واقعہ معراج

Shab e Miraj

Shab e Miraj

تحریر : شاہ بانو میر

قرآن پاک میں واقعہ معراج کا ذکر یوں ملتا ہے کہ “” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات مسجد اقصیٰ لے گیا تا کہ ہم اسے اپنی ذات کے کچھ نمونے دکھائیں “” اسراء کا لفظی معنی ہے رات کو چلنا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جانے کی بات ہے
پھر آگے جانے کی بات ہے
تا کہ ہم آپﷺ کو اپنی نشانیاں دکھائیں
پھر اگر ہم مانیں کہ معراج رجب میں تھی اور اس رات میں تھی تو اصل واقعہ ہے اور پھر مقصد کہ کیوں وہ واقعہ پیش آیا
کہ آپﷺ کو اپنی نشانیاں دکھائیں
آپﷺ نے دیکھیں اور ہمیں بتائیں
“” النجم”” میں اس واقعے کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔
ان آیات میں آپﷺ کے آسمانوں میں جانے اور وہاں سدرة المنتہاء اور آس پاس کی چیزیں دیکھنے کا اشارہ ملتا ہے اس کے آخر میں جو بات کہی گئی ۔
آپﷺ نے دیکھیں کیا؟ اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں
آپکو معراج کیوں کروائی گئی تھی
آسمانوں پر کیوں لے جایا گیا
یہ سب منظر کیوں دکھایا گیا
تا کہ آپﷺ کو عین الیقین کے ساتھ کچھ حقائق دیکھیں اور واپس آکر لوگوں کو بتائیں اور لوگ اُن سے فائدہ اٹھائیں
“”قسم ہے ستارے کی جب وہ جھکے تمہارے ساتھی نے نہ راہ گم کی ہے
اور
نہ ٹیڑہی راہ پر ہے اور نہ اپنی نفسانی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں””
وہ قرآن تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے
جو زور آور ہے وہ سیدھا کھڑا ہو گیا اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا
پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا بس دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا اس سے بھی کم
اس سے بھی کم
پس اس نے خدا کے بندے کو پیغام پہنچایا جو بھی پہنچایا
جو دیکھا اس کو پیغمبر کے دل نے جھوٹ نہیں کہا
کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو پیغمبر دیکھتے ہیں
اسے تو ایک مرتبہ اور دکھایا تھا
اور
البتہ تحقیق اسﷺ نے دیکھا تھا ایک مرتبہ اور جبرئیل کو سدرة المنتھیٰ کے پاس
اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے جب سدرة کو چھپائے جا رہی تھی وہ چیز جو چھپائے جا رہی تھی
باقی تفصیلات کہ وہ نشانیاں کیا تھیں؟
اللہ سبحان و تعالیٰ نے صرف یہ بتایا کہ نشانیاں دیکھی تھیں وہ کیا تھیں وہ تفصیل ہمیں احادیث سے ملیں گی
معراج والی رات بیت اللہ شریف سے آپکو بلایا گیا آپ کچھ اور لوگوں کے ساتھ سو رہے تھے
آپ کے پاس 3 فرشتے آئے تھے ان میں سے ایک نے پوچھا کہ ان میں سے کون ہے؟
درمیان والے کہا
یہ سب میں سے اچھے ہیں
آخر والے نے کہا انہیں لے چلو
اس رات یہی ہوا اور آپ نے انہیں نہیں دیکھا
دوسری رات پھر آئے آپ سو رہے تھے
آنکھیں سو رہی تھیں آپ کا دل جاگ رہا تھا
تمام انبیاء کی نیند ایسی ہی ہوتی ہیں
انہوں نے اس رات کوئی بات نہیں کی آپکو اٹھا کر زم زم کے پاس لٹایا
گردن تک جبرئیل امین نے خود سینہ چاک کیا
سینہ اور پیٹ کی تمام چیزیں نکال کر انہیں زم زم کے پانی سے خود دھویا
جب خوب صاف کر چکے تو سونے کا ایک طشت لایا گیا
جس میں ایک سونے کا پیالہ جو حکمت ایمان سے پر تھا
اس سے سینے اور رگوں کو پُر کر دیا پھر سینے کو سی دیا گیا ۔
اس زمانے میں جب آپﷺ نے یہ بتایا تو لوگ سن کر ہل گئے
ان کو اگر یہ بتا دیا جاتا کہ
