جیت

Happy Man

Happy Man

تحریر : شاہد شکیل
انسانی زندگی ہار اور جیت پر مشتمل ہے انسان بازیاں تو بہت کھیلتا ہے لیکن جیت ہر کسی کے مقدر میں نہیں ہوتی ۔زندگی کا سفر پیدائش سے شروع ہو کر موت پر ختم ہوتا ہے اور اس کم عرصے میں دنیا کا ہر انسان جنگ ہی لڑتا رہتا ہے ،سکول کالج میں اچھے مارکس پانے کی جنگ، جاب کی جنگ،بیماری سے جنگ،دنیا والوں سے جنگ ،بچوں کو کامیاب و کامران دیکھنے کیلئے سماجی،معاشی ا ور مالی معاملات کی جنگ حتیٰ کہ موت سے بھی جنگ کرتا ہوا ایک دن سانسوں سے ہار جاتا اور موت کی جیت ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ موت انسان کا آخری سٹیشن ہے لیکن اس مختصر زندگی میں کئی افراد موت سے بد تر زندگی بسر کرتے ہیں ،عام حالات اور معمولی بیماری میں مبتلا انسان جلد یا بدیر اپنے گھاؤ فراموش کر دیتے ہیں لیکن خطرناک بیماریوں کے طویل علاج اور صحت یاب ہو جانے کے بعد بھی کئی افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کینسر ایک ایسا مرض ہے کہ جس میں مبتلا افراد اکثر موت کا شکار ہو جاتے ہیں اور اگر دور جدید میں سائنسی ترقی اور ادویات یا تھیراپی سے کوئی صحت یاب ہو جائے تو بھی وہ زندگی کی جنگ میں ہمیشہ ناکام ہی رہتا ہے۔

انسان سوچتا ہے کہ کینسر کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور ایک نئی زندگی ملی لیکن کینسر کے بعد کی زندگی انسانوں کے لئے جسمانی اور روحانی طور پر عذاب بھی بن جاتی ہے کیونکہ ان کی روح پر لگے اس بیماری کے نشانات اکثر زائل نہیں ہوتے۔برلن کی رہائشی کلاڈیا کا کہنا ہے میں سوچتی تھی کہ بیماری کا علاج اور صحت مند ہو جانے کے بعد زندگی آسان ہو جائے گی اور کوئی مجھ سے کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کرے گا کہ مثلاً اب تم صحت یاب ہو چکی ہو اب کیوں نہیں کوئی جاب کرتی میں کیسے بتاؤں کہ کیسی زندگی جی رہی ہوں ،اٹھتیس سالہ کلاڈیا چوکس نظروں اور کڑوی مسکراہٹ سے اخباری نمائندے کو جواب دیتی ہے کہ کوئی اس بات کو سمجھ نہیں سکے گا کہ میں کیسا محسوس کرتی ہوں کیونکہ میں ہر روز کینسر سے جیتنے کے بعد بھی بری بیماری یعنی لوگوں کی لعن طعن اور نفرت آمیز نظروں اور باتوں سے جنگ لڑتی ہوں اور روحانی طور پر اتنا تھک جاتی ہوں کہ شام ڈھلے ہی سونے چلی جاتی ہوں دائمی تھکاوٹ مجھے چور کر دیتی ہے اتنا تو میں سات برس کینسر سے جنگ کرتے ہوئے تھکاوٹ محسوس نہیں کرتی تھی جتنا بیماری سے جیت کے بعد کرتی ہوں۔

کینسر کا علاج طویل اور صبر آزما ہوتا ہے اور اکثر شدید تکلیف کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ آپریشن کے کئی نشانات میرے پیٹ اور سینے پر نمایاں ہیں انہیں دیکھ کر مجھے اکثر عجیب سے خیالات آتے ہیں سوچتی ہوں کاش میں کینسر کی جنگ ہار جاتی۔اکتالیس سالہ جینی نے مسکرا کر اپنی چمکتی آنکھوں سے نمائندے کو دیکھا اور خوش مزاجی سے جواب دیا کہ میں نے کینسر کو مات دے دی اور جیت گئی کیونکہ مجھے میری بیٹی نے جوابھی ایک برس کی ہے جنگ لڑنے اور زندہ رہنے کی ہمت دی لوگوں کے خوش اخلاق رویئے سے میں نے بہت کچھ بھلا دیا میری بیٹی میرے لئے انمول تحفہ ہے میں نے نئی زندگی پائی اور اب میں اپنے لئے نہیں بلکہ اپنی بیٹی کیلئے جیوں گی۔دو مختلف انسانوں کے خیالات اور سوچیں کتنی علیحدہ ہیں ایک کہتی ہے کینسر کے علاج کے بعد میرا زندہ رہنا مزید دشوار ہو گیا اور دوسری کہتی ہے مجھے نئی زندگی ملی شاید انسان ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے جدید ادویہ کی بدولت کینسر کا علاج ممکن ہے خاص طور پر چالیس برس سے کم عمر کے افراد کیلئے بہترین امکانات ہیں۔

