سوچنا ہوگا حصہ 2

Think About It

Think About It

تحریر: شاہ بانو میر
ڈاکٹر تقی عابدی صاحب نے اپنے لیکچر مین کہا جب وہ کسی شہر میں جائیں اور ایک سے زائد پروگرام ہوں ۔ کئی بار یہ بات ان کے مشاہدے میں آئی کہ ان دونوں گروپس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایک دوسرے کے پروگرام کو فلاپ کروا دیں کسی طرح سے ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا حالانکہ وہ نہیں جانتے وہ ایک وجود کا حصہ ہیں آنکھ ناک کان کسی کو کاٹیں گے تو وجود ہی بد صورت ہوگا؟ کس کو اس سے فائدہ مل سکتا ہے؟ سوچنے والی بات ہے کہ آج سوشل میڈیا پر ایک طرف سابقہ سرکاری عہدہ دار طنز و مزاح کا نشانہ بنا ہوا ہے اور دوسری جانب اس کو مرادینے والا یہ ہم کہاں کھڑے ہیں

اللہ رب العزت تو قرآن پاک میں فرماتے ہیں مفہوم کچھ ایسے ہے کہ مشرکین کے بتوں کو گالیاں نہ دو کہ جہالت میں وہ تمہارے رب کیلئے وہی کلمات استعمال کریں گے سبحان اللہ تعظیم اور عزت کروانے کا سنہرا اصول اس قرآن مجید کتاب ہدایت میں محفوظ ہے خُدارا ایسے نہ کریں جو جس کو پسند کرتا ہے جو جس کو حق پر سمجھتا ہے وہ اس کے لئے لکھے لیکن دونوں انسان دنیا سے جا چکے ان کے مخالفین اپنی آخرت ایسے الفاظ لکھ کر برباد نہ کریں جن کو لکھ کر وہ سیاہی کا آخرت میں قرض نہ چکا سکیں اسلام دین تبلیغ ہمیں ایسے موقعہ پر دونوں جانب سے مخالفین کا ہجوم ہو تو صبر تحمل حکمت عملی اور تدبر کا درس دیتا ہے ۔

Pakistan

Pakistan

پاکستان پہلے ہی کمزور معاشرتی حیثیت میں لرزیدہ ہے ۔ ایسے آئے روزہ جھٹکے دین کے دشمن کو خوش کرتے ہیں اور اسلام کو کمزور پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے کہ دنیا میں اسلام کی متنازعہ تصویر کشی نہ کریں ازراہ کرم اپنی سوچ سے مطابقت رکھنے والے انسان کیلئے کلمہ حق بلند کریں یہی جمہوریت کا آزادی رائے کا اصل حسن ہے اور دین میں اجازت بھی لیکن جانے والا خواہ کوئی بھی ہے اس کا حساب اللہ پر چھوڑتے ہوئے اُن دونوں کیلئے غلط کلمات کے استعمال سے گریز کریں اور سوشل میڈیا پر طنزیہ پوسٹس سے اجتناب برتیں
بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

Shah Bano Mir Adab Academy

Shah Bano Mir Adab Academy

تحریر: شاہ بانو میر