دودھ کا دودھ اللہ کا نور دوسرا حصہ

Milk

Milk

تحریر : چوہدری غلام غوث
دودھ میں ملاوٹ کو روکنے اور اس کی جگہ کیمیکلز کا نیا سفید زہر فروخت کرنے کے خلاف حکومتی اقدامات میں انتہائی سرد مہری پائی جاتی ہے ۔اپنی آنے والی نسلوں کے صحت مند مستقبل کے بارے میں حکومتی ویژن میں فکر مندی نہیں پائی جاتی جو کہ از خود باعث تشویش بات ہے۔ عوامی احتجاج اور شکایات پر حکومت کی طرف سے ٹی وی اور اخبارات میں ملاوٹ کے خلاف کارروائی کے اشتہارات اور اعلانات نشر ہوتے ہیں یا پھر مال روڈ کو بینرز اور فلیکسز سے بھر دیا جاتا ہے مگر عملی اقدامات خال خال نظر آتے ہیں جو کہ سراسر حکومتی مشینری کی اس انتہائی اہم ایشو پر عدم دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں ۔بدقسمتی سے دودھ کی ملاوٹ کی چیکنگ کے لیے کو ئی مستند اور معیاری لیبارٹری موجود نہیں ،ٹیموں کے پاس محض دودھ میں پانی و چکنائی چیک کرنے کے آلات ہوتے ہیں دیگر مضر صحت اور ناپسندیدہ کیمیکلز کو چیک کرنے کے سائنٹفک آلات موجود نہیں ہوتے جس سے دودھ کا مکمل کوالٹی و معیار چیک کیا جا سکے۔

بدقسمتی سے گائے اور بھینسوں کے دودھ کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے ٹیٹرا سائکلین کا انجیکشن لگایا جاتا ہے۔ جو ٹیکہ دنیا بھر میں دودھ دینے والے جانوروں کے لیے ممنوع ہے اس ٹیکے سے حاصل شدہ دودھ پینے سے ہماری نسل کے نشوونماپاتے بچے، بچیاں قبل از وقت بالغ عمری میں پہنچ جاتے ہیں اور بعض کے قد بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں۔انسانی صحت اور قوم کے مستقبل سے کھیلنے والے ان درندہ نما انسانوں اور موت کے سوداگروں کے خلاف کوئی مؤثر اور جامع قانون موجود نہیں جس سے ان کے گر د قانون اپن آہنی شکنجے کس سکے ۔عوام میں بھی شعورو آگہی کی شدید کمی ہے کیمیکلز ملے دودھ کی بناوٹ بارے لوگ کم ہی جانتے ہیں جس سے مکرو دھندہ کرنے والوں کو کھُلی آزادی ہے ۔حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کو اس انتہائی اہم مسئلہ پر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے جاندار کردار ادا کرنا چاہیئے اس کاروبار میں ملوث درندون کو وارننگ یا جُر مانہ کر کے چھوڑ دینا بھی سخت لاپرواہی کے زُمرے میں آتا ہے ۔پچھلے دنوں اعلیٰ عدلیہ نے اس معاملے پر نوٹس لیا تھا مگر مؤثر قانون سازی کی عدم موجودگی آڑے آئی۔ قانونی سقم اور آئینی موشگافیوں کے پیش نظر دودھ بنانے والی کمپنیوں کو وارننگ یا معمولی جرمانے عائد کر کے قصہ ء مختصر کر دیا گیا اور زندگی پھر سے معمول کے مطابق رواں دواں ہے ۔ نہ کسی کو تشویش لاحق ہوئی اور نہ ہی کسی مقتدر کے کان پر جو ُںرینگی۔اس سے ہمارے حکمرانوں اور قوم کی اجتماعی نفسیات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

جس جذبے سے اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے نئی نسل کی نشوونما کے لیے دودھ جیسی بنیادی خوراک میں ملاوٹ کے ذمہ داروں کے خلاف نو ٹس لیا گیا تھا ۔اگر مؤثر اور جاندار قانون موجو دہوتا تو اس مکروہ دھندے میں ملوث درندے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے حاکم وقت کو بھی فکر مندی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کا سارے کا سارا دھیان کس جانب ہے اور اُن کی ترجیحات کیا ہیں؟

پریس و الیکٹرانک میڈیا کے خوف کی وجہ سے ملٹی نیشنل اور مقامی کمپنیوں نے ڈبوں پر اب دودھ یا Milk لکھنا بند کر کے اس پر وائٹنر یا چائے بنانے کا پاؤڈرلکھ کر کھلے عام نہ صرف قوم کی صحت کا بیڑا غرق کر رہے ہیں بلکہ ملک بھر میںفراڈ اور دھوکہ دہی کے ساتھ قانون شکنی کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں ۔ستمبر 2008 میں ہانگ کانگ میں چین کی معروف ملٹی نیشنل سوٹیس کمپنی کے اے کلاس دودھ برانڈ میں زہریلے کیمیکل میلامائن کی ملاوٹ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا معصوم بچوں کی ہلاکت اور سینکڑوں افراد کے بیمار ہو کر ہسپتال پہنچنے کے عمل نے حکومتوں کی کارکردگی اور گڈ گورنس پر جب سوال اٹھائے تو اس دودھ کا تجزیہ کروایا گیا اور میلا مائن کی معمولی مقدار کے باوجود ہانگ کانگ اور چین میں اربوں روپے کا دودھ ضائع کر دیا گیا اور اس کمپنی کے دودھ خریدنے پر پابندی لگا کر بلیک لسٹ کر دیا گیا اس کے بعد بھارت سمیت کئی ملکوں نے اس کمپنی سے اپنے معاہدے منسوخ کر دئیے۔

