عصر حاضر میں مساجد کا مطلوبہ کردار ! تیسری قسط

Masjid

Masjid

تحریر : محمد آصف اقبال

ایک ایسا نظام جہاں بندے اپنے آپ کو مکمل طور پر خداکے حوالے کردیتے ہوں،جہاں خدا کی پسند ان کی پسند میں تبدیل ہو جاتی ہو،جہاں خشوع ہی نہیں خشیت بھی طاری ہوتی ہو اور جہاں فرد میں اجتماعیت کا شعور بیدار کیا جاتا ہو، غور فرمائیے گا کیا یہ پورا تصور ہمیں خدا کا باغی بنا سکتا ہے؟کیا ہماری پسند اور ناپسند خدا کی پسند اور ناپسند سے مختلف ہوسکتی ہے؟کیا ہمارے افکار و نظریات ،خدا کے فراہم کردہ احکامات وتعلیمات اورعقائد کی بناپر قائم ہونے والے افکار و نظر یات سے جدا ہوسکتے ہیں؟کیا ہمارے عد ل و انصاف کے پیمانے ،خدا کے فراہم کردہ پیمانوں سے گریز کر سکتے ہیں؟اور ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی اور اس کے معاملات کیا خدا کے فراہم کردہ طریقہ اور نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے مختلف ہو سکتے ہیں؟غرض ایک ایک چیز پر غور کیجئے تو یہی علم ہوگا کہ مسجد کے اندر ،خدا کے سامنے، اسے حاضر و ناظر جانتے ہوئے،سجدے میں گرکر،عاجزی کے ساتھ ،عبادت کرتے ہوئے،جو کیفیت ہم پر طاری ہوتی ہے اور جو ہونی چاہیے،اس کے بعد ہم نہ انفرادی اور نہ ہی اجتماعی ،کسی بھی عمل میں خدا اور اس کے رسول کے باغی ہونا تودور کی بات،باغی ہونے کا خیال آتے ہی پورا وجود خدا کے خوف سے کانپ اٹھنا چاہیے۔اوریہی وہ مطلوبہ کردار ہے جو مسجد اور اس کی چاردیواری ہمیں فراہم کرتی ہے ۔موجودہ دور میں اگر خدا نہ خواستہ کسی مقام پر مسجد اپنا مطلوبہ کردار ادا نہیں کررہی ہیں تو پھر اس کے معنی یہی لینے چاہیے کہ یا تو مسجد کے رکھوالے اپنی حیثیت سے واقف نہیں ہیں یا پھر فرد اور معاشرہ ہر دوسطح پرمسجد کی حیثیت کونظرانداز کیے ہوئے ہے۔یہ ہر مسجد اور اس کے رکھوالوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حیثیت سے واقف ہوں،خدا نے مسجد کا نظام جو انہیں میسر کیا ہے،اورجس کے نتیجہ میں وہ دنیا ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی سرخ روئی حاصل کرسکتے ہیں،اس کی کوشش کریں اور دنیا کے سامنے وہ کردار پیش کریں جو مطلوب ہے۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ کتنی ہی اہم اور محترم مسجد کے رکھوالے کیوں نہ ہوں،اللہ کی پکڑ سے بچنے والے نہیں ہیں،وہ دنیا میں بھی ذلت و رسوائی سے دوچار ہوں گے اورآخرت کا عذاب تو حد درجہ بڑھ کر ہے۔

آئیے اس بات پر بھی غور کرتے چلیں کہ جو مطلوبہ کردار کسی بھی مسجد کا ہونا چاہیے ،جس میں کمی محسوس کی جارہی ہے اور جس کے نتیجہ میں آج ہم مسجد کو صرف نماز کی ادائیگی تک محدود کیے ہوئے ہیں،اس کو دور کیسے کیا جائے؟ساتھ ہی اس پورے عمل میں ہم،بذات خود کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟سب سے پہلی چیز طہارت و پاکیزگی ہے جو مسجد سے وابستہ ہے۔ہر فرد جب بھی مسجد میں داخل ہوتا ہے اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ وہ پاک و صاف ہو۔یہ پاکی و صفائی جسم کی بھی ہونی چاہیے،لباس کی بھی ہونی چاہیے،ساتھ ہی فکر و عمل کی بھی ہونی چاہیے۔دوسری چیز نمازکی ادائیگی ہے جو ہم اللہ کے حکم کے مطابق صرف اُس ہی کے لیے اداکرتے ہیں۔فرمایا: وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِکْرِی۔ترجمہ:اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو(طہٰ:١٤)۔یعنی اللہ سے وابستگی توحید کا مظہر ہے،اور یہ جذبہ سب سے زیادہ نماز سے حاصل ہوتا ہے۔ساتھ ہی جب پانچ مرتبہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تو تعلق باللہ میں مضبوطی آتی ہے۔باجماعت نماز اداکرتے وقت تطہیر فکر و قلب ہوتا ہے وہیں دل شیطانی وسوسوں سے پاک ہو جاتا ہے۔عربی کا مقولہ ہے:مؤمن مسجد میں ایسے ہوتاہے جیسے مچھلی پانی میں اورمنافق مسجد میں ایسے ہوتا ہے جیسے پرندہ پنجرے میں۔یہ وہ بنیادی کیفیت ہے جسے روحانی کیفیت بھی کہتے ہیں اور یہ کیفیت اللہ کے گھر میں اللہ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے اُس کے سامنے ہاتھ باندھ کر ،رکوع و سجود میں جانے سے ہمیں حاصل ہوتی ہے۔یہاں ایک بار پھر دہراتے چلیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :”یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، لہٰذا ن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو”(الجن:١٨)۔ حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ زمین پوری کی پوری عبادت گاہ ہے ا ور آیت کا منشا یہ ہے کہ خدا کی زمین پر کہیں بھی شرک نہ کیا جائے۔

