پاک چائنہ کوریڈور اور بھارتی ایڈونچر ازم

Pakistan and China

Pakistan and China

تحریر : احمد حماس
پنجابی کی ایک کہاوت ہے”ہمسایہ کامنہ لال ہو تو اپنا تھپڑمارکرلال نہیں کرناچاہیے” دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت کوبھی آج اسی نصیحت کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چنددنوں میں پردھان منتری کے سنگھاسن پر براجمان نریندرمودی اینڈکمپنی کے آنے والے بیان کسی حواس باختگی ،ناکامی وپسپائی،مایوسی اور بے چینی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ جب سے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ کے ساتھ بھارتی کردار سے پردہ اٹھانا شروع کیاہے،بھارتی اشرافیہ گھبراہٹ کاشکار نظرآتی ہے۔ اس عالم میں پے درپے آنے والے بیانات اپنی پریشانی دور کرنے کا ذریعہ نظر آتے ہیں۔بالخصوص جب گوادرپورٹ تک بننے والے پاک چائنہ کوریڈورپرقومی اتفاق رائے ہوگیا تو بھارتی غصہ اور اضطراب اپنی انتہاکو پہنچ گیااور جناب مودی نے ڈھاکہ میں اپنے خطاب کے دوران مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے کابرملااعتراف کرکے دھمکی آمیز اشارہ دینے کی کوشش کی…چندروز بعد بھارتی فوج کے میانمار میں آپریشن کی خبرآئی تووزیراطلاعات راجوندر راٹھور نے دعویٰ کیا کہ ایسے کسی آپریشن کی ضرورت اگر پاکستان میں بھی پڑی تو کریں گے،اگرچہ اس بیان کے کچھ دیربعد بھارتیوں کو یہ اندازہ ہوگیا کہ پاکستان اوربرما میں کیافرق ہے اورانہیں اپنی گیدڑ بھبھکی کی اصلیت سمجھ آگئی۔

یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ ”اتنے بڑے” بھارت کو” چھوٹے سے ”پاکستان سے آخرکیاپریشانی لاحق ہے؟ گوادر کی بندرگاہ کے Active ہونے سے بھارت کوکیا خطرہ ہے؟ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے بننے سے بھارت کی سلامتی پرکیسے آنچ آئے گی؟ بھارت اس کی مخالفت کیوں کررہاہے؟مودی کو45سال بعد سقوط ڈھاکہ پر شیخی بگھارنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کشیدگی کے اثرات اورنتائج کیاہوں گے؟ان سب سوالوں کاجواب پانے کی ہم کوشش کریں گے لیکن ہم شروع میں بیان کی گئی پنجابی کی کہاوت کی طرف جاتے کہ آج مودی اینڈکمپنی نے اپنے منہ پر تھپڑ مارکراسے لال کرنے کی کوشش کیوں کی؟اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرہم نقشے کودیکھیں تو پاکستان بھارت پرسوارنظرآتاہے۔ یہ سواری صرف نقشے پر ہی نہیں درحقیقت بھی ایساہی ہے کہ آج پاکستان بھارت کے سرپرسوارہے۔مودی نے بنگلہ دیش میں سینہ تان کرماضی کی قصیدہ سرائی کی کہ 1971ء میں ہم نے پاکستان توڑا۔بنگلہ دیش بنایا، پاکستان کے فوجیوں کو قیدی بنایا…اس وقت اس قصیدہ سرائی کاکیامطلب تھا؟

کیابھارت پھرکسی ”ایڈونچر” کاارادہ رکھتاہے؟تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو کسی بھی جارحیت کے نتائج بھارت کے حق میں مفید ثابت نہیں ہوتے۔ہم کشمیرمیں بھارتی پسپائی اوراس کے بعداقوام متحدہ میں دی گئی دہائی کو ذرا بھول جاتے ہیں، 1961ء میں چینیوں کے ہاتھوں پٹائی کامعاملہ بھی فراموش کر دیتے ہیں۔1965ء میں لاہورمیں ناشتے کی ہوائی کاقصہ بھی گول کردیتے ہیں۔1971ء کے بعدہی کی تاریخ کو اٹھاکے دیکھ لیتے ہیں کہ بھارتی ”ایڈونچر ازم” کے نتائج کیا نکلتے رہے ہیں۔1974ء میں جب پوکھران میں بھارت نے دھماکے کیے توپاکستان نے فوری اپنانیوکلیئر پروگرام شروع کیا اور بھارت کے ہرقدم کوروکنے کافیصلہ کیا۔ 1980ء کی دہائی میں جب روس (بھارت کااس وقت کاباپ) افغانستان پرحملہ آور ہوا اورپاکستان کے گرم پانیوں پر حریص نگاہیں جماتے ہوئے اس کے نقشے پر ریڈ کراس لگا دیا تو پاکستان نے ایک جانب سرخ ریچھ کے قدموں کو روکا تو دوسری جانب امریکیوں کوکنٹرول میں رکھتے ہوئے انتہائی دانشمندی سے یہ جنگ لڑی۔