میلا مائن جو چمڑے اور پلاسٹک کی عام استعمال کی اشیاء میں چمک اور نفاست لانے کے لئے استعمال کیا جاتاہے دودھ میں ملا کر اس کمپنی نے دودھ کی چمک تو بڑھا دی لیکن صارفین کی صحت کے ساتھ ظلم ِ عظیم کیا۔ ملک بھر میں دستیاب ڈبہ پیک دودھ یا نقلی دودھ دونوں میں میلا مائن مقررہ مقدار سے زیادہ ڈالا جاتا ہے جس سے کینسر اور گُردے کے امراض عام ہو رہے ہیں اس سے نہ صرف بچوں کی نشوونما رُک جاتی ہے بلکہ بڑوں میں یہ دودھ استعمال کرنے پر گھٹنوں کی تکلیف کے امراض دن بدن بڑھ رہے ہیں اور مساجد میں لوگ کُرسیوں پر بیٹھ کر نماز پڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ میلا مائن کی وجہ سے گردوںمیں پتھریاں بننا شروع ہو جاتی ہیں ۔جبکہ یورپ میں معروف دودھ بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنی نے اپنے ڈبوں پر ایک جملہ لکھا ( یہ دودھ ماں کے دودھ کا نعم البدل ہے) تو اس پر پورے یورپ میں شدید احتجاج شروع ہو گیا اور لوگوں نے نہ صرف اس کمپنی کا بائیکاٹ کیا بلکہ میڈیا کے ذریعے سے اتنا زیادہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ کمپنی یہ الفاظ واپس لینے پر مجبور ہو گئی اور اُن ملکوں کے باشندوں سے تحریری طور پر معذرت کی اور اُن کے مؤقف کی تائید کی کہ ماں کے دودھ کا نعم البدل دُنیا کا کوئی دیگر دودھ نہیں ہو سکتا۔

قارئین کرام! پاکستان میں کھلے دودھ کے استعمال کا کلچر کافی پرانا ہے ایک زمانہ تھا جب دودھ کو خدا کا نور سمجھا جاتا تھا اور اس میں ملاوٹ کو گھناؤنا اخلاقی جرم تصور کیا جاتا تھا۔ زیادہ منافع ، حرصِ دولت کے لالچ نے دودھ میں ملاوٹ کے قبیح جرم کو جنم دیا۔ شروع شروع میںجب گوالے دودھ میں پانی کی ملاوٹ کرتے تو لوگ گوالوں سے دودھ پتلا ہونے کی شکایت کرتے۔ بجائے اس کے کہ وہ اس کا ازالہ کرتے اُنہوں نے خود سے دودھ گاڑھا کرنے کے خطرناک طریقے ایجاد کر لیے۔ کھلے دودھ کی فروخت پربھی تنقید ہونا شروع ہوئی تو ڈبوں میں پیک دودھ کی فروخت کو رواج دیا گیا اور آج نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ڈبہ پیک خشک ، مائع دودھ اور ڈیری مصنوعات زہریلے کیمیکلز اور مضر صحت اجزاء کے ساتھ تیار کر کے منہ مانگے داموں مارکیٹ میں سرِعام فروخت کیا جارہا ہے ۔ڈبہ بند ڈیری مصنوعات کے دودھ میں پرو ٹین کے مصنوعی اضافے کے لئے کیمیکلز اور یوریا کھاد کا استعمال ڈھکا چھپا نہیں اس قسم کے دودھ کا استعمال کرنے والے افراد بلڈ پریشر ،فالج ،لقوہ ،امراض قلب ، امراض جگر اور خواتین زچگی میں پیچیدگی جیسے امراض کا شکار ہیں۔

صوبہ پنجابن مُلک کی آبادی کا ساٹھ فیصد ہے یہاں روائتی طور پر دودھ کا استعمال زیادہ ہے اور کثیر تعداد میں لوگ اس کاروبار سے منسلک ہیںجبکہ اس اہم مصنوعات کے کاروبار کو اپنے شہریوں کے لیے صحت مندانہ بنانے کے بارے میں حکومتی اقدامات انتہائی ناکافی ہیں۔خادم پنجاب نے خوردونوش کی اشیاء میں ملاوٹ کے دھندے کو روکنے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی بنائی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر صحت دے کر قوم کا مستقبل محفوظ کیا جائے مگر اس محکمے میں جس عالمی معیار کے آلات اور لیبارٹریز درکار ہیں وہ میسر نہیں۔ مؤثر اور جاندار قانون سازی موجود نہیں ، قوم کو شعور اور آگہی دینے کا نظام نہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی الہامی کتاب قران مجید میں بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلانے کا حکم دے کر یہ بات اس کی گھٹی میں ڈال دی ہے کہ ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ بات حکمرانوں کے لیے انتہائی غور طلب اور قابلِ عمل ہے اور اُن کی خصوصی توجہ چاہتی ہے ۔ بہر حال پارلیمنٹ ،عدلیہ ،ایگزیکٹو تینوں متوازی طاقتوںکو اس اہم مسئلہ پر اپنا بھر پور اور ناقابل فراموش کردار ادا کرتے ہوئے مثالی اقدمات اٹھانے چاہئیں۔

Ch Ghulam Ghaus

Ch Ghulam Ghaus

تحریر : چوہدری غلام غوث