چار آنسو

Sad Girls

Sad Girls

تحریر: عاقب شفیق
نرم قالین سے آراستہ خوبصورت کمرہ اسے جہنم کی دھک دے رہاتھا۔ اس میں سجے پھول تعفن زدہ بدبو پھیلا رہے تھے۔ کمرے کے دروازے اور پلنگ کے درمیان نیا مردانہ جوتوں کا جوڑا بے ترتیب پڑا تھا۔ پلنگ مکمل تختہ دار کا عکاس بن چکا تھا۔ وہ پلنگ پر بے حس پڑی تھی۔ اس کے الجھے بال اس کے چہرے کو اپنی آغوش میں لیئے ہوئے تھے۔ وہ مسلسل بےبسی سے پلنگ کی چادر ہاتھوں سے مسل رہی تھی۔ وہ اپنے دانتوں کو اتنے زور سے دبا رہی تھی کہ جیسے لوہے کو بھی چبا جانا چاہتی ہو۔ وہ اپنے ہونٹوں اور پلکوں کی مسلسل لیکن بےساختہ تھرتھراہٹ آنکھیں بند کیئے محسوس کر رہی تھی۔ وہ روح قبض ہونے کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اللہ اپنے بندوں پر انکی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اور آج اس پر اس کی برداشت سے بیسیوں من زیادہ بوجھ پڑ چکا تھا اور اسے یقین تھا کہ وہ یقیناً اس سفاک دنیا سے جلد چھٹکارا حاصل کر لے گی۔

اس کربناک لمحے کی تلخی اسے ماضی کے دریچوں میں جھانکنے پر مجبور کرنے لگی۔ جب وہ امرتسر کے نواحی قصبے میں رہتی تھی۔ برصغیر کی تقسیم کی خبریں عروج پر تھیں۔ تمام مسلمان تقسیم کے بعد برصغیر کے شمال مغربی حصے کو جنت کا باغ گردان رہے تھے۔ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ ایک ایسا ملک بننے جا رہا ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے۔ جہاں مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کیلیئے مثالی ماحول میسر ہوگا۔ جہاں بسنے والے مسلمان باقی تمام دنیا کے باسیوں کیلیئے مثالی کردار لے کر ابھریں گے۔ وہ اسلام کے ایسے عکاس ہونگے کہ مؤرخ انہیں دورِ خلفا جیسے مسلمان لکھنے پر مجبور ہوگا۔
یہ باتیں یاد آتے ہی اس بےسدھ لڑکی کی آنکھوں سے بےبسی اور تلخی کا ایک آنسو اپنی حدت اور حرارت سے اسے جلاتا ہوا اس کے کانوں کو چھو کرگر پڑا۔ اس کی سانسیں رک رہی تھیں۔ وہ چاہ کر بھی خود کو ہلا نہیں پا رہی تھی۔ وہ اپنے بدن کو سمیٹ کر دائیں جانب سرکانا چاہتی تھی لیکن اس پر پڑا بھاری بھرکم بوجھ اسے بالکل بھی نہیں ہلنے دے رہا تھا۔

آج اپنی عزت تار تار ہونے کے مناظر یاد آنے پر اسے پھر سے امرتسر کی گلیاں یاد آئیں جہاں مولانا حق نواز (رح) خطاب فرما رہے تھے۔ ’’انشاءاللہ جلد ہم پاکستان حاصل کر لیں گے۔ محمد علی جناح کی قابلیت پر ہمیں یقین ہے۔ میری بہنو! وہ دن ٹلنے والے ہیں کہ جب جس کا دل چاہے ہمیں اقلیت سمجھ کر ظلم کرے۔ ہماری ماؤں بہنوں کو ھوس زدہ نگاہ سے دیکھے۔ نوچ ڈالی جائیں گی وہ نگاہیں جو مسلمانوں کے تقدس کو پامال کرنے کی نیت سے اٹھیں گی۔‘‘

4 Aansoo

4 Aansoo

یہ الفاظ اس کے دل و دماغ پہ مُسلسل ہتھوڑے کی طرح وار کر رہے تھے۔ اس کی سانسیں رکی جا رہی تھیں۔ درد و الم کو وہ بےکار لہو جان کر جھٹک چکی تھی۔ دنیا کی سفاکی اس پر ایسے کھل چکی تھی کہ اس کے بدن کے ایک ایک پور سے کوٹ کوٹ کے پسینہ نکل رہا تھا۔ مولانا کے الفاظ اور اپنے تقدس کی پامالیت نے اس کی آنکھوں سے دوسرا ضبط کا آنسو بھی اپنی شدید حدت اور بھرپور حرارت کے ہمراہ ٹپکا دیا۔

وہ اپنے مرنے کی دعا اس قدر ایمان سے کر رہی تھی کہ جیسے خود کشی کارِ ثواب ہو۔ اس کی کیفیت اسے جتنی ممکنہ راہیں دکھا رہی تھی اس میں سب سے سہل اور ایمان افروز عمل اسے خود سوزی لگ رہا تھا۔ ذرا سوچیئے کہ جب ایک حرام کام بھی کارِ ثواب لگے تو اس کے قلب و جاں میں اتر کر اس کی کیفیات کو جاننے کی جسارت کیجیئے۔ کہ جو تلخ فیصلے اپنی تلخی سے بھی پناہ چاہیں ان کے اسباب کیا ہوں گے؟

اس نے گردن گھما کر دائیں جانب دیوار پر نظر ڈالی تو بانیء پاکستان کی تصویر اس کے ساتھ ہونے والے سفاک سلوک پر پلکیں جھکائے لٹک رہی تھی۔ اور ساتھ ہی ٹک ٹک کرتی گھڑی پر تین بج رہے تھے۔ اسے یاد آیا کہ گزشتہ شب اس وقت وہ تہجد کی نماز ادا کر رہی تھی اور آج اس کو نماز کے قابل نہ چھوڑا گیا۔