Pakistan Nuclear Power

Pakistan Nuclear Power

اسی دوران اپنانیوکلیئر پروگرام بھی جاری رکھا جو جنرل ضیاء الحق کے دورمیں پایۂ تکمیل تک پہنچ چکاتھا۔ اس دور میں بھارت نے روسی شہ پر پاکستان پرحملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تو بھارت میں خالصتان کے نام سے سکھوں نے ایسی تحریک شروع کی کہ بھارت حواس باختہ ہوکررہ گیا1984ء میں گولڈن ٹیمپل پربھارتی فوج نے حملہ کرکے کئی سکھوں کو خون میں نہلا د یا۔بدلے میں سکھوں نے مسلح جدوجہد شروع کی اور پورے پنجاب کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ پھرآہستہ آہستہ ان کے پاس جدیداسلحہ آیا۔تھری ناٹ تھری جیسی گنیں ، نئے ہتھیاروں کلاشنکوف،راکٹ لانچر ز ،گرنیڈز اوربارود سے بدل گئیں اور پنجاب میں بھارتی فوجیوں کی لاشوں کے پشتے لگنے لگے۔ اس کے بعدسکھوں نے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو بھی قتل کردیا۔جنوری1987ء میں بھارت نے خالصتان کا بدلہ لینے کے لیے براس ٹیکس کے نام سے پاکستان اور چین کے خلاف سرحدپرفوجی مشقیں شروع کردیں اور پاکستان پر حملے کامنصوبہ بنایا تو جنرل ضیاء الحق میچ دیکھنے کے بہانے بھارت چلے گئے اور بھارتی وزیراعظم راجیوگاندھی کوپیغام دیا کہ جناب جس پرتمہیں گھمنڈ ہے وہ(ایٹم بم) ہمارے پاس بھی ہے اوراگر بھارت نے کوئی بے وقوفی کی تومیر ی زبان پرایک ہی لفظ ہوگافائر،فائر…!اس کے بعدبراس ٹیکس کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔

1989ء کی دہائی میں کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں مسلمانوں کے بڑے قتل عام کے بعدمسلح تحریک آزادی شروع ہوئی۔جس نے بھارت کوخاک چٹادی۔ یہ تحریک اب بھی جاری ہے جو درد سر بنی ہوئی ہے۔ 1998ء میں بھارت نے اپنے جارحانہ عزائم کااظہارکرتے ہوئے 5ایٹمی دھماکے کیے جس کے بعد بھارتی پھرہوا کے گھوڑے پراُڑنے لگے۔چنددن بعد ہی پاکستان نے تمام پابندیوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے 6 ایٹمی دھماکے کرکے بھارتیوں کوپیغام دیا کہ کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔1999ء میں کارگل کے محاذ پربھارتی فوج بدترین محاصرہ میں آگئی ۔65ہزار فوجیوں کی آکسیجن بند ہوئی توبھارت عالمی اداروںمیں جا کر دہائیاں دینے لگا… اور بقول جنرل پرویزمشرف مردوں کے لیے تابوت کم پڑگئے تھے۔کانگریس کی سونیا گاندھی نے دہائی دی کہ جنتا تابوت گنتے گنتے تھک گئی ہے۔

11ستمبرکے حملوں کے بعد امریکہ نے افغانستان پرحملہ کیا توبھارت کوکھل کھیلنے کاموقع ملا۔امریکہ کاحقیقی نشانہ پاکستان تھا۔ پاکستان کو اس وقت مشرقی اورمغربی دونوں سرحدوں پرخطرات کاسامناتھا۔ مشرقی بارڈرپر بھارت نے کشمیر کی تحریک آزادی کو دبانے اور پاکستان کے خلاف تیاری کے ہرموقعے سے فائدہ اٹھایا۔ اگر مغربی سرحدپرامریکی اورنیٹو کی جانب سے ”افپاک” کی جنگی حکمت عملی کاسامنا تھا تو مشرقی بارڈر پربھارت کولڈسٹارٹ ڈاکٹرائن کے تحت سرگرم عمل تھا۔منصوبہ یہ تھا کہ سیاسی، فرقہ وارانہ اور لسانی تقسیم اور انتشارکی کیفیت پیدا کرکے ان دھڑوں کو ریاست کے خلاف استعمال کیا جائے جس کی حتمی صورت ٹینکوں کی شکل میں سندھ اور بلوچستان پرچڑھائی اور ان کی علیحدگی تھی۔ یہ بات صرف بھارت تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ عالمی منصوبہ تھا۔ اسی کے تحت پاکستان کے2012ء اور 2020ء کے تبدیل شدہ نقشے بنائے گئے تھے مگر پاکستان نے افغانستان میں نیٹو کوہزیمت سے دوچارکیا تو مغربی سمت سے دہشت گردی کو ناکام بنایا اور مشرقی بارڈرپرجارحیت کو بھی روکے رکھا۔ اگرچہ گزشتہ 15سال پاکستان کے لیے سخت مشکل کے تھے مگراب پاکستان اندرونی مشکلات سے بھی نمٹ رہاہے اوربیرونی حملہ آوروں کے کان بھی پکڑرہاہے تواس کیفیت پر دشمن سخت پریشان ہے۔

