مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن ممبئی کے اردو انٹرویو کے نتائج میں تاخیر ہونے سے امیدواروں میں تشویش

Mumbai

Mumbai

ممبئی (نمائندہ خصوصی) مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن ممبئی کی جانب سے کل (٢٥) سبجیکٹ کے لئے 29 جولائی 2014 کوگورنمنٹ ڈگری کالجوں میں اسسٹنٹ پروفیسر کی اسامیوں کے لئے اخبارات میں اشتہارات شائع ہوئے تھے۔ اس میں ریاست کے اردو اسامیوں کیلئے بھی جگہ نکالی گئی تھی۔ بعد میں مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن ممبئی کی جانب سے اسسٹنٹ پروفیسر کی بھرتی کیلئے 26 اگست 2013 تک فارم طلب کئے گئے۔

امیدواروں کے فارم کی آخری تاریخ کے بعد ایم پی ایس سی کی جانب سے09 فروری 2014 کو امتحان کا انعقاد کیا گیا اس میں ریاست بھر کے ہزاروں امیدواروں نے امتحان دیا۔ اس کے بعد ایم پی ایس سی کی جانب سے امتحان میں زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے امیداروں کی میرٹ لسٹ شائع کی اور کل ٢٥ سبجیکٹ کی انٹرویو مختلف تاریخوں میں عمل میں آئی۔ جس میں اردو مضمون کیلئے 21 جولائی 2014 کو ناگپور میں میرٹ میں آنے والے امیدواروں کا انٹرویو لیاگیا۔ مگر قابل غور بات یہ ہے

اردو کے ساتھ ساتھ دوسرے مضمون کیلئے بھی انٹرویو لیا گیا تھا کچھ اردو مضمون سے پہلے اور کچھ اردو مضمون کے بعد بھی انٹرویو کا انعقاد کیا گیا تھا۔ مگر ایم پی ایس سی کی جانب سے کچھ مضمون کے انٹرویو کے نتائج تو فہرست کے مطابق اعلان کیا گیا مگر بعد میں اردو کوبالائے طاق رکھ کراردومضمون کے بعد ہوئے سبجیکٹ کے انٹرویوکے نتائج کا اعلان کردیا گیا۔ آج دو (٢) ماہ گزر جانے کے باوجود بھی ایم پی ایس سی نے اردو سبجیکٹ کے نتائج کا اعلان کیوں نہیں کیا ۔ یہ ایک انسولجھی پہیلی بنی ہوئی ہے۔

اس میں میرٹ میں شامل امیدواروں میں کافی تشویش دیکھی جارہی ہے۔ اور اس طرح کا اردو مضمون کے تعلق سے ایم پی ایس سی کا رویہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں کچھ تو ہے جس کی وجہ سے جان بوجھ کر اردو کے نتائج کو روکا جارہا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے جو اب تک اس کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ امیدوار اس آس میں بیٹھے ہیں کے ہمارا نمبر اس میں لگتا ہے یا نہیں ۔ یاہمیں دوسری جانب کوشش کرنا ہونگا۔ پچھلے 14 ماہ سے انتظار کے سوا ان بے چارے امیدواروں کے پاس کچھ نہیں بچا ہے۔ ایم پی ایس سی کو چاہیے کے اس بارے میں ہورہی تاخیر کی وجہ اپنی ویب سائٹ پر واضح کرے اور اس نتائج کا اعلان جلد از جلد کیا جائے۔

ورنہ کسی کی جان پر بن آئی تو ہو سکتا ہے اس نتائج کی تاب نہ لاکر کو ئی غلط قدم نا اٹھا بیٹھے۔ اس طرف فلحال کے ایم پی ایس سی کے چیرمین کو ذاتی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اور جلد از جلد اردو مضمون کے لئے لی گئی انٹرویو کے نتائج کا اعلان کیا جائے تاکہ اس میں شامل امیدواروں کو اطمینان ہوجائے۔

اس بارے میں امیدواروں کی کیا رائے ہے یہ جاننے کے لئے ہمارے نمائندہ نے اس انٹرویو میں شامل کچھ امیدواروں سے بات کی مگر کوئی بھی کھل کر بولنے کے لئے تیا ر نہیں ۔ نام نہ شائع کرنے کی بنیاد پرایک امیدوار نے کہا کہ یہ تو ایم پی ایس سی کی ہمارے ساتھ نا انصافی ہے ۔ ہمارے بعد میں ہوئے انٹرویو کا انھوں نے نتائج کا اعلان کردیا مگر اردو کے انٹرویو پہلے ہونے کے باوجود بھی ہمارے تنائج کا اعلان کیوں نہیں کیا گیا۔ اس وجہ سے ایم پی ایس کی ایما پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ اسطرح سے اردو والوں کے ساتھ یہ زیادتی کیوں کی جارہی ہے۔

ہم پہلے ہی ١٤ ماہ سے اس مراحل سے گزر رہے ہیں ۔ اور اس وجہ سے ہم نے دوسری طرف نوکری کے لئے کوشش نہیں کی ۔ ہم تو یہاں کے رہے اور نہ وہاں کے۔ ایم پی ایس سی کو چاہیے کے جلد از جلد انٹرویو کے نتائج کا اعلان کرے۔

امیدوار اور ان کے سرپرستوں نے ایم پی ایس سی سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد اردو مضمون کے نتائج کا اعلان کیا جائے تاکہ جن لوگوں کو اس میں نوکری نہیں لگتی وہ دوسری جانب اپنی قسمت آزما سکے۔ اسطرح کا مطالبہ زور پکڑتا دکھائی دئے رہا ہے۔ اب دیکھنا دلچسپ ہونگا کہ اس طرف ایم پی ایس سی کے چیئرمین کیا فیصلہ لیتے ہیں۔ یہ توآنے والا وقت ہی بتاے گا۔