام کے لئے بھی کچھ بہتری کا سوچیںاور جمہور اور جمہوریت کے ثمرات اِن کی جھولی سے عوام الناس تک بھی پہنچیں اور عوام بھی زیادہ نہیں تو تھوڑے بہت جمہوری ثمرات سے فیضیاب ہو ں یہ تو حال ہے ہمارے مُلک کی لولی لنگڑی جمہوریت کا اشرافیہ کا مٹھی بھر طبقہ جمہوراور جمہوریت سے چمٹا بیٹھا ہے لیکن جمہوریت کی میٹھاس کا ایک قطرہ بھی عوام کے منہ میں ٹپکانے کو کوئی روادار نہیں ہے۔

بہرکیف، ابھی ابھی بھارت سے یہ خبر آئی ہے کہ دنیا بھر کے جمہوری انڈکس میں بھارت تنزلی کا شکار ملک بن گیاہے جس کی بڑی وجہ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی غیر جمہوری روایات اوروہ طور طریقے ہیں جن کی وجہ سے بھارت کا نام نہاد جمہوری سسٹم ڈی ریل ہو کر خاک میں مل گیاہے چلیں! یہ تو بہت اچھا ہواکہ دنیا نے خود ہی بھارت کو ہم سے کسی معا ملے میں تو پیچھے کردیاہے ورنہ تو کم بخت بھارت ہمارے خلاف اپنے منفی پروپیگنڈوں سے ہمیں ہی پیچھے کرتاآیاہے آج دنیا نے خود بھارت کے کرتوت دیکھ کر اِس کی نام نہاد جمہوریت کا چہرہ بے نقاب کردیاہے اور بھارت کو جمہوری انڈکس میں 42واںدے دیا ہے آہستہ آہستہ جب دنیا کو بھارت کا مکروہ چہرہ نظرآئے گا تو دنیا پھر بھارت سے خود ہی نفرت کرنے لگے گی اور وہ دن کو ئی زیادہ دور نہیں ہے کہ بھارت اپنی منہ کی کھائے گا اور اِس کا زندگی کے ہر شعبے میں منہ کالا ہوتا رہے گا۔(ختم شُد)

Azam Azim Azam

Azam Azim Azam

تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم
azamazimazam@gmail.com