Pakistan

Pakistan

امریکی چھتری تلے ایشیاکی چودھراہٹ کے خواب دیکھنے والے بھارت کے لیے ستم بالائے ستم یہ ہواکہ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر اکنامک کوریڈور کا منصوبہ شروع کردیا جس سے دنیاکی تجارت کارخ پاکستان کی جانب ہوگا۔ وسط ایشیائی ریاستوں ،مشرق وسطیٰ اور شمال مشرق کی ساری تجارت گوادر کے راستے ہوگی جو بھارت کے لیے قابل قبول نہیں’کیونکہ گوادر کی فعالیت سے بھارت پاکستان کی سمندری ناکہ بندی کرنے کے قابل بھی نہیں رہے گا۔ گوادر کے حوالے سے بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سریش مہتا نے 2006ء میں ایک لیکچرکے دوران کہا تھا: ”گوادر کی بندرگاہ بھارت کے لیے سنگین سٹریٹجک پیچیدگیوں کاباعث بن سکتی ہے۔ ہر بھارتی کو یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ گوادر آبنائے ہرمزسے صرف 180ناٹیکل میل کے فاصلے پرہے۔ اس کی فعالیت کی صورت میں پاکستان انرجی کی عالمی شہ رگ کاکنٹرول سنبھا ل کر بھارتی آئل ٹینکروں کے لیے رکاوٹ کاباعث بن سکتاہے۔ اس کی تعمیر کرنے والا چین بحرہند میں اپنی توانائی کی آبی گزر گاہ کو محفوظ بنانے کے لیے راستے میں اڈوں کی تعمیر چاہے گا۔ یہ گزرگاہ شمال سے گوادر جیسی Deep Sea Port تک آتی ہے۔”

علاوہ ازیں گزشتہ 15سالوں میں بھارت کی تمام ترمنصوبہ بندی دھری کی دھری رہ گئی ہے اورکشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ آئے روز مختلف سیاسی جماعتیں سبزہلالی پرچم لہرا کر پاکستان سے الحاق کا اظہار کر رہی ہیں۔ کشمیر کی مسلح تحریک آزادی نئے بانکپن سے انگڑائی لینے کوہے۔بھارت میں بیسیوں علیحدگی پسندتحریکیں سرگرم عمل ہیں۔ ہزاروں بھارتی فوجی ان کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں۔ سات ریاستوں (Seven Sisters)،جن کا بھارت سے تعلق صرف10کلومیٹر کاہے، پیرالائز ہوتی جارہی ہیں۔ خالصتان کامطالبہ دوبارہ زور پکڑرہاہے جس کا واضح عندیہ کشمیر میں سکھوں کاپاکستانی پرچم لہراناہے۔مودی، جسے امن اورمعیشت کاگرو بناکر پیش کیا جا رہا تھا، کے آنے سے ایک طرف جہاں فرقہ وارانہ تقسیم اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے تودوسری جانب معیشت کی بہتری کے جو دعوے کیے جارہے تھے وہ بھی پانی پرتحریر ثابت ہوئے ہیں،

حالیہ دنوں میں بھارتی برآمد میں واضح کمی کے ساتھ روپے کی قیمت بھی گرگئی ہے۔ مودی سرکار کے پاس اپنے ووٹرز کو دکھانے کے لیے انتہاپسندی کے سوا کچھ نہیں بچا۔یہاں سے اندازہ لگانامشکل نہیں کہ دہلی خوف کی کس کیفیت میں مبتلاہے اورمودی نے ڈھاکہ میں اپنے اضطراب کااظہارکیوں کیا؟کیونکہ پاکستان کے خلاف اس کے مہرے پٹ رہے ہیں اور اب وقت حساب کا ہے، کشمیر کی آزادی کا،حیدرآباد ،مناوادر،جوناگڑھ پرقبضے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اور تخریب کاری و دہشت گردی کے حساب کتاب کا…!!دیکھناکوئی” ایڈونچر شپ”تمہیں قصہ پارینہ نہ بنا دے…!

Ahmed Hamas

Ahmed Hamas

تحریر : احمد حماس