مدارس اسلامیہ کا تحفظ اور بقا وقت کی ضرورت: مولانا اظہار الحق قاسمی

Iftatah Madarsa Bhairopur

Iftatah Madarsa Bhairopur

حاجی پور (پریس ریلیز) اسلام کے تحفظ و بقا کے لیے مدارس اسلامیہ کا قیام ناگزیر ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب جب دشمنانِ اسلام نے سر اٹھایا ہے مدارس اسلامیہ ہی دفاع میں سب سے پہلے آگے آئے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی شناخت کو مٹانے کے لیے مدارس اسلامیہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ملت کے نوجوان طبقے کو اسلامی تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اظہار الحق قاسمی، مہتمم مدرسہ دارارقم نے موضوع بھیروپور(حاجی پور) میں مدرسہ دارالہدی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر مولانا حسن رضا(ایس این کالج، حاجی پور) نے بھیروپور کی سرزمین پر مدرسہ کے قیام پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک نیک فال قرار دیا۔ انہو ںنے کہا کہ اس وقت قومی سطح پر جو انتشار و افتراق ہے اور مسلمانوں کے خلاف منظم سازشیں ہو رہی ہیں ان سے مقابلہ کی ایک ہی صورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ مدارس کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اسکول، کالجوں میں پڑھنے والے نوجوانوں کے لیے بھی دینی تعلیم کا نظم کیا جائے تاکہ وہ اپنے مذہب ،تاریخ و تہذیب اور اسلاف کے روشن کارناموں سے واقف ہو سکیں۔ مولانا قمر عالم ندوی(مدرسہ اسلامیہ ابابکر بور) نے بھی اپنے خطاب میں مدارس اسلامیہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے ویشالی ضلع میں مدارس اسلامیہ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی خدمات سے روشناس کرایا۔مولانا توصیف امام و خطیب جامع مسجد بھیروپور نے مدرسہ دارالہدی کے قیام پر اپنی دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کے قیام کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا۔ کامران غنی صبا نے قرآن کی روشنی میں تعلیم کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایسے مکاتب کے قیام پر زور دیا جہاں فروعی معاملات میں الجھائے بغیر دین کی بنیادی تعلیمات کو اہمیت دی جائے تقریب کی صدارت ڈاکٹر مفیض الرحمن نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ منیر احمد(سکریٹری مدرسہ ہذی) نے انجام دیا۔

اس سے قبل پروگرام کا آغاز احتشام جاوید نے تلاوت قرآن سے کیا۔ نیر اعظم نے تہنیتی قطعات پیش کیے۔ اس موقع پر انصاف منچ ویشالی کے ضلع سکریٹری اکبر اعظم نے بھیروپور سے میٹرک کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے ہونہار طالب علم محمد دانش کو انعام سے نواز کر عزت افزائی کی۔ مولانا حسن رضا کی دعا اور منیر احمد کے اظہار تشکر کے ساتھ اس افتاحی تقریب کا اختتام ہوا۔ پروگرام میں ڈاکٹر حسیب الرحمن،ڈاکٹر مشتاق احمد، طارق انور، علی الرحمن، رضوان الرحمن،شہاب احمدصبا،ارشد رضا،شکیل احمد، شہاب الرحمن صدیقی،صنوبر اعظم، قمر اعظم ، صدر عالم ندوی،اکبر اعظم وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