اوسلو: پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی نے قومی سلامتی کو سخت نقصان پہنچایا ہے، علامہ ڈاکٹر سید زوار شاہ

Ahsan Iqbal

Ahsan Iqbal

اوسلو (پ۔ر) ناروے میں مقیم ممتاز عالم دین اور انجمن حسینی ناروے کے ڈائریکٹر دینی امور حجتہ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر سید زوار حسین شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی نے قومی سلامتی کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ملک و قوم کی وحدت کے خلاف ایک پرانہ حربہ اور ایک گہری سازش ہے جس کے سدباب کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے گذشتہ روز ناروے کے دورے پر آئے ہوئے پاکستان کے وزیرداخلہ احسن اقبال سے سفارتخانہ پاکستان اوسلو میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ نارویجن پاکستانی شیعہ کمیونٹی کے وفد میں مرکز توحید اسلامی اوسلو کے صدر سید سجاد کاظمی بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر سید زوار حسین شاہ اور سید سجادکاظمی نے وزیرداخلہ کے گوش گزار کیا کہ ناروے سمیت یورپ میں رہنے والے مسلمانوں بلخصوص شیعہ کمیونٹی کو پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی بشمول شیعہ مسلمانوں پر حملوں پر سخت تشویش ہے۔ خاص طور پر پچھلے کئی سالوں سے کوئٹہ اور پاراچنار میں شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگز اور ڈیرہ اسماعیل خان میں اس قسم کے تازہ ترین واقعات انتہائی افسوسناک ہیں۔

انھوں نے وزیرداخلہ کو بتایاکہ ہمیں خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کافی عرصے سے جاری ہے اور اس طرح کے تشدد میں ملوث گروپوں میں اضافہ ہی ہوتاچلا جارہاہے۔ اس کے برعکس سرکاری حلقے اس مسئلے کو نظرانداز کررہے ہیں اور دہشت گرد کھلم کھلا بے گناہ اور معصوم لوگوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔

بعض علاقے تو فرقہ وارانہ دہشت گردی کے حوالے سے مشہور ہوگئے ہیں اور اس کے علاوہ بھی بعض دوسرے شہروں میں شیعہ ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ اور علما کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔ وزیرداخلہ نے نارویجن شیعہ کمیونٹی کے وفد کی باتیں غور سے سنیں اور یقین دلایا کہ وہ ان کے احساسات کو پاکستان میں متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گے تاکہ اس حوالے سے لازمی اقدامات کئے جا سکیں۔