تمہارے بعد تقریبا 1400 سال بعد عام انسان سینہ چیر کر دل بدلیں گے تو کوئی یقین نہ کرتے
سوچیں آج انسان نے یہ مہارت حاصل کر لی ہے تو 1400 سال پہلے فرشتوں سے کیوں امید نہیں کی جا سکتی
جو زمین سے آسمان اور زمین سے آسمان تک کیسے پرواز کرتے اور اپنے رب کے احکامات بجا لاتے ہیں کیوں ممکن نہیں تھا؟
پھر آپ کے پاس سواری براق لائی گئی جو براق تھا
جو صحیح معنوں میں برق رفتار تھا منتہائے نظر پر ایک قدم رکھتا تھا جہاں نگاہ جا کر ٹکتی تھی اس کا قدم ایساہی تھا
حضرت جبرئیل نے اسے پکڑ کر آپﷺ کو اُس پر سوار ہونے کا کہا
آپ سوار ہونے لگے تو وہ شوخیاں کرنے لگا
جبرئیل نے اس کو کہا
کہ تجھے معلوم ہے کہ آپﷺ سے زیادہ مکرم و محترم کوئی نہیں جو تجھ پر سوار ہو رہے ہیں؟
یہ سن کر براق پسینہ پسینہ ہوگیا
آپ ﷺ اس پر سوار ہو گئے حضرت جبرئیل ہمرکاب ہوئے
بیت اللہ سے بیت المقدس تک کا سفر طے ہوا اور یہاں آپﷺ نے تمام انبیاء کرام کی امامت کی اور نماز پڑہی
سفر کا دوسرا حصہ شروع ہوا
دوبارہ براق لایا گیا آپ پہلے آسمان تک پہنچے جبرئیل نے دروازہ کھلوایا
پوچھا گیا کون؟
جبرئیل نے بتایا
پوچھا ساتھ کون ہے؟
جبرئیل نے تعارف کروایا
پوچھا گیا کیا ان کے پاس پیغام ربی ہے؟
کہا ہاں
دروازہ کھول دیا گیا
مرحبا آپ بہت اچھا آئے
پہلے آسمان پر حضرت آدم ؑ موجود تھے جبرئیل نے بتایا آپ کے والد آدم ہیں سلام کیجئے
آپﷺ نے حضرت آدمؑکو سلام کیا تو جواب میں وہ بولے
مرحبا فرزند صالح نبی صالح
پھر دوسرے آسمان گئے ایسے ہی سوال دہرائے گئے پھر دروازہ کھول کر مرحبا کہا گیا
سلام کیا آپﷺ نے جبرئیل امین نے بتایا کہ یہ عیسیٰ اور یحییٰ ؑ دونوں بھائی بھی ہیں
انہوں نے سلام کے جواب میں کہا
مرحبا نبی صالح فرزند صالح نبی یحیٰ
تیسرے آسمان پر گئے دروازہ کھٹکھٹایا پوچھا گیا کون ؟
جبرئیل نے بتایا
پھر پوچھا ساتھ کون ہے
آپ ﷺ کا بتایا
کیا پیغام الہیٰ ہے؟
اثبات میں جواب ملا تو دروازہ کھول دیا گیا
وہاں حضرت یوسف ؑ موجود تھے جبرئیل نے کہا سلام کیجیۓ
انہوں نے کہا مرحبا برادر صالح مرحبا نبی صالح
جبرئیل لے کر آپکو آگے بڑھے چوتھے آسمان پر وہاں حضرت ادریسؑ تھے
انہیں سلام کہا
ا نہوں نے مرحبا اور برادر صالح اور نبی صالح کہا
حضرت ھارون 5 ویں آسمان پر تھے سلام کرنے پر انہوں نے مرحبا برادر صالح نبی صالح کہا
6 آسمان پر حضرت موسیٰؑکو دیکھا جب آپﷺ ان کو چھوڑ کر آگے جانے لگے تو وہ رو پڑے
پوچھا کیوں رو رہے ہیں تو بولے کہ
ایک نوجوان میرے بعد نبی مبعوث ہوئے اورجنت میں میری امت سے زیادہ ان کی امت کے لوگ جنت میں داخل ہوں گے
تو مجھ کو اپنی امت پر حسرت ہے کہ انہوں نے میرا اس طرح اطباع نہ کیا جیسے آپکی امت آپکا اطباع کرے گی
اس لئے میری امت کے بہت سے لوگ جنت سے محروم رہے تو ان کے حال پے رونا آتا ہے
پھر ساتویں آسمان پر ابراہیم ؑ تھے
کہا گیا انہیں سلام کیجئے انہوں نے جواب میں آپکو مرحبا کہا اور فرزند صالح نبی صالح کہا
حضرت ابراہیمؑ اپنی کمر بیت المعمور سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے
مسلم کی روایت ہے وہاں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ساتویں آسمان پر جہاں حضرت ابراہیمؑ کو رکھا گیا
پہلے دن طواف کئے ہوئے فرشتے کی باری دوبارہ نہیں آئی ۔
دنیا میں حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ بنایا اس اعزاز میں آپکو وہاں رکھا گیا ۔
بخاری میں ہے کہ
