دیار مدینہ سے محبت

Madina

Madina

تحریر: چوہدری غلام غوث
عجیب اتفاق ہے کہ سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل مدینہ یثرب کہلاتا تھا ۔جس کا مطلب تھا مصیبتوں والی بستی مگر سرور کائنات کی پرنور آمد سے مدینہ بنا اور ایسا کہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کیلئے رحمتوں کی بستی بن گیا ۔مدینہ بھی وہ مدینہ جو دنیا کے سب شہروں کا سردار ہے ۔جس میں سردارالانبیاء تشریف فرما ہیں اور یہ وہ شہر ہے جس کے لئے سرور کونین نے خصو صی دعا مانگی تھی۔ یا اللہ میرے مدینے کو طیبہ بنا دے ۔مدینہ طیبہ کے معنوں پر اگر غور کیا جائے تو مدینہ بستی یا شہر کو کہتے ہیں او رطیبہ کا مطلب پاک صاف ہے ۔یعنی ایسی بستی یا شہر جو پاک صاف ہے اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسکن ہے ۔یہ دنیا کی پہلی ریاست ہے جو اسلام کے نظریات پر قائم ہوئی ۔جس کے سربراہ خود نبی اکرمۖ تھے دنیا بھر کے مسلمان خواہ وہ کسی بھی ملک ، قوم یا بر اعظم سے تعلق رکھتے ہوں ۔ سرکار کے شہر سے والہانہ محبت اور عقیدت اپنے ایمان کا جزو لازم سمجھتے ہیں اور جب حاضری کے لئے سرکارکے شہر مدینہ کے لئے سفر اختیار کرتے ہیں تو دل کی تمام خواہشوں کو دعاؤں کا رنگ دے کر اپنا خالی دامن لئے کاسہ شوق بھرنے کا بھر پور عزم کر کے جب دیار مدینہ میں قدم رکھتے ہیں تو عاشقوں کی پرنم آنکھیں عجزو انکساری سے جھک جاتی ہیں او ران لمحات میں نیاز مندوں کے قلبی تعلق کو جو کشش اور مقناطیسیت میسر آتی ہیں وہ الفاط کی قلم بندی میں نہیں سما سکتی ۔جبین نیاز جب مسجد نبویۖ میں سجدوں کی لذت سے آشنا ہوتی ہے تو جنت کے نظارے نظر آنے لگتے ہیں۔دیار مدینہ ہو اور عاشقوں کے آنسوؤں کی مالا ٹوٹ جائے یہ ممکن نہیں۔وہاں عاصیوں کے چہروں پر آہوں ، سسکیوں اور آنسوؤں کی بہار ایسے نظر آتی ہے جیسے گناہوں سے بھرے دامن پل بھر میں خالی ہو رہے ہوں۔

شرمندگی اور ندامت ایسی کہ مانگنے کے سارے ڈھنگ ذہن سے محو ہو جاتے ہیں اور سلیقہ طریقہ ہی نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کیا مانگا جائے اس کیفیت میں دل کو ایسی روحانیت اور طمانیت ملتی ہے کہ ہر امتی کی ڈھارس بندھ جاتی ہے اور سماں ایسا ہوتا ہے کہ جیسے شفاعت رسولۖ کا غلبہ حاصل ہو رہا ہو اور سرکاراپنی کالی کملی کی رحمت بھری آغوش میں لے رہے ہوں ۔ احقر آپ کا ایمان تازہ کرنے کے لئے محبت مدینہ کی دو مثالیں پیش کر رہا ہے تاکہ ربیع الاول کے مبارک مہینے میں آپ کا مدینے سے عشق والا تعلق مزید مضبوط ہو جائے ۔موطا امام مالک کے مصنف امام الحجرا حضرت امام مالک مدینہ طیبہ میں کم و بیش چار عشرے سکونت پذیر رہے اور مسجد نبوی میں حدیث نبوی کی تعلیم دیتے رہے ۔ ساری عمر جوتا نہ پہنا ننگے پاؤں مدینہ کی دیواروں کے ساتھ لگ لگ کر چلتے کہ کہیں میرے قدم حضورۖ کے نقش پا پر نہ آ جائیں۔ رفع حاجت کے لئے مدینہ طیبہ سے میلوں دور باہر نکل جاتے زندگی میں صرف ایک مرتبہ فرض حج ادا کیا اس خوف سے کہ کہیں حج کے دوران مدینے سے باہر رہ کر موت نہ آ جائے ۔حضر ت امام مالک مدینہ کے بچوں سے بے حد پیار کرتے تھے ۔ اس عاشق رسولۖ نے مدینہ طیبہ میں ہی وفات پائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔ ہندوستان کی تاریخ میں دو بھائی بہت بڑے پائے کہ عالم دین اور محدث پیدا ہوئے ہیں ۔جنہیں تاریخ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا ظفر احمد عثمانی کے نام سے جانتی ہے۔

تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے ہی پڑھایا تھا ۔ان کے دوسرے بھائی مولانا ظفر احمد عثمانی اس دور میں ہندوستان سے حج کرنے کے لئے حجاز مقدس گئے جب لوگ بحری جہازوں میں سفر کر کے حج کا فریضہ ادا کرنے جاتے تھے ۔واپسی پر انہوں نے یہ واقعہ قلمبند کیا ۔ فرماتے ہیں کہ میں ساری عمر کسی محفل میں لا جواب نہیں ہوا ۔سوائے ایک موقع پر جب ہم حج کرنے مدینہ طیبہ گئے تو اس وقت مسجد نبویۖ سے ملحقہ اپنا خیمہ لگایا او روہاں رہائش رکھی اور ادھر سے ہی مسجد نبویۖ میں آ جاتے چونکہ شدید گرمیوں کا موسم تھا جب ہم تمام حاجی اکٹھے ہو کر شام کا کھانا کھاتے تو اس وقت وہاں سے گرم موسم کی وجہ سے تربوز خرید لیتے اور کھانے کے بعد اسے کھاتے اور اس کے چھلکے باہر پھینک دیتے۔اس دوران ہم نے کیا دیکھا کہ ایک سات آٹھ سالہ بچہ آتا اور چھلکوں کے ڈھیر میں سے چھلکے اٹھاتا جو ہلکی سرخی مائل گری رہ جاتی اسے کرید کرید کر کھا لیتا۔جب یہ معمول دو روز تک دیکھا تو میں نے پیار سے اس بچے سے پوچھ لیا کہ بیٹے تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ تو بچے نے کہا میں ایک یتیم بچہ ہوں میرے والد فوت ہو چکے ہیں میری والدہ نے عقدثانی کر لیا ہے ۔گھر میں غربت اور فاقے ہیں ،میں مدینے کا بچہ ہوں اور میزبان ہونے کی حیثیت سے مہمانوں سے مانگتے شرم آتی ہے۔

لہذا میں اس بچی کھچی گری سے پیٹ بھر لیتا ہوں ۔ مولانا لکھتے ہیں کہ مدینے کے بچے کی اس فہم و فراست نے ہمارے رونگٹے کھڑے کر دئیے ۔آنکھیں آنسووں سے بھیگ گئیں بچے سے کہا کہ بیٹا اگر آپ مناسب سمجھو تو آپ ہمارے ساتھ آ کر کھانا کھا لیا کرو ۔بچہ انکاری تھا مگر ہمارے پیار بھرے بھر پور اصرار پر ہاں کر دی۔مدینے کا یہ بچہ روز آ جاتا ہمارے ساتھ کھانا کھاتا آہستہ آہستہ شناسائی بڑھتی گئی بچے سے انس ومحبت پروان چڑھا تو میں نے بچے کو پیشکش کر دی کہ بیٹا آپ میرے ساتھ ہندوستان آ جاؤ میں وہاں آپ کو درس میں رکھ کر پڑھاؤں گا ۔کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک آپ کی تعلیم کا بندوبست کروں گا تو بچے نے کہا کہ میں اپنی والدہ سے بات کر کے آپ کو آگاہ کروں گا ۔جب ہماری واپسی کا وقت آ گیا تو وہ بچہ اپنی والد ہ سے اجازت لے کر سامان سفر باندھ کر آ گیا ۔ہمیں بڑی خوشی ہوئی بچے کو ساتھ لیا بچہ قافلے کے ہمراہ چل رہا تھا تو دوران سفر میرے ساتھ محو گفتگو تھا ۔ سوال کر رہا تھا کہ چاچاجی وہاں ہندوستان میں سکول اچھے ہیں میں نے کہا کہ بیٹا بہت اچھے ہیں وہاں مجھے اچھے کپڑے پہننے کو ملیں گے میں نے کہا کہ ہاں بیٹا اس نے پوچھا کہ مجھے وہاں فٹ بال کھیلنے کے گراؤنڈ میسر آئیں گے۔

جی ہاں بیٹا ہندوستان میں فٹ بال کھیلا جاتا ہے۔بچے نے کہا کہ مجھے وہاں طرح طرح کے معیاری کھانے اور اچھی رہائش ملے گی میں نے کہا کہ کیوں نہیں بیٹا یہ سب سہولتیں آپ کو ملیں گی ۔اس دوران چلتے چلتے سامنے گنبد خضریٰ نظر آ گیا بچے کی نظر پڑی تو سوال کر دیا کہ چاچا جی یہ سامنے والا گنبد بھی وہاں ملے گا میرے پاؤں سے زمین نکل گئی بچے کے اس سوال نے مجھے لا جواب کر دیا۔اور میں نے تڑپ کر کہا کہ بیٹا اگر یہ گنبد وہاں مل جاتا تو مجھے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی ۔بچے نے میرا جواب سنا تو اپنا ہاتھ چھڑایا او رکہا چاچا جی مفلسی بے بسی اور یتیمی قبول ہے مگر سرکار مدینہ کا دامن چھوڑ نا کسی صورت گوارا نہیں ۔میں مدینے کو نہیں چھوڑ سکتا ۔علامہ صاحب لکھتے ہیں کہ بچہ ہمیں روتے ہوئے دم بخود چھوڑ کر بھاگا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔علامہ صاحب کی باقی مانندہ زندگی یہ واقعہ لوگوں کو سناسنا کر روتے رہے۔

قارئین کرام !چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج بھی اگر کسی عاشق رسول کے سامنے مدینے کا نام لیا جائے تو تڑپ اٹھتا ہے ۔اشکوںں کی جھڑی لگ جاتی ہے ۔آج بھی محراب و منبر سے یہ آوازیں کانوں میں رس گھولتی سنائی دیتی ہیں ۔محمد ۖ کا روضہ قریب آ رہا ہے بلندی پہ اپنا نصیب آ رہا ہے ۔جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے اللہ کی رحمت کے آثار نظر آئے ۔اللہ تعالیٰ مدینہ طیبہ کا شفقت بھرا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم رکھے۔(آمین)

Ch Ghulam Ghaus

Ch Ghulam Ghaus

تحریر: چوہدری غلام غوث