مسجد کا دوسرا مطلوبہ کردار معاشرتی اصلاح اور محبت و اخوت اور ہمدردی کا ماحول پروان چڑھانا ہے۔مسجد میں معاشرہ کا ہرفرد خدا وحدہ لاشریک کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔یہاں ایک امام کے پیچھے صف بندی ہوتی ہے۔صف بندی کے درمیان ذات پات، رنگ و نسل،علاقے اور ملک،امیر اور غریب میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا۔باالفاظ دیگر ایک مسلمان کو اجتماعیت کی تربیت دی جاتی ہے۔ساتھ ہی مسجد میں ہم ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں، سلام کرتے ہیں،یعنی ایک شخص دورے پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں اور سلامتی نازل ہونے کی دعا ئیں کرتاہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں۔ساتھ ہی مسجد میں ملاقات کے دوران وہ ایک دوسرے کی ضرورتوں سے واقفیت حاصل کرتے ہیں اوراحترام واکرام انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہیں۔

مسجد ہی وہ مقام بھی ہے جہاں انفرادی اور اجتماعی شکل میں اور خطبات جمعہ و دیگر مواقع پر ملک ،معاشرہ اور ملت کے مسائل پر غور و خوض کیا جاتا ہے۔ساتھ ہی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی سعی و جہد کا عزم مصمم کیا جاتا ہے۔مسجد میں حاضری ہمیں اپنے اخلاق و کردار کی مثبت تعمیر میں مدد فراہم کرتی ہے۔زندگی میں پابندی وقت کی اہمیت اور اس پر عمل آوری میں مددملتی ہے۔پھرجس طرح پانچ مرتبہ نماز کی ادائیگی ہمیں اس جانب متوجہ کرتی ہے کہ ہم خدا سے کیے گئے وعدے کو پوراکریںوہیں یہ نمازیں ہمیں بندوں سے کیے گئے وعدوں کو نبھانے کا شعور بھی بخشتی ہیں۔نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے،ساتھ ہی ہمیں یہ شعور بھی حاصل ہوتا ہے کہ ہم جھوٹ،غیبت،رشوت خوری،بے حیائی اور دیگر اخلاق خبیثہ سے پرہیز کریں۔

مسجد میں جب ہم حاضر ہوتے ہیں تو ہم ہر طرح کے نشہ سے پاک ہوکر داخل ہوتے ہیں،تاکہ نماز میں یکسوئی اور خشیت طاری ہو۔یہ عمل نماز کے بعد بھی ہر طرح کے نشہ سے بچنے اور اس لت میں پڑنے سے ہماری مدد کرتا ہے۔مسجد میں تعلیم و تربیت کا مکمل نظام قائم ہوتا ہے اور امت کا یہی وہ تعلیم و تربیت کا ادارہ ہے جو فرد کی شخصت میں نکھار اور ارتقاء میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ پہلی تین صدیوں میں مسجد ہی وہ درسگاہ تھی جہاں تمام علوم و فنون پڑھائے جاتے تھے اور سب سے پہلی درس گاہ’اصحابِ صفہ’کے نام سے مسجد نبویۖ میں قائم ہوئی ۔ مسجد میں درسِ قرآن و حدیث کے ساتھ فقہ کے مسائل بیان کرنے کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ علم و عرفان کا بہت سا حصہ مسلمان مسجد سے ہی سیکھتے ہیں ۔مسجد ہی میں مختلف قسم کے مالی فنڈ بھی قائم کیے جاتے ہیں،جن سے ملت و معاشرہ کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔لہذا جب ایک مسلمان مسجد سے باہر قدم رکھے(اس کے باوجود کہ پوری دنیا مسجد بنادی گئی ہے)تو وہاں بھی اس کے رویہ اورمعاملات میں وہی جذبہ اور عمل کارفرما ہونا چاہیے جو مساجد کے اندر قائم ہوتا ہے اور جس کا تذکرہ ہم نے اپنی گفتگو میں کیا ہے۔ ۔۔۔۔۔(جاری)

Mohammad Asif Iqbal

Mohammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال

maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com