چودہ لوگوں کے قاتلوں سے زینب کے لیے انصاف کی امید رکھنا عبث ہے۔ پاکستان عوامی تحریک یورپ

PAT-Europe

PAT-Europe

کوپن ہیگن (محمد منیر) سات سالہ زینب کے ساتھ ہونے والی درندگی پہ ہر باضمیر انسان کی اشک بار ہے گڈ گورننس کے نعرے لگانے والا وزیراعلٰی نے روایتی بے حسی کامظاہرہ کرتے ہوئے نوٹس لے لیا ہے اور آج صبح پانچ بجے زینب کے گھر گئے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دن کی روشنی میں عوامی غیظ و غضب کا سامنا کرنا ہوگا، بذات خود زینب کے والد کل یہ بیان دے چکے ہیں کی سیکیورٹی تو رائے ونڈ کے لیے ہم تو کیڑے مکوڑے ہیں۔

اس سانحہ میں دو لوگوں کا کردار قابل تحسین ہے اولا چیف جسٹس، جناب ثاقب نثار صاحب کا جنہوں نے از خود نوٹس لے کر زینب کے مظلوم والدین کی داد رسی کرنے کی کوشش کی جس میں اگرچہ انصاف کی امید کم ہے کیونکہ تفتیشی عمل تو پھر بھی شہباز شریف کے زیر اثر اداروں نے کرنا ہے جن سے انصاف کی رتی برابر امیدنہیں، دوئم ڈاکٹر قادری جنہوں نے عوامی احساسات وجذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے نہ صرف جنازہ خود پڑھایا بلکہ زینب کے والدین کی ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا۔

عوامی تحریک یورپ اس بربریت پہ سراپا احتجاج ہے اور قومی سلامتی کے اداروں سے زینب کے لیے انصاف کا تقاضا کرتی ہے۔