لیبیا کی متحد حکومت کے حق میں سلامتی کونسل کی متفقہ قرارداد

Security Council

Security Council

نیویارک (جیوڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کو متفقہ طور پر لیبیا کی نئی اتحادی حکومت کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس سمجھوتے کی مکمل حمایت کریں۔

برطانیہ کے توسط سے پیش کی گئی قرارداد میں لیبیا کی نئی صدارتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ منصوبے کی پاسداری کرتے ہوئے 30 روز کے اندر نئی حکومت تشکیل دی جائے جب کہ وہ اپنی سلامتی کا بھی بندوبست کرے۔

اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیر ، ابراہیم دباشی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ چاہیں گے کہ اقوام متحدہ لیبیا کے خلاف اسلحے پر لگائی گئی پابندی ہٹائے ، تاکہ ان کا ملک داعش کے شدت پسندوں کے خلاف اپنا دفاع کر سکے اور یوں مغربی حمایت والے فضائی حملوں کی ضرورت باقی نہ رہے۔

سکیورٹی کونسل نے داعش اور اس کے حامیوں کی جانب سے لیبیا میں کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کی اور لیبیا کی دگرگوں انسانی صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

اس میں نئی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سب فیصلوں میں خواتین کی مکمل شرکت کو یقینی بنایا جائے ، ایسے میں جب لیبیا فروغ پاتی ہوئی جمہوریت کی طرف گامزن ہو نئی متحدہ حکومت طرابلس میں قائم خود ساختہ اسلامی انتظامیہ اور تبروک کے مشرقی شہر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو ایک ساتھ ملایا جائے گا۔

قانون ساز فیض سراج کا تعلق طرابلس کے دھڑے سے ہے جو نئے وزیر اعظم ہوں گے۔ وہ نو رکنی انتظامی کونسل اور صدارتی کونسل کے سربراہ ہوں گے جب کہ وزرا کا تعلق دونوں متحارب انتظامیہ میں سے ہوگا۔

سنہ 2011 جب سے طویل مدت تک مطلق العنان معمر قذافی کا تختہ الٹا گیا لیبیا کشیدگی اور سیاسی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