میں ایسے ہموار میدان میں پہنچا جہاں میں نے قلموں کے لکھنے کی آوازیں سنیں
اللہ نے مجھ پر میری امت پر 50 وقت کی نمازیں فرض کیں
سورت البقرہ کی آخری 2 آیات عنایت ہوئیں
مسلم میں ہے کہ جو شرک نہ کرے بخشا جائے گا
کئی جگہوں پر لکھا ہے کہ اس رات آپ نے اللہ کا دیدار کیا
ترجیحی روایت ہے کہ آپﷺ نے کلام فرمایا ۔
( مسلم )جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اور نہ کرے تو اجر ملے گا اور کوئی گناہ کا ارادہ کرے اور گناہ نہ کرے تو سزا نہیں ملے گی
آپﷺ نے جنت جہنم کو دیکھا جہنم میں زیادہ تر عورتیں دیکھیں اور جنت میں غرباء مساکین کو دیکھا
واپسی پرحضرت موسیٰ ؑ سے ملاقات ہوئی انہوں نے پوچھا کہ آپکو کیا ملا؟
آپﷺ نے بتایا کہ 50 نمازیں ملیں
موسیٰ نے کہا میں بنی اسرائیل کی نافرمانی سے خوب جان چکا ہوں
آپ واپس جائیں اور نمازوں میں تخفیف کروائیں
آپﷺ واپس گئے اور کم کرنے کی درخواست کی اللہ سبحان و تعالیٰ نے دس کم کر دی گئیں
واپس آئے اور موسیؑ کو بتایا موسیٰؑ نے کہا ابھی بھی زیادہ ہیں
موسیؑ نے پھر کہا واپس جائیں اور معافی کی اپیل کریں
گئے اور کمی کا کہا مزید 10 کم کر دی گئیں
پھر موسیؑ نے کہا جائیں کم کروائیں پھر گئے مزید 10 کم کر دی گئیں
یوں کم کرتے ہوئے 5 رہ گئیں
آپکو موسیؑ نے پھر کہا تو آپ نے جواب دیا
اب مجھے شرم آتی ہے
جب میں وہاں سے واپس آیا تو
ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا کہ
میں نے اپنا فرض پورا کر دیا بندوں سے تخفیف کر دی ۔
پانچ نمازیں پچاس کے برابر ہیں۔
میں جہاں سے گیا تھا وہیں واپس آگیا
واپس آکر جب آپ نے بیان کیا تو بہت سوں کے ایمان متزلزل ہو گئے
ہو سکتا ہے یہ سن کر اب بھی بہت سوں کے دل ہل گئے کہ کیسے آپﷺ نے یہ سب دیکھ لیا۔
مشکل اسی وقت ہو سکتی ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک کرے
اگر اس بات کا یقین یہ ہو کہ اللہ کےہاں کچھ مشکل نہیں
وہ کُن کہ کرکچھ بھی کر سکتا ہے کسی سے کروا سکتا ہے
ایک اشارے پر تہ و بالا کر سکتا ہے ایک لمحے میں کچھ بھی کر سکتا ہے
مسلم میں ہے کہ
حضورﷺ نے جب معراج کا یہ واقعہ مشرکین مکہ کو سنایا تو انہوں نے تردید کی اور تکذیب کی
انہوں نے بیت المقدس کی نشانیاں دریافت کرنی شروع کر دیں کہ کیسا ہے بیت المقدس ؟
اللہ پاک نے بیت المقدس کوآپﷺ کے سامنے ظاہر کر دیا اور آپ اس کو دیکھ کر نشانیاں بیان کرتے جاتے ۔
ان باتوں سے واضح ہو گیا کہ آپﷺ بحکم الہیٰ بیت المقدس اور وہاں سے ساتویں آسمان پرجسم کےساتھ گئے اور واپس آئے
روح جسم کی بیداری کے ساتھ گئے ۔
قرآن پاک میں اسی کا ذکر ملتا ہے کہ
“” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات مسجد اقصیٰ لے گیا تا کہ ہم اسے اپنی ذات کے کچھ نمونے دکھائیں””
قیامت میں حساب ہوگا کون لوگ تھے جو جنت اور جہنم میں تھے ؟
یہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو برزخ میں ہیں
اگرچہ سب کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا
لیکن کچھ لوگوں کو بطور تمثیل دوزخ میں ڈالا کر دکھا دیا اور ہو سکتا ہے کچھ کے ساتھ ہونے والا ہے ان کی شکلیں بنا کر دکھا دیں
واقعہ معراج پر بحث کی بجائے اس میں عمل کی نقاط تلاش کر کے اپنے لئے صراط المستقیم کو تلاش کر کے اس پر استقامت سے چلنے کی کوشش کریں
رّبنا تقبّل مِنّا (آمین)

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر