ماہ صیام، ماہ تجدید میثاق

Ramadan

Ramadan

تحریر : نعمت اللہ مسعود
اللہ تعالی جلہ جلالہ اپنی مخلوق پر بہت ہی شفقت اور مہربانی فرمانے والی ذات عظیم ہے۔ اس نے جہاں اس کائنات میں اپنی مخلوق کی آسائش اور نعمت کے سامان مہیا کیے ہیں۔ وہیں اس نے اپنی مکلف مخلوق جن و انس کی دنیٔوی اور اُخروی نجات کا اہتمام بھی کیا ہے چونکہ اس کا دعوٰی ہے کہ میں نے جن و انس کو صرف اور صرف اپنی ہی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے اس نے وظیفہ ہائے عبادات کے بیان کرنے اور ان کے عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے انسانیت ہی میں سے اپنے بہترین تخلیق کردہ انسانوں کو انسانیت کی روحانی اور مادی رہنمائی کے لیے انبیاء رُسل بنا کر مبعوث فرمایا جنہوں نے تعلیم الٰہی سے عبادت رب اور اس کے متعلقہ تقاضے بھی انسانوں کے سامنے پیش کیے تاکہ انسانیت فلاح ، کامرانی کی راہ پر چل کر اپنے رب کی رضاء حاصل کر کے اس کی طرف سے نعمت و انعام کی مستحق ٹھہرے۔اورساتھ ہی اخروی کامیابی کی نعمت حاصل کر کے تخلیق کائنات کے مقصداولیٰ یعنی عبادت رب کی عملی شہادت بھی پیش کر سکے اللہ تعالی نے تمام اعمال صالحہ کا مقصود تقوی کو قراردیاہے ۔ جس کا لفظی اور لغوی معنی ہے ،بچنا،اصلاح شرعی میں تقوٰی سے مراد منکرات ،رذائل،شیطانی اخلاق شیطانی عادات وخصائل نفسانی خواہشات کی پیروی اور نفس کی ہمہ وقت اتباع سے بچنا،خود بھی بچنا اور دوسری انسانیت کو بھی اس سے اجتناب کر نے کی تاکیدکرنا اسی کا نام تقوٰی ہے اور یہی انسان کے لئے صراط مستقیم کی سیڑھی ہے۔

فرمان مقدس اور پہلی آسمانی کتابوں میں جہاں اعمال صالحہ کی ترغیب و دعوت ہے ان پر سلسلہ کلام کا اختتام حصول تقویٰ پر ہی ہوتا ہے قرآن مقدس میں سورہ بقرہ کے اندر جہاں اللہ پاک نے تمام انسانوں کو اپنی بندگی کی طرف دعوت عام دی ہے اس کا تذکرہ کچھ اس طرح ہے۔

ترجمہ : اے انسانو ں اپنے اس رب کی بندگی کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو اس لیے پیداکیا تاکہ تم پرہیزگاری (تقوٰی)اختیار کرو (بقرہ آیت نمبر١٢)اسی طرح جہاں بھی کسی ایسی عبادت کا تذکرہ اور دعوت ہے۔

تو اس کا مقصود ہی تقوٰی قرار دیا جیسا ہے چنانچہ ” قربانی ” کا ذکر کر تے ہو ئے اللہ پا ک نے سو رة حج میں ارشاد فر ما یا ہے کہ؛
”اللہ کے ہا ں نہ ان کا گو شت پہنچتا ہے نہ ان کاخون بلکہ تمہار ے (دلو ں کا) تقو ی ان کے ہا ں پہنچتا ہے” ( آیت نمبر 37)
اس طرح تمام اعمال صا لحہ کا مقصود صرف اور صرف تقوی ہے۔اسی تقوی کے حصول کیلئے اللہ تعا لیٰ نے اپنے آخری نبی ۖ کی امت کو مخا طب کر تے ہو ئے قرآن مقدس میں یوں ارشاد فرمایا،

