مودی سرکار سے حکمرانوں کی دوستی کب تلک؟

Nawaz and Modi

Nawaz and Modi

تحریر : قرة العین ملک
دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق و دیگر جماعتوں کے قائدین نے بھارتی و امریکی دبائو پرحافظ محمد سعید کی نظربندی کے خلاف آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے9فروری کو اسلام آباد میں سپریم کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ محمد سعید محب وطن پاکستانی ہیں ۔کشمیریوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لئے حافظ محمد سعید کو رہا کیا جائے۔حافظ محمد سعیداور جماعة الدعوة دفاع پاکستان کونسل کے اہم و سرگرم رکن ہیں۔انکے خلاف ہونے والی کاروائی کو دفاع پاکستان کونسل کے خلاف کاروائی تصور کیا جائے گا۔دفاع پاکستان کونسل حکومت کی جانب سے حافظ محمد سعید اورجماعة الدعوة کے دیگر چار رہنمائوں کی نظربندی کی شدید مذمت کرتی ہے۔ حافظ محمد سعید نے کشمیری قیادت نے حریت قیادت کی موجودگی میں 2017کو کشمیریوںکا سال قرار دیا تھا اور26جنوری سے پانچ فوری تک عشرہ کشمیر منانے کا اعلان کیا تھا،مولانا سمیع الحق نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ایک پاکستانی معزز شہری کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں نظر بند کر کے نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے۔وہ کشمیر کی آزادی کے لئے بات کرتے ہیں ۔ان کو پابند سلاسل کرنے کا مطلب حکومت نے کشمیر سے لاتعلقی کر لی ہے،حکومتی اقدامات ست لگتا ہے کہ ان کی کشمیر پر باتیں منافقت پر مبنی ہیں۔

کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد،قدرتی آفات ،زلزلوں،سیلاب میںجماعة الدعوةنے لوگوں کی مدد کی،ان کے رضاکارپہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی پہنچے۔ حافظ محمد سعید نے 26دسمبر کو قومی مجلس مشاورت بلائی تھی اور طے کیا تھا کہ سال2017کشمیر کے نام اور عشرہ یکجہتی کشمیر منائیں گے۔مودی ان اعلانات سے خوفزدہ ہوا۔حافظ محمد سعید صرف جماعة الدعوة کے امیر نہیں۔دفاع پاکستان کونسل ملکی سرحدات ،نظریات کے دفاع کے لئے کام کر رہی ہے،فرقہ واریت کے جھگڑے ہم نے ختم کر دیئے۔،تمام دینی ،سیاسی و کشمیر ی جماعتیں اس میں شامل ہیں۔دفاع پاکستان کونسل کو سیاست سے الگ رکھا ہے،جب نیٹو کی سپلائی بند کرنے کے لئے تحریک چلائی گئی تو ہم کامیاب ہوئے۔حافظ محمد سعید کو نظر بند کر کے دفاع پاکستان کونسل کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی ہے ہم ان کی نظر بندی پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔9فروری کو دفاع پاکستان کونسل کی سپریم کونسل کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔جو جماعتیں کونسل میں نہیں ان کو بھی اجلاس میں بلائیں گے۔کشمیر پر پوری قوم کو یکجا ہو کر احتجاج کرنا چاہئے۔ بھارت کا کئی سالوں سے مسئلہ چل رہا ہے اور حکومت کہتی رہی کہ حافظ محمد سعید کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ۔بھارت ثبوت دے لیکن اب ٹرمپ کے آنے کے بعد حافظ محمد سعید کو فوری نظر بند کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے بھارت کی باتیں تسلیم کرکے ملک سے غداری کی۔حکومت کے پاس جو ثبوت ہیں فوری سامنے لائے جائیں۔ہم کوشش کریں گے کہ حافظ سعید جلد رہا ہوں۔ہم ان کی تحریک جاری رکھیں گے اور انکی خواہشات کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ایک شخص کی نظربندی سے جدوجہد ختم نہیں ہو گی۔ آزادی کی جنگ لڑنا دہشت گردی نہیں۔پاکستان کی آزادی بھی جہاد کے بغیرممکن نہیں۔حکمران اپنے رویوں پر غور کریں۔اور سامراجی طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے حکومت اقدامات روکیں۔ چین کے حوالہ سے باتیںکرنے والے پاک چین اقتصادی راہداری کے دشمن ہیں۔ نو فروری کے اجلاس کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے مولانا فضل الرحمان خلیل اس کے سربراہ ہیں جو سب سیاسی و مذہبی جماعتوں ،حکومت و اپوزیشن کو دعوت دیں گے۔9فروری کو اجلاس میں مشاورت کے بعد ضرورت پڑی تو عدالت میں جانے کا اعلان کریں گے۔سب عدالتوں نے حافظ محمد سعید کو بری کیا ہے ۔ عالم کفر مسلمانوں کے خلاف جنگ کر چکا ہے۔ حافظ محمد سعید نظربندی کے لئے غلط وقت کا چنا گیا۔