پھر اسے قیام پاکستان کے دن یاد آئے کہ جب وہ اپنے والدین ، بڑے بھائی اور چچا کے ہمراہ پاکستان کا رختِ سفر باندھے چلے تھے تو کسطرح سکھوں اور ہندوؤں کی بربریت کا نشانہ بنے تھے۔ اس کی ماں کے مختلف اعضا کاٹ کر امرتسر کے ریلوے سٹیشن پر ’’پاکستان مردہ باد‘‘ کے نعرے لکھے گئے تھے۔ ابا جان اور بھائی ماں کی چیخ و پکار سن کر مدد کو بھاگے دونوں چھلنی کر دیئے گئے۔ پھر کیسے چچا نے اسے وہاں سے بھگا کر واپس گھر تک پہنچایا۔ ماں کی موت کا اٹھارہ سال پرانہ منظر آںکھوں کے سامنے آتے ہی اس کے ضبط کا تیسرا آنسو بھی اپنے صبر کی بند توڑ کر کانوں کو چھوتا ہوا پلنگ پر جا گرا اور اس کے دل سے چیخ نکلی ’’ آج کا دن دیکھنے سے صد ھا گنا بہتر تھا کہ میں ہندوؤں کے ہاتھوں ماں کے ساتھ ہی ماری جاتی‘‘

Pakistan

Pakistan

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

اسے اب ماں کے بچھڑنے کے بعد کے اٹھارہ سال یاد آنے لگے کہ کیسے وہ پاکستان کی تڑپ میں جیتی رہی۔ ارضِ پاک کی محبت میں سسکتی رہی۔ اورپھر اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی آزادی کا سندیس وہ ریل گاڑی کا ٹکٹ آیا جس پر سولہ مارچ انیس سو ساٹھ کی امرتسر سے لاھور کے لیئے برتھ ریزرویشن تھی۔ اسے کیا خبر تھی کہ جسے وہ آزادی کا سندیس سمجھ رہی تھی وہ حقیقت میں اس کی سزائے موت تھی۔

پھر اسے وہ خوشی کے مناظر یاد آئے جب وہ ریل گاڑی سے لاھور اتری اور اترتے ہی سجدہء شکر میں گر گئی۔ اسے تمام پاکستانی اپنے سگے بھائیوں جیسے نظر آ رہے تھے۔ مٹی میں اپنائیت محسوس ہو رہی تھی۔ عمارتیں ذاتی محسوس ہر رہی تھیں۔ بازار، گھر، سڑک اور مال مویشی ہر چیز اسے اپنی اپنی لگ رہی تھی۔ وہ ہر چیز کو چھو چھو چوم رہی تھی۔ لوگ اسے تعجب سے دیکھ رہے تھے۔ اسی اثنا میں وہاں مغربی پاکستان کے صوبہ سندھ کے ایک صوبائی رکن کا وہاں سے گزر ہوا۔ پاگل چنچل سی لڑکی کو دیکھ کر وہ رکے ’’بہن‘‘ کہہ کر اپنے گھر لے گئے۔ دو ماہ تک وہ اسے اپنا گھر سمجھتی رہی۔ پاکستان آمد کی خوشی ابھی تک کم نہیں ہو پا رہی تھی۔

پھراسے گزشتہ شام یاد آئی کہ وہ نماز عشاء کے بعد اپنے کمرے میں سونے چلی گئی۔ اس کے خواب میں پاکستان ہی پاکستان گھوم رہا تھا۔ پاکستان میں مسلمانوں کی آزادی۔ پاکستان میں مسلمانوں کے حقوق کی ادائگی۔ اسی اثناء میں اس نے خود کو دبا ہوا محسوس کیا۔ اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے اوپر بھاری بھرکم بوجھ پایا۔ وہ اپنے ’’منہ بولے بھائی‘‘ کی خوشبو پہچان گئی۔ ایک لمحے میں وہ خوشبو بدبو میں بدل گئی۔ اسے یوں لگا کہ جیسے اس کو کسی نے پٹخ پٹخ کر دیوار کے ساتھ مارا ہو۔ پھر کسی ماوراء حقیقت طاقت نے اسے جھنجھوڑ کر آسمان پر پھینکا ہو اور وہ بے چاری دھڑام سے زمین پر آن لگی ہو۔ اس کو گزشتہ دو مہنیوں میں ملنے والی عزت طوق بنتی محسوس ہوئی۔ اسکے ہاتھ پاؤں بےسکت ہوتے چلے گئے۔

اس کی زبان پر سورہ بقرہ کی آخری آیت تھی ’’لَا یُکلفُ اللہُ نفساً اِلا وُسعَھَا. . . . . . . . . .. رَبنا وَلَا تُحَمِّلنَا مَا لَا طَاقَتَلَنَا بِه۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا سے انصاف کی متلاشی نگاہیں بےجان ہوتی چلی گئیں۔ روح اس درجہ المناک صورتحال برداشت نہ کر پائی۔ اوراس پارسا تقدس کی پامالی کو دیکھتے ہی خالقِ رحیم و کریم کی مقدس بارگاہ کی سمت پرواز کر گئی۔ اور اسی لمحے اس بےجان لڑکی کا حدت زدہ چوتھا آنسو ضبط کو توڑتا ہوا کان کو چھوکر پلنگ کی چادر پر جا گرا۔

نوٹ: اسے ہر گز اینٹی پاکستان تحریر نہ گردانا جاوے۔
۔

Aqib Shafiq

Aqib Shafiq

تحریر: عاقب شفیق