لیہ کے ریگزاروں سے ابھرتا ہوا اک ستارہ محمد رشید راز

Muhammad Rasheed Raaz

Muhammad Rasheed Raaz

تحریر : محمد اسلم انصاری
لیہ جغرافیائی لحاظ سے صحرائے اصغر کا منظر پیش کرتا ہے ۔ روایتی پسیماندگی اور صاحب زر و صاحبان اقتدار کے اتحصالی رویوںکی بدولت یہاں کے محنت کش باسی ہمیشہ متاثرین کی فہرست ِاول میں شامل رہے ہیں ۔ لیہ کے ریگزاروں میں رہنے والے ” ہمت ِ مرداں مدد ِ خدا”کے سنہری اصول پر عمل پیر ا ہیں ۔ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کو گویا اپنا مقدر سمجھتے ہیں ۔ کوئی بھی شعبہ ہائے زندگی ہواس میں ادھر کے باسیوں کا کردار تاریخ میں سنہر ی مثال کے طور محفو ظ کرنے پر کسی بھی ادیب اور مورخ کو مجبور کرتا ہے ۔ اُ ن باصلاحیت ، باہمت اشخاص کی فہرست میں شامل محمد رشید راز قا بل ذکرہے۔ 2005 میں محمد رشید راز نے وصی شاہ کا تحریر کردہ ڈرامہ سیریل “لگن” کو دیکھتے ہی اداکاربننے کی لگن پیدا ہوئی۔ پھر اپنے آپ سے وعدہ کرلیا کہ مَیں بھی ایک دن اداکار بن کر ٹیلی ویژن پر اپنے فن کا مظاہرہ کروںگا۔ آپ نے اپنی لگن کو ہمسفر بنا کر شوبز کی منزل کی رواں دواں ہوئے۔

2008 میں اپنی منزل کی پہلی سیڑھی حاصل کر لی۔ ملتان میں دو سیٹج ڈرامے کیے اور پھر لانگ آرٹ پروڈکشن کی جانب سے سرائیکی ٹیلی فلم ” چَھلہ چاندی والا ” میں”منشی” کاکامیاب کردار اداکیا۔ 2009 میں دوسری سرائیکی ٹیلی فلم ” یاری” میں” ولن “کا کردار نبھاتے ہوئے میںاپنی اداکاری کالوہا منوایا۔ ملتان میں سرائیکی ٹیلی فلم ” مذاق پورہ” میں “شاعر” کا کردار ادا کیا جس میں اجمل لانگ ،شعورناصر ، مظہر شاہین، الیاس بخاری ، عرفان ساگر ،مناحل خان، صائمہ ملک، پیا علی ، سیف بوٹا، زاہد ببرو،قصور حیدری ، علی خان، فیصل رضا جیسے نامور فنکاروں کے ساتھ مل کام کرنے کا کامیاب موقع ملا۔ جس سے مزید محمد رشیدرازکی فنکارانہ صلاحیتں ابھر کر سامنے آئیں۔

کاوشوںکا تسلسل جاری رہنے کی بدولت بلآخرآپ کو 2010 میںPTV کے ڈرامہ سیریل ” آدیکھیں ذرا ” میں” سنگر”کا کردار پیش کرنے کا مو قع میسر آیا اور محمد رشید راز نے اپنی فنکارانہ صلاحتیوں سے یہ ثابت کردیا کہ” ہو ذوق یقین پیداتو کٹ جاتی ہیںزنجیریں”اسی طرح PTV سے ڈرامہ سیریل ” دوسراچہرہ” میں ” بیوپاری” کا کردار احسن انداز میں ادا کیا۔PTV کے مایہ ناز ستاروں کے جھرمٹ میں رہ کر محمد رشید راز کی فنکارانہ صلاحتیوں کو مزید تقویت ملی ۔جن میںشامل وسیم عباس، سلیم آفتاب، قوی خان ، انورعلی، قیوم شہزاد ، ریچل ، ضیاء علی، صوبیہ مرزا، سعدیہ امام قابل ذکر ہیں۔ جہاںان ساتھی فنکاروںکے نئے نئے خیالات و تجربات سے آپ مستفید ہوئے وہاں آپ کی زندگی کے پُر مسرت اور خوشگوار یادگاروںمیں اضافہ بھی ہوا۔