Cancer

Cancer

ہماری رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے مقابلے میں آج کینسر کا علاج ہو جاتا ہے کیونکہ دس برس قبل پانچ میں سے چار کی اموات ہوجاتیں جبکہ آج شاید ہی کوئی موت کا شکار ہو،علاج کے بعد اکثر جسم نشانات رہ جاتے ہیں ،علاج کا مطلب یہ نہیں کہ صحت یاب ہو جانا بلکہ کئی بیماریاں کسی نہ کسی روپ میں انسان کو جکڑے رکھتی ہیں اور صحت مند انسان دوبارہ کسی نئی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔کولون یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر پروفیسر پیٹر بورچ مین کا کہنا ہے میرے بتیس مریض کینسر میں مبتلا ہیں جب انہیں پہلی بار بتایا گیا کہ انہیں کینسر ہے تو یہ سنتے ہی انہیں آدھی موت آگئی لیکن انہیں تسلی دی کہ ستر کی دہائی میں ہر دسویں مریض کی زندگی بچائی جا سکتی تھی جبکہ آج جدید میڈیسنز کے استعمال سے دس میں سے ایک کی موت واقع ہوتی ہے لیکن انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ جسم کے کس عضو میں کینسر ہے،ڈاکٹر کا کہنا ہے کینسر کا جدید علاج حیرت انگیز ہے کیونکہ سائنس کی ترقی نے انسانوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بیماری کے علاج کے بعد ہمیشہ کچھ تلخ نشانیاں بھی رہ جاتی ہیں۔

مثلاً آپریشن کے نشان ،روحانی تکلیف ، تابکاری کے نشان اور ادویہ کے استعمال سے دیگر جسمانی اعضاء کا متاثر ہونا وغیرہ،تھیراپی اقدامات کی سیریز ہے جس کے ضمنی اثرات گروپس کی صورت میں ظاہر ہوتے اور سائڈ ایفیکٹ بھی ہو سکتا ہے جس کے سبب کئی مریضوں کو مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے مثلاً ہاتھ اور پاؤں میں کپکپی طاری ہونا یا ساکت ہو جاناانہیں وجوہات سے کئی افراد کو سماجی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ماحولیات کا بھی خاص طور پر رد عمل ہوتا ہے ،دائمی تھکاوٹ ایک عام مسئلہ ہے مصائب میں گھرے افراد کو افہام و تفہیم کی اشد ضرورت ہوتی ہے اکثر اوقات طعنے بازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں کینسر کا مریض ہے اور کام کاج نہیں کرسکتا جس سے انسان کو شدید روحانی تکلیف پہنچتی ہے ۔ایسے مسائل بالکل نارمل ہیں اور انسان کو ڈٹ کر ہر مسئلے سے جنگ کرنی چاہئے کیونکہ انسان اگر یہ سوچے کہ میں ہار جاؤں گا تو جیت کبھی اس کا مقدر نہیں بن سکتی۔

برلن میں کینسر کے مریضوں نے کینسر کے علاج کے بعد زندگی کے نام سے ایک ایسوسی ایشن قائم کی ہے جس میں کینسر کے مریضوں کی ہر طرح سے امداد کی جاتی ہے ان کے ہر سوال کا ماہرانہ جواب دیا جاتا ہے اور زندگی کو مزید آسان بنانے کے لئے مالی اور نفسیاتی طور پر آگاہی کے بعد ہر ممکن طریقے سے مدد کی جاتی ہے ادارے کا کہنا ہے کیونکہ کینسر نام ہی انسان کی سوچ کیلئے تباہی بن جاتا ہے اور خوش قسمتی سے صحت یاب ہونے کے بعد مزید دنیاوی مشکلات آڑے آتی ہیں اس لئے ہم ادارے کے تحت ایسے افراد کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں تاکہ وہ بیتے دنوں کو مکمل طور پر فراموش کر سکیں اور نئی زندگی کا آغاز کریں۔

Shahid Shakil

Shahid Shakil

تحریر : شاہد شکیل