ایل او سی کے قریب زلزلہ مزاحم گھر غیر محفوظ

Muzaffarabad

Muzaffarabad

مظفر آباد (جیوڈیسک) متنازع علاقے کشمیر میں ’لائن آف کنٹرول‘کے دونوں جانب آباد کشمیری پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث اس خوف کا شکار ہیں کہ زلزلہ مزاحم تعمیرات کے باعث معمولی فائرنگ یا گولہ بار ی سے انہیں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقوں اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں آٹھ اکتوبر 2005 کو آنے والے 7.6 شدت کے زلزلے کے باعث عمارتیں گرنے اور دیگر حادثات میں 75 ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

بین الاقوامی مالی امداد سے متاثرہ علاقوں کی بحالی و تعمیر نو کے لیے شروع کیے گئے پروگرام کے تحت پاکستانی کشمیر کے متاثرہ اضلاع میں تین لاکھ سے زائد متاثرہ خاندانوں کو جستی چادر کی چھتوں پر مشتمل گھروں کی تعمیر کے لیے پچاس ارب روپے مہیا کیے گئے۔

یہ مکانات زلزلہ مزاحم تو ہیں لیکن زلزلے سے قبل پاکستانی کشمیر میں بنائے گئے مٹی کے گھروں کی نسبت کمزور ہیں اور اس بنا پر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ’ایل او سی‘ کے پار سے ممکنہ فائرنگ کی صورت میں اُن کے گھر غیر محفوظ ہیں۔

گزشتہ ماہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب اُوڑی میں ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندوں کے مبینہ حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پید اہو نے والی کشیدگی کے باعث جستی چادر کی چھتوں کی وجہ سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ حد بندی لائن کے پار سے داغے گئے گولوں اور فائر کی جانی والی گولیوں سے ان گھروں میں اُن کے لیے بچاﺅ نا ممکن ہے۔

کیونکہ مٹی کی چھت والے گھروں سے گولوں کے ٹکڑے اور گولیا ں مٹی سے با آسانی نہیں گزر سکتی تھیں۔

سر حدی قصبہ چکوٹھی کے ایک تاجر محمود احمد کا کہنا ہے کہ حکومت سرحدی علاقوں کے رہنے والوں کو بم پروف مورچوں کی تعمیر کے لیے مالی وسائل مہیا کرے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر 1990 سے 2003تک وقفے وقفے سےفائرنگ اور شدید گولہ باری کا تبا دلہ ہوتا رہا ہے، جس میں دونوں اطراف جانی نقصان بھی ہوا جب کہ ہزاروں خا ندانوں کو گولہ باری سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا تھا۔

تاہم بعد میں دونوں ملکوں نے 2003 میں ’فائر بندی‘ معاہدے پر اتفاق کیا لیکن اس کے باوجود دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کے بعد اس فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جاتی رہی۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے بحالی و تعمیر نو ادارے سیراء کے سربراہ سردار ظفر خان کا کہنا ہے کہ جب اکتوبر 2005 میں زلزلہ آیا تو اُس وقت کنٹرول لائن پر امن تھا اس لیے فائرنگ سے محفوظ تعمیرات، تعمیر نو پالیسی کی ترجیح نہیں تھی اور نا ہی اُس وقت اس جانب توجہ مبذول کروائی گئی۔

آٹھ اکتوبر 2005 کے زلزلے میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دس میں سے چھ اضلاع متاثر ہو ئے تھے جن میں کشمیر کے اس حصے کا دارالحکومت مظفرآباد سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