Muhammad Rasheed Raaz

Muhammad Rasheed Raaz

اداکاری کے ساتھ ساتھ خطاطی، شعروشاعری اور موسیقی کے سا تھ کا فی لگائو رکھتے ہیں ۔ زمانہ طالب علمی میں لیہ کے بہت مشہور ومعروف خطاط ” خلیل لیہ” سے باقاعدہ فن خطاطی سیکھی اور اسی کو ذریعہ روزگا بنایا ۔ فن خطاطی کی آمدن سے اپنی تعلیم کو جاری رکھا ۔عموماًیہ دیکھنے کو ملا ہے جو مصور ہو یا خطاط وہ شاعر بھی ہوتا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ محمدرشید راز نے شعروشاعری میں طبع آزمائی بھی کی ہے شاعری کی اصلاح کیلئے سئیں شفقت بزدار اورحکیم عبدالقدوس ساجد سے شرف تلمیذیت حاصل کی ۔اردو اور سرائیکی کلام کا نمونہ قارئین کی نظرپیش کیا جاتا ہے۔

مَیں بھی پاکستانی ہوں

میرے پیارے وطن حسین چمن تجھ پہ جان کروںقربان
جان جان جان اے پیارے پاکستان
تجھ کو اتنا پیار دوں اپنا سب کچھ وارو دوںمیں
ماروں گا مر جائوں گا ہے مجھ میں ہمت حوصلہ
دشمن کو یہ بتلائوں گا میں بھی پاکستانی ہوں
ہے میر ی اِک پہچان تجھ پہ جان قربان
اے میرے پیارے پاکستان
یہ ننھے منے پیارے بچے دلوں میں رکھتے ہیں جذبے سچے
رہے گا دشمن زندہ کب تک دشمن کی ہستی مٹادوں گا
دشمن کو یہ بتلا ئوں گا میں بھی پاکستانی ہوں
اے پاک فوج تجھ پہ جان قربان اے میرے پیارے پاکستان
ازل سے پختہ ارادے میرے ہوں گے پورے یہ وعدے میرے
دکھاکر دشمن کو اپنا پرچم بہت اونچا لہرائوں گا
آئو مل جائو ساتھ میرے قوم ساری جگائوں گا
دشمن کو بتلائوں گا مَیں بھی پاکستانی ہوں
اے میرے فوج جوان تجھ پہ جان قربان اے پیارے پاکستان
ازل سے پختہ ارادے میرے ہوںگے پورے یہ وعدے میرے
دکھا کر دشمن کو اپنا پرچم بہت اونچا لہرائوں گا
آئو مل جائو ساتھ میرے مَیں ساری قوم جگائوں گا
دشمن کو یہ بتلائوں گا میں بھی پاکستانی ہوں
اے میر ی غیر ت کے نشان تجھ پہ جان قربان اے میرے پاکستان

اس نغمے میں محمد رشید راز اپنے خوبصورت جذبہ حب الوطنی کا اظہارکیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب نے انہوں اس بات کا آئندیہ بھی دیاہے کہ” مجھے موسیقی کے ساتھ بھی جنون کی حد تک لگائو ہے اس کو شوق پورا کرنے کے لئے آلات ِ موسیقی رکھتا ہوں ۔ اس نغمے کی میوزک دھن بھی ترتیب دے دی ہے ۔ اس کو اپنی آواز میںریکارڈ کر وا کر جلد قوم کے سامنے پیش کروںگا ” آپ سرائیکی میں شاعری کرتے ہوئے ماںکو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کچھ اس انداز میں لکھتے ہیں ۔
ہاویں چھوٹا ماء دی جھولی وچ.
ماء ناز تے نخرے چیندی ہئی
لب چولیں ہا منہ بولیں ہا
تیڈے سارے حکم منیدی ہئی
تیکوں ڈکھ تکلیف جو تھیوے ہا
توں رویں ہا اُو روندی ہئی
ماء ساری رات ناںسمدی ہئی
تیکوںول ول ہاںنال لیندی ہئی
تیڈ ا ول ول متھا چمدی ہئی
میکوںبہہ بہہ روز کھلیندی ھِ
ماء اج وی یادڈویندی ھِ
تیڈا رکھدی ڈھیر خیالا ہم
تیکوں ڈاڈھا اوکھا پالاہم
٭٭٭٭٭٭
تیکوں ڈکھ کائنی تیکوں بکھ کائنی
تیڈا سب کجھ ہے تیڈا کیا کائنی
ونج اُوں توںپچھ ہاں جگ جیویں
جیندا پیوکائنی جیندی ماء کائنی
امید ہے کہ لیہ کے ریگزاروں سے ابھرنے والا یہ ستارہ اپنی لگن اور فنکارانہ صلاحیتوں کی بناء پر ہمیشہ چمکتا رہے گا۔

Muhammad Aslam

Muhammad Aslam

تحریر : محمد اسلم انصاری
0307-6544391