مقتضائے وقت بھی اب بن گئیں مقتل

Internet and Mobile

Internet and Mobile

تحریر : وقارانساء
وقت ٹھہرتا نہیں آگے بڑھتا رہتا ہے ۔وقت کے تقاضوں کے پیش نظر سہولتیں اور مصروفیات دونوں ہی بڑھتی جا رہی ہیں اور سب اپنی استعداد کے مطابق اس سے مستفید بھی ہوتے ہیں۔لیکن بد قسمتی سے ان سہولیات سے مثبت کام لینے کے بجائے ان کو منفی مقاصد کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے اور تربیت کے فقدان نے ان مقتضائے وقت کو مقتل گاہیں بنا دیا فائدے کے ساتھ نقصانات زیادہ ہورنے لگے مذہبی معاشرتی اور اخلاقی اقدار کا قتل سرعام ہونے لگا اور ماحول کے اثرات نے اچھے خاصے گھرانوں کو برباد کر دیا۔

غیر ملکی فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کے لئے اب وی سی آر اور ڈی وی ڈی پلیئر کی ضرورت نہیں بلکہ ہر بچے کے ھاتھ میں پکڑا موبائل ایک کلک سے جو چاہے دیکھ لے انٹرنیٹ اور موبائل نے بچوں کا بچپن قتل کر کے وقت سے پہلے انہیں بڑا کر دیا ۔ جس سوچ کوعمر کے مطابق بڑھنا تھا چھوٹی عمر میں ان سہولتوں نے ان کی شخصیت مسخ کر کے برے اور بھیانک اثرات مرتب کر دئیے ٹیلی ویژن تو تفریح طبع کے لئے طبقہ کے ہرگھر میں موجود ہے شہر ہو یا دیہات گھر میں اس کا ہونا ناگزیر ہے ۔باقی سہولیات کا ہونا ہر طبقے میں ان کیے طبقاتی فرق کے مطابق موجود ہے صرف اگر اس کو ہی لیں ۔پروگرامز کیا اشتہارات تک فیملی کے ساتھ دیکھنا مشکل ہو جاتے ہیں۔

بڑھتے ہوئے بچوں کے ذہنوں میں ہیجان پیدا کرکے ان کی سوچوں کا دھارا غلط سمت میں موڑ کران کی مثبت صلاحیتوں کا جنازہ نکالا جا رہا ہے ۔ دیکھا دیکھی ہر چینل پر بے ہودہ اور غیر معیاری مارننگ شوز کی بھرمار نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ڈراموں میں غیر ضروری اور غیر اخلاقی باتیں اور مناظر ننھے اور جوان ذہنوں کو متاثر کر رہے ہیں۔اور محبت کے ہزاروں انداز اور طریقے غیر محسوس طور پربڑھتی عمر کے بچوں کو تباہ کر رہے ہیں چوری چکاری کے سینکڑوں طریقے گھریلو ماحول اور رشتوں کو تباہ کرنے کے ایک سو ایک گر۔مختلف قسم کے طریقہ واردات بہو ساس کے ساتھ کیا کرے اور ساس اس سے کیسے نمٹے ؛ لالچ اور حسد سے دوسروں کے کیسے نقصان پہنچائیں؟یہ سکھایا جاتا ہے۔اخلاقی سبق اگر کسی سے حاصل ہو گا تو وہ بعد کی بات ہے اس کے سمجھنے کے لئے جتنی تربیت ہو گی اتنا فائدہ ہو گا۔اس سے قبل کے غیر ضروری مناظر اورعشق کے مراحل ان کے ذہنوں پر اپنے نقوش چھوڑ رہے ہیں۔

Dramas

Dramas

مائیں تو اپنے بچوں کو نہیں سکھائیں گی کہ بیٹا تم بھی ایسے عشق کے مرحلے طے کرنا کسی کی بیٹی بہن پر یہ گر آزمانا اس کے لئے فلمیں اور ڈرامے اپنا رول نبھا رہے ہیں۔ ڈراموں میں لڑکی کو حاملہ دکھانے کا کیا مقصد ہے ؟میاں بیوی کے کمرے کے مناظر دکھا کر کونسی اخلاقی تربیت کا سامان ہو رہا ہے؟ کیا ڈرامہ ان خرافات کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا؟ پیمرا نے ٹی وی پرغیر اخلاقی مواد دکھانے پر پابندی عائد کی ہے اب دیکھنا ہے کہ غیر اخلاقی مواد کی کیا حدود ہونگی۔

تحریر : وقارانساء