جانور کی قربانی دراصل مال کی قربانی ہے

Animal Sacrifices

Animal Sacrifices

تحریر:صادق رضا مصباحی ،ممبئی

قربانی ایک عظیم ترین عبادت ہے یہ بظاہرتوجانورکی قربانی ہے مگردرحقیقت یہ انسان کے نفس اور اس کے مال کی قربانی بھی ہے۔یہ قربانی صرف اورصرف اللہ کے لیے ہوتی ہے- سوال یہ پیداہوتاہے کہ جب قربانی صرف اللہ کے لیے ہوتی ہے تو کیاجانورکاگوشت ،ا س کی کھال ،ا س کے بال اوراس کاخون خداکے یہاں پہنچتا ہے؟ جیساکہ مشرکین مکہ کاعقیدہ تھا اورا س کے لیے وہ جانورکے خون کوخانۂ کعبہ کی دیواروں پررگڑتے تھے اوریہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ خون خداکے یہاں پہنچے گا۔

اس بارے میں شریعت اسلامیہ کااصول یہ ہے کہ اللہ کے یہاں اسباب کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ اس کے یہاں نیت میں خلوص دیکھاجاتاہے اسی طرح قربانی کے سلسلے میں بھی خداکے یہا ںنیت اورپرہیزگاری پہنچتی ہے یہ ساری چیزیں نہیں۔سورۂ کوثرمیں ہے کہ خالص اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور خالص اپنے رب کے لیے قربانی کرو۔فرمایاگیافصل لربک وانحریہاں لربک میں حرف ک پرغورکیاجائے تواندازہ ہوتاہے کہ قربانی اورنماز صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے

جس طرح نماز اگرکسی اورکے لیے پڑھی جائے تونمازنہیں ہوگی اسی طرح قربانی اگرکسی دوسرے کے لیے کی جائے توقربانی نہیں ہوگی۔مزید غورو فکر سے کام لیاجائے تواس آیت مبارکہ میں خداکی طرف سے بندوںکے لیے بڑی اپنائیت ہے۔ اس آیت کامخاطب ہر وہ مسلمان ہے جوقرآن مجیدکی تلاوت کرتاہے۔ آپ تصورکریں کہ جب آپ قرآن مجیدکھول کربیٹھیں گے اوریہ آیت پڑھیں گے فصل لربک وانحر عربی میں حرف ک مخاطب کے لیے بولاجاتاہے توا س کامطلب یہ ہواکہ اپنے اس رب کے لیے قربانی کرو جوصرف اور صرف تمہاراہے۔

یہ آیت کریمہ بندوں کے لیے خداکے قرب کی نویدبھی ہے اگربندہ خلوص دل سے قرآن مجیدپڑھے گاتواس طرح کی آیات سے اسے بڑالطف ملے گااوراگراحساس بیدارہے توضرورروحانی مسرت وسکون محسوس کرے گا۔اس سے ایک بات صاف طورسے سمجھ میں آرہی ہے کہ قربانی میں ریااورنمائش کی قطعاًکوئی گنجائش نہیں اگرنمائش کی جائے گی توقبول بارگاہ نہ ہوسکے گی۔یہی وجہ ہے کہ اگرنیت صاف ہو توقربانی کے جانورکاخون زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ اسے قبول کرلیتاہے۔

Allah

Allah

ہمارے ذہنوںمیں ایک سوال یہ بھی پیداہوتاہے کہ جب قربانی صرف اورصرف خدا کے لیے ہے اورخداکے یہاں نیت دیکھی جاتی ہے توایسی صورت میں اگرقربانی کرنے کے بجائے اس کے پیسوںسے کسی ضرورت منداور مجبورکی مدد کردی جائے تاکہ ان کاکچھ بھلا ہوج ائے اورقربانی دیگرایام میں کی جائے۔ اس کے جواب میں کہاجائے گاکہ قربانی واجب ہے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا صدقہ جاریہ لہذا واجب پر صدقے کوترجیح نہیں دی جائے گی۔دوسری بات یہ ہے کہ صدقۂ نافلہ قربانی کے علاوہ دیگردنوں میں بھی ہوسکتاہے

مگرقربانی صرف قربانی کے ایام میں ہی ہوگی جس طرح سے خانۂ کعبہ کاطواف صرف حج کے ایام میں کیاجاسکتاہے دوسرے دنوں میں نہیں۔تیسری بات یہ ہے کہ قربانی کے یہ ایام اللہ کی طرف سے بندوں کے لیے مہمان نوازی کے طور پر ہیں ۔اس دن روئے زمین کے سارے مسلمان اللہ کے مہمان ہوتے ہیں اور اللہ ان کا میزبان۔ اللہ تعالیٰ کے بندے ان تین ایام میں خوب خوب شکم سیرہوکرنعمت خداوندی (گوشت)سے لطف اندوز ہو تے ہیں۔

شایدہی روئے زمین پر ایسا کوئی مسلمان ہوجوان ایام میں بھو کا سوتا ہو اور کیوں نہ ہوکیوں کہ ان ایام میں خاص طورپرہماراپالنہارہماری میزبانی کرتاہے توہم میں سے کوئی بھی بھوکاکیوں کرسوسکتاہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان تینوں ایام میں روزہ رکھنا حرا م قراردیاہے۔ا س پس منظرمیں اگرکوئی قربانی کے بجائے غریبوں اور ضرورت مندوں کی مددکرنے کانظریہ رکھتاہے تویہ خداکی مشیت کے خلاف ہے ۔اسے اپنے قول پرنظرثانی کرلیناچاہیے۔

Animal

Animal

ہم قربانی تو جانور کی کرتے ہیںمگردراصل یہ ہمارے مالوں کی قربانی ہوتی ہے ہم جانورکے ذریعے اپنامال راہ خدامیں صرف کرتے ہیںاس سے اللہ توخوش ہوتاہی ہے بندوںکی بھی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں اور انہیں خوشی حاصل ہوتی ہے۔ گویا کہا جاسکتاہے کہ جانورکی قربانی بالواسطہ مال کی قربانی ہوتی ہے اس تناظرمیں ہم ایک بارپھرمذکورہ سورۂ کو ثرپرغورکریں توا س سے جومفہوم اخذکرہوگاوہ یہ کہ اے اللہ ہمارے جان اورہمارے مال صرف اورصرف اللہ کے لیے ہیںاس میں کوئی غیرشریک نہیںہے ۔بندہ جب یہ تصورکرے گاتواس تصور سے غیریت کی ساری جڑیں کٹ جائیں گی اورخالص توحیدکی نمائندگی ہوگی۔

تحریر:صادق رضا مصباحی ،ممبئی