Donald Trump

Donald Trump

ٹرمپ دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑ رہا ہے ایسے وقت میں ایسا اقدام جس سے مودی و ٹرمپ خوش ہوں اور ان دونوں کا اتحاد ہو یہ ان کو خوش کرنے والی بات ہے۔حکمرانوں کو ٹرمپ کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے تھا۔مودی ٹرمپ نے مسلمانوں کو اچھوت سمجھا ہوا ہے۔،لیکن مسلمان حکمران خاموش ہیں۔لبرل و سیکولر لوگوں کے دماغوں پر پردہ چڑھا ہوا ہے کہ امریکہ ہمارا دوست ہے۔اب اسلام دشمن اقدامات سے سب کے سامنے آگئے ہیں،۔ٹرمپ نے سب پردے چاک کر دیئے۔پاکستانی حکمرانوں کو وقت کا احساس کرنا چاہئے تھا۔جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ جماعة الدعوة کے خلاف فورتھ شیڈول،نظر بندی،میڈیا ٹرائل یہ صرف ٹرمپ یا دہلی کا مسئلہ نہیں بلکہ اسلام آباد کے حکمرانوں نے کشمیر کی تحریک کو سبوتاذژ کیا ہے۔کشمیریوں کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور مودی کے حوصلے کو بحال کیا گیا ہے۔وزراء کہتے ہیں کہ شہادتیں اور ثبوت موجو دہیں ،ہم کہتے ہیں کہ جماعة الدعوة کے حوالہ سے عدالتوں کے فیصلے ریکارڈ پر ہیں۔ صوبائی وزیر کا بیان آیا کہ کشمیر پر موقف الگ ہے،ہم سے بات کریں،ہم کشمیر کو شہہ رگ کہتے ہیں۔مسئلے کے حل کے لئے حق خود ارادیت ،اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بات کرتے ہیں۔

ایشیا پئسفک گروپ کی بات کی گئی تا کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ جیسے کیسوں میں الجھا یا جایے۔دفاع پاکستان کونسل کے ہنگامی اجلاس میں مطالبہ کرتے ہیں کہ حافظ محمد سعید کو پانچ فروری کے لئے رہا کیا جائے تا کہ سید علی گیلانی و دیگر کشمیریوں کا اعتماد بحال ہو۔ تحریک آزادی جموں کشمیر چھ ماہ سے عروج پر ہے،کشمیر میں نوجوان قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔کشمیر کو پاکستان میں شامل کیا جائے گا ،کشمیر کو آزای ملے گی،یہ نوشتہ دیوار ہے۔ حافظ محمد سعید نے کشمیریوں سے یکجہتی کا اعلان کیا تو بھارت دہل گیا ،امریکہ و بھارت نے پاکستان پر دبائو ڈالا تو کاغذی شیروںنے کشمیر کی تحریک کو روکنے اور پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کو سبوتاژ کرنے کے لئے حافظ محمد سعیدکو نظر بند کیا تا کہ مودی سرکار سے دوستی نبھائی جاسکے۔ کشمیر کے حوالہ سے پروگرام جاری و ساری ہیں اور انہیں جاری رکھا جائے گا۔حافظ محمد سعید کی گرفتاری سے جذبے سرد نہیں بلکہ سربلند ہوں گے۔

Hafiz Saeed

Hafiz Saeed

گرفتاری کے وقت حافظ محمد سعید نے پیغام دیا کہ پانچ فروری کو پہلے سے بھی مضبوط پیغام سید علی گیلانی کے نام جانا چاہئے تا کہ کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوں۔حکمرانوں کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔جماعة الدعوة امن،اتحاد،دعوت ،خدمت انسانیت کی جماعت ہے،امریکی غلامیاں،خوف حکمرانوں کو مبارک ہو پاکستانی قوم جماعة الدعوة کے ساتھ کھڑی ہے۔مسلم لیگ(ق) کے سینئر نائب صدر اجمل خان وزیر نے کہا کہ ہاٹ آف ایشیا کانفرنس میں سرتاج عزیز کی جو عزت ہوئی سب کو پتہ ہے،اس میں مودی نے جو بات کی حافظ محمد سعید کی نظربندی کر کے اس کی توثیق کی گئی۔ حافظ محمد سعید کی نظر بندی کے خلاف اگر کوئی ثبوت موجود ہے تو اسے سامنے لایا جائے اور انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔

تحریر : قرة العین ملک