اے ایمان والو تم پر اسی طرح روزے فر ض کئے گئے جیسے تم سے پہلے لو گو ں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم پر ہیز گاری حاصل کر و( سورة بقرة آیت نمبر 183) روزہ اصطلاح شرع میں بحکم الٰہی ایک مخصوص مہینہ میں ‘ جسے قرآن مقدس شہر رمضان یا ما ہ رمضان قرار دیتا ہے، اس ماہ میں صبح یا فجر سے قبل سے لیکر غروب آفتاب تک کھا نے پینے اور نفسانی خواہشات سے رک جانے کا نام ہے۔ 1/5
یہ در اصل اطاعت الٰہی کا عملی نمونہ ہے کے وہ بندہ جو اس سے قبل اپنے رب کی رضا مندی اور اجازت سے اپنے معمو لا ت میں کھا نے اور پینے کا محتاج تھا جو کے اس کی جسمانی حیات کی بقا کیلئے ضروری ہے۔اب اپنے رب کے حکم سے ہی ایک مخصوص وقت تک اس عمل سے اجتناب کرنے کا پابند ہ بلکہ دیگر عوارض کو بھی اس نے اپنے رب کی اطا عت اور فرمانبر داری کی خاطر محدود کر لیا ہے۔چنانچہ روز مرہ کی گفتگو اور بول چال ، بصارت ، سماعت اور قلبی و ذہنی وساوس تک وہ ہر معاملہ میں اپنے رب کی رضا اور نارا ضگی کو ملحوظ خا طر رکھتا ہے ۔اس کا جسمانی اور روحانی نظام مکمل طور پر رب کے آگے سر بسجود ہے۔اور ان سب امور کی انجام دہی کا مقصودرضا ئے رب اور حصول تقوٰی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کے روز مرہ کے زندگی کے معاملات بھی تبدیل ہو گئے چنانچہ وہ رات کو خاصا وقت ربّ کے سلسلہ ہا ئے وظائف جو کے اس کے دن کا بھی حصہّ تھے۔یعنی صلوٰة خمسہ کے ساتھ ساتھ مزید وقت صلوٰة تراویح اور تلا وت قرآن میں صرف کرتاہے قیام اللیّل کو اپنے معمولات رمضان میں شامل کرتا ہے اور یوں اپنے نفس امّا رہ کو رات کی نیند ترکر کے اسے نفس لوا مّہ اور نفس مطمئنّہ بنانے کی سعی و کا وش میں مصروف رہتا ہے تا کے راتوں کو جاگ کر عبادت الٰہی کے ذریعے حصول رضائے رب اور تقوٰی کی نعمت عظمٰی کو حاصل کر سکے۔

ٍپورے ماہ صیام میں اس کی زندگی کا مقصد ہر لمحہ اطاعت الٰہی کا نمونہ بن جاتا ہے وہ اس ماہ میں اپنے پیا رے نبی ۖکے بتائے ہوطریقوں پر چل کر پوری زندگی کے لئے نفسانی خواہشات اور اپنی زندگی کے دیگر دنیاوی معاملات کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضاء کے مطابق بسر کرنے کا عہد کرتا ہے۔ وہ عہد کرتا ہے کہ اس نے جس طرح اپنے حقیقی مالک و خالق اللہ تعالیٰ کی معرفت اور پہچان حاصل کر کے اس کے ساتھ عبودیت اور بندگی کا سچا رشتہ جوڑا ہے اسے وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک مضبوط رکھے گا۔ اپنی پوری زندگی نفس کی بے لگام خواہشات سے قطع تعلق رکھے گا، تمام حرام امور اور منہیات سے بچنے کی پوری سعی کرے گا اپنی زندگی کے معاملات احکام الٰہی اور سنت بنویہ کے مطابق بجا لائے گا اپنے رب کی عبادت اور اطاعت میں مخلوق کو شریک نہیں کرے گا۔ مخلوق کے گھڑے ہوئے لات و منات کے قوانین کی اطاعت نہیں کرے گا۔دنیاوی رسم و رواج اور زندگی کے دوسرے معاملات جو کہ کاروبار ، معیشت کرے گا دنیاوی رسم و رواج اور زندگی کے دوسرے معاملات جو کہ کاروبار ، معیشت یا سیاست سے تعق رکھتے ہوں ان مین ہر لمحہ اور ہر مرحلہ پر اپنے آقاء مالک ۔ رب عظیم کی خوشنودی کو مدنظر رکھے گا۔ اعمال صالحہ دکھاوے کی خاطر انجام نہ دے گا۔

پورے ماہ صیام میں مومن اپنے آپ کو اس روز حساب کے، اپنے آپ کو اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی کے لئے تیار کرتا رہے گا۔ کہ اگر اس ماہ صیام میں اس کی زندگی کے لمحات ختم ہو جائیں تو کیا اس کے اعمال نامہ میں کوئی ایسا عمل ہے جو کہ اس نے صرف اور صرف اسی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا ہو۔ کیا اس کے پاس کوئی ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے اس کی مغفرت ہو جائے اس کا رب اس سے راضی ہو جائے اس کی خطائوں کو معاف کر دے اور اس کی دنیاوی زندگی کی تھوڑی سی محنت اس کی کامیابی کی ضمانت بن جائے۔

اگر ایک مسلم فرد ماہ رمضان کو اس عقیدہ ، نظریہ سے گزارتا ہے تو فرمان نبوی ً کے مطابق اس کی سابقہ زندگی کی وہ خطائیں اور لغزشیں جو کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کے سلسلہ میں عملاً یا خطاً کی تھیں لیکن وہ حقوق العباد نہ ہوں، تو انھیں اللہ تعالیٰ محض اپنے لطف کرم سے معاف کر دے گا۔ اورا پنے ہاں اس کے درجات بلند کردے گا۔ اس کے آئندہ آنے والے اعمال کی اصلاح فرمائے گا اور اس کی راہ نمائی بھی فرمائے گا جیسا کہ رب کائنات نے فرمایا کہ اے ایمان والو اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں فروق کرنے کی کسوٹی عطا کرے گا اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا۔ (انفال آیت نمبر 29) 2/5
اسی طرح فرمان نبوی ہے۔
جس نے ایمان اور احتساب کی حالت میں ماہ رمضان کو راتوں میں قیام کیا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے گئے۔(الحدیث)
ساتھ یہ فرمان نبوی ۖ بھی پیش نظر رہے کہ
” جس شخص نے روزہ کی حالت میں جھوٹ اور بری حرکات کو ترک نہ کیا تو پھر اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی پرواء نہیں ہے ”

رمضان المبارک در اصل تجدید میثاق اور اللہ پاک سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ ہے۔ اسی ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی ہدایت کا ملہ کے لئے اپنی آخری وحی کا بے مثال تحفہ قرآن مقدس کی صورت میں انسانوں کو عطا فرمایا ۔جس میں دینوی اور اخروی کامیابی کے سارے طریقے اور بندگی کا منشور عطا کیا۔ اسی قرآن مقدس کے ژریعے ماہ رمضان کی نعمت امت محمدیہ (ۖ)کو عطا کی گئی اسی ماہ رمضان کے تذکرے کے دوران اللہ پاک کتاب مقدس میں اپنے بندوں کو اپنے ساتھ براہ راست تعلق جوڑنے کا طریقہ بتاتا ہے۔
چنانچہ ارشاد ربانی ہے۔
”جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو انھیں بتا دیجئے کہ میں ان سے قریب ہوں ۔جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ پس میرے بندوں کو بھی چاہیئے کہ وہ میری دعوت کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ کامیاب ہو سکیں۔ ”

(البقرہ آیت نمبر 186)

ویسے تو اللہ تعالیٰ انسان کی رگ حیات سے زیادہ قریب ہے۔ مگر رمضان المبارک کے توسط سے یہ قربت اور بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ ماہ رمضان میں انسان جب اکثر اوقات میں بحالت روزہ بحالت تقوی قرآن
قرآن مقدس کی مسلسل سماعت اور تدبر کاشرف حاصل کرتا ہے تو رحمت ربانی کا ٹھاٹھیں مارتاہواسمندراس کے قریب آجاتاہے رحمت ربانی اس کی خطائوںاورلغزشوںکو اپنے اندر سموکرایک شفیق ماں کی طرح اسے اپنی آغوش میں لے لیتا ہے اور مالک کائنات اپنے بندے کواپنی بے پناہ رحمت شفقت سے نوزائیدہ اور معصوم بچے کی طرح پاک صاف کر دیتا ہے قرآن مقدس ہی اللہ پاک کا عطا کر دہ وہ اصلی وسیلہ ہے جس پر عمل کر کے انسان اپنی روحانی اور جسمانی سربلندیوں کوکامیابی سے حاصل کر سکتا ہے جناب محمدۖنے ارشاد فرمایا۔

اللہ پاک اسی قرآن کے ذریعے بہت سی قوموںکوسربلندی عطاکرے گااور اسی کے باعث کئی اقوام بستی میں جائیں گی(الحدیث)توماہ رمضان میں ہر مومن کو اپنے تعلق بااللہ کو مضبوط کرنے کے لئے قرآن مقدس کی تلاوت کو خصوصی وقت دینا ہوگااورتلاوت بھی ایسی کرنا ہوگی جیسے اسکی تلاوت کرنے کا حق ہے اور جو کہ ایمان کا تقاضا ہے یعنی اس کو سمجھ کر پڑھنااس پر تدبر کرناغورفکرکرکے یہ معلوم کرنے کی سعی کرنا کہ میرا آقااور مالک جس نے میری ہدایت کے لئے یہ نسخہ کیمئیا میری طرف بھیجا ہے وہ مجھ سے کس طرح اپنی بندگی چاہتا ہے میں کس طرح اس کی رضاحاصل کر سکتا ہوںوہ کون کونسے امور ہے جن کا میرارب مجھ سے انجام دہی کا تقاضا کرتا ہے اور کونسے وہ مہلکات اور منکرات یا امورسیئہ ہیں جن سے مجھے بچنے کی تاکید کرتا ہے کس ہستی کی اس نے مجھے اطاعت کا علم کرنے کی تاکید کی ہے اور کس ہستی سے مجھے دور رہنے کا حکم دیتا ہے یا کسے اس نے میرا دشمن قرار دیاہے اور مجھے اس کی اطاعت کرنے سے مطعلقامنع کرتا ہے اپنے مال دولت کو کیس طرح اس کی راہ میں خرچ کرنا ہے اور کن کن لوگوں پر خرچ کرنا ہے اور کون سامال خرچ کرنا ہے مال کمانے کے کون کون سے ذرائع ہیں جو میں نے اختیار کرنے ہے اور کن کن راستوں سے
3/5
بچنا ہے ۔اپنی اولاد کی تربیت کیسے کرنی ہے گھر والوں سے کیسا سلوک کرنا اور انھیں اللہ پاک کی ناراضگی سے بچانے اور انھیں جنت میں جانے کی کس طرح راہ نمائی کرنی ہے اور انھیں جھنم میں گرنے سے بچانا ہے گویا اپنی ذات اور گھر سے لے کر معاشرہ کے دوسرے تمام افراد کے ساتھ معاملات کے بارے میں جو جو راہ نمائی اللہ پاک نے قرآن مقدس میں دی ہے اس کو غور فکر اور تدبر کرکے پڑھنا ہی حق تلاوت قرآن ہے جس کا مالک کائنات مجھ سے تقاضا کرتا ہے جب ایک مومن بندہ اسی دھیان اور نیت سے کتاب مقدس کی تلاوت کرے گا تو مالک کائنات کا وعدہ ہے کہ: جن لوگوں نے ہماری راہ (صراط مستقیم)کی تلاش کے لئے بھر پور کو شش کی توہم ضرور انکو اپنے رستے دکھائیں گے(عنکبوت آیت نمبر٩٦) تو رمضان المبارک جوکہ ماہ قرآن ہے وہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس بابرکت اور رحمت کے مہینہ میں قرآن مقدس سے اپنا خصوصی تعلق مضبوط کریں اس کی ہدایات کو سنیں اور پھر اپنے مالک حقیقی کے ساتھ تجدید عہد کریں کہ مالک ہم سے جو سابقہ زندگی میںخطائیں اور لغرشیںہوئی ہیں انھیں اپنی رحمت کے صدقے معاف فرماہم عہد کرتے ہیںکہ اپنی آئندہ زندگی تیری رضاء اور تیرے آخری پیغمبرۖ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق بسر کرنے کی کوشش کریں گے ہم نے تیرے ساتھ خالص بندگی اور عبادت کاملہ کا جو عہد کیا ہے اپنی پوری قوت اور سعی سے اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے تیری ذات، تیری صفات اور تیری اطاعت میں مخلوق میں سے کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اپنی پوری زندگی کو تیری رضا مندی کے مطابق ڈھالنے اور تیری عطاء کردہ توانائی سے تیری زمین پر تیرے ہی احکامات نافذ کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اس کام کے بغیر ہماری نجات ناممکن ہے ہمیں اپنی نجات کی خاطر،اور دائمی خسارے سے بچنے کے لیے ایمان عمل صالح حق کی تبلیغ اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر کرنا ہو گا اسی سے ہی ہماری کامیابی یقینی ہے۔ اس کے بغیر مالک ہمارے حصےّ میں خصارا ہی خصارا ہے اور اے ہمارے مالک ہمیں اپنا وہ وعدہ بھی یاد ہے جس کے نبھانے کی شرط پر تو نے ہمارے بزرگوں کی محنت، قربانی اور ہجرت کو قبول کر کے ماہ رمضان ہی کے آخری عشرہ کی عظیم المرتبت رات لیلتہ القدر کو تو نے ہمیں پاکستان کی عظیم دولت عطاء فرمائی تھی۔ جس کے بارے میں ہمارے اسلاف نے تجھ سے وعدہ کیا کہ ہم اس پاک زمین پر تیرا ہی نظام تیرے نبیۖ کا نظام تیری کتاب میں بتایا گیا ہے وہ نظام اور قانون نافظ کریں گے۔

مالک الملک! ہم تیرے ساتھ یہ وعدہ نبھانہ سیکھے اور نہ ہی کبھی اس بد عہدی کا احساس ندامت ہی ہمارے دل میں پیدا ہوا مالک الملک ہم نے تیری کتاب مقدس میں دیئے ہوئے ضابطہ حیات کے بجائے اپنی نفسانی خواہشات کی پوجا کرتے ہوئے انسانوں کے بنائے ہوئے خود ساختہ قوانین کو تیری دھرتی پر نافظ کیا اور اس کے مقابلے میں تیرے پسندیدہ دین اسلام کے قوانین کی دھجیاں اڑائیںہم نے تیری اور تیرے پیارے آخری رسولۖ کے نافظ کردہ قوانین کی بجائے اہل مغرب کی اندھی تقلید کی، خلافت کے بجائے جمہوریت کا طرز زندگی انایا جس میں اللہ اور اس کے رسولۖ کی بتائی ہوئی تربیت کے اکثریت انسانوںکے پسندیدہ طرز حکومت کو نافظ کرنا ہے اور ہم اس غلط راستے پر اتنی تیزی سے چلے اور بے خبر چلتے گئے حتیّ کہ ہم صراط مستقیم سے قونسوں دور ہو گئے۔ ہم نے اپنے نفس کی اتباع کرتے ہوئے اپنے لیے دو الگ الگ راستوں کا انتخاب کیا جو کہ ہمیں اصل منزل سے قوسوں دور لے جا رہے ہیں۔ ہم نے یہ نظریہ بنایا کہ مذہب ایک علیحدہ انفرادی معاملہ ہے اور سیاست ایک الگ معاملہ ہے ان دونوں کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے مذہب جوکہ در اصل دین اور دین اسلام ہی ہے اسے ہم عبادات کے چند ارکان کی ادائیگی تک محدود کر لیا جن میں نماز، روزہ،حج، زکواة، قربانی وغیرہ شامل ہیں اور پھر ان کی ادایئگی کے ساتھاان کے ضمنی اور حقیقی تقاضوں کو پس پشت
4/5
ڈال دیا۔ ان ارکان کی انفرادی یا اجتماعی آدایئگی کا مقصد تواسلامی فلاحی معاشرے کا قیام تھا جس میں ہر انسان کو اس کے بنیادی انسانی حقوق ملیں اس کی عزت، جان، مال کا مکمل تحفظ حاصل ہوجہاں اس پر کوئی ظلم نہ کرے اس کا مال اس سے کوئی نہ چھینے جہاں اس کو اس کی محنت کے جائز حقوق ملیں جہاں اسے رزق حلال کمانے کے بھر پور موا قع حا صل ہوں جہاں یتیموں کی دیکھ بھال اور سر پرستی ہو۔ جہاں بیوائوں کی دیکھ بھال ہو سکے جہاں چھوٹے بچوں کو نشونما اور با مقصد تعلیم تربیت کے مواقع میسر ہوں۔جہاں کوئی ظالم کسی کا حق نہ چھینے۔ اور بامقصد تعلیم تربیت کے مواقع میسرہوںجہاں کوئی ظالم کسی کا حق نہ چھینے۔۔۔مگر افسوس صد افسوس اے رب کائنات ہم تیرے ساتھ کیئے گئے سارے وعدے اورعہدبھول گئے ہیں، صرف اور صرف اپنے خود ساختہ معبود اپنے نفس کی بندگی میں مصروف ہیں ہم آج نمازی روزہ دار ،حاجی کہلوانے کے باوجودہم اکثر سب سے بڑے جھوٹے ،منافق اورجاہل ہیں ہم نے اپنے نفس کی پرورش کو مقصد حیات بنالیا ہے ہم میں دولت کے حصول کے لیئے حلال حرام کا فرق مٹ چکا ہے بلکہ ہم اپنے بینک بیلنس کو بڑھانے کے لئے ہم ہر وقت تیرے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں ہم نے معیشت اور تجارت کو اہل مغرب کے طرظ معیشت کے مطابق ڈھال لیا ہے۔

مالک یہ ہماری حالت ہے اور پھر ہم ماہ رمضان میں آ چکے ہیںمالک تو ہماری مغفرت فرما ہمیں صراط مستقیم عنایت کر . میرے عزیز بھائیو ۔ تحریر بہت تلخ ہے مگر ہمیں ان حالات میں اپنی روش پر غور کرنا ہو گا کہ کیا واقعی ہمارے حالات ایسے ہی ہیں جن کی تحریر میںنشاندہی کی گئی ہے اور اگر ہیں تو پھر کیا ان حالات کو ہم جوں کاتوں ہی رکھنا چاہتے ہیں کیا ہم ایک سچے مسلمان اور با عمل قوم نہیں بننا چاہتے ؟ کیا ہمیں اللہ تعالیٰ کی اس فطرت کا کوئی خیال نہیں ہے کہ جس پر اس نے ہمیں تخلیق کیا ہے اور ہم اس فطرت کو مسلسل بگاڑ رہے ہیں ؟ تو میرے بھائیو اللہ پاک کا وعدہ ہے کہ ” اگر تم نے اس دین سے منہ پھیرا تووہ تمہیں مٹا دے گا
اور پھر تمہاری جگہ دوسری قوم لائے گا جو تمہارے جیسے نہ ہوں گے ” (القرآن) سورت محمدۖ آیت نمبر ٨٣

جناب انچارج مضامین
السلام علیکم
خیریت موجود ،خیریت مطلوب
ماہ صیام کے حوالے سے ایک تحریر ارسال خدمت ہے براہ کرم شائع فرما کر ممنون فرمائیں

Naimatullah Masood

Naimatullah Masood

تحریر : نعمت اللہ مسعود
0301-7106038