پاک چین اقتصادی تعاون

Pakistan and China

Pakistan and China

تحریر: رانا اعجاز حسین
پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایسی جگہ پر واقع ہے کہ کئی دوسرے ممالک کو تجارتی راستے مہیا کر سکتا ہے۔ جبکہ برادر دوست ملک چین اس وقت دنیا میںایک بڑی اقتصادی قوت بن کر ابھر رہا ہے اور خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ چین 2020ء تک دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی قوت ہو گا۔ پاک چائنہ اقتصادی کوریڈور منصوبہ کی تکمیل سے پاکستان نہ صرف اقتصادی طور پر مضبوط اور خوشحال ہوگا بلکہ یہ کوریڈور پاکستان کی مضبوط دفاعی لائن بھی ہو گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری صرف پاکستا ن ہی کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے خوشحالی کا پیش خیمہ ہے۔عالمی ماہرین اقتصادیا ت کے اندازے کے مطابق اس منصوبے سے چین ، جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا ء کے تقریباً تین ارب افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان اس منصوبے کی بدولت مخصوص تجارتی رہداریوں کی تعمیر سے بر اعظم ایشیا ء کی تقریباً نصف آباد ی اس منصوبے کے مثبت اثرات سے فیض یاب ہوگی۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو اکنامک کوریڈور کا معاہدہ پاکستان اور چین کے اقتصادی تعاون کی تاریخ کا سب سے زیادہ اہم معاہدہ ہے۔

اس منصوبے کے آغاز کے بعداب پاکستان کی معاشی خوشحالی کی منزل زیادہ دور نہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری ایک ایسا ترقیاتی پروگرام ہے جس کے تحت جنوبی پاکستان میں واقع گوادر کی بندرگاہ کو ہائی ویز، ریلوے اور پائپ لائنوں کے ذریعے چین کے جنو ب مغربی علاقے شن جیانگ سے مربوط کیا جا رہاہے۔چین اور پاکستان کی اعلیٰ قیادتیں اس منصوبے کی تکمیل میں ذاتی دلچسپی لے رہی ہیں۔اس لئے اس منصوبہ پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔اس منصوبے کی تکمیل کے بعد چین، مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے مابین ہونے والی تجارت پاکستان کے راستے سے ہونے لگے گی اور اکنامک کوریڈور ان ممالک کی تجارت کیلئے مرکزی دروازے کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ بالخصوص مڈل ایسٹ سے برآمد ہونے والا تیل گوادر کی بندر گاہ پر اترنے لگے گا کیونکہ گوادر کی بندرگاہ خلیج فارس کے دھانے پر واقع ہے۔ جبکہ اس تیل کی ترسیل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے راستے سے چین کو ممکن ہوسکے گی۔

Sixty percent of oil exported to China

Sixty percent of oil exported to China

خلیج کے ممالک کا ساٹھ فیصدی تیل چین کو برآمد کیا جاتا ہے جو اس وقت 16000 کلو میٹر کا طویل راستہ طے کرکے چینی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ جبکہ اکنامک کوریڈور کی بدولت یہ فاصلہ کم ہوکر صرف 2500 کلو میٹر رہ جائے گا۔اور یہ راستہ نہ صرف مختصر بلکہ محفوظ اور آسان بھی ہوگا۔ اس طرح پاکستان کو وسائل روزگار کے حصول کے علاوہ عالمی راہداری کے طور پر خطیر زرمبادلہ کا مستقل موقع بھی میسر آجائے گا۔عالمی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اکنامک کوریڈور منصوبے سے ایشیاء میں علاقائی تجارت و سرمایہ کاری کے بند دروازے کھل جائیں گے۔ اور اطراف میں واقع تمام ممالک کو معاشی ثمرات حاصل ہونگے اور یوں دنیا کی سب سے بڑی منڈی وجود میںآئے گی جو علاقائی استحکام اور خوشحالی کی بنیاد ثابت ہوگی۔

پاکستان اپنی سرحدوں کو کاشغر کی مصنوعات کیلئے مختصر ترین رسائی اور عبوری راہداری کے طور پر پیش کرچاہتا ہے۔اس ضمن میں کراچی پورٹ قاسم کی بندرگاہ کے علاوہ چین کے تعاون سے تعمیر ہونے والی گوادر پورٹ ایک اضافی دروازہ ہوگی۔یہ امر مذید خوش آئند ہے کہ چین ، اپنے مغربی علاقے میں ”کاشغر سپیشل اکنامک زون ” تشکیل دے رہا ہے جو چین کو مغربی جانب سے وسطی ایشیاکے ساتھ اور جنوب میں جنوبی ایشیا کے ساتھ بھی جوڑ دے گا۔ چین نے گوادر میں متعدد میگا پراجیکٹس تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے جو دونوں ممالک کیلئے انتہا ئی فائدہ مندثابت ہونگے۔ چین ، گوادر کو پاکستان، ایران، وسطی ایشیا کی ریاستوں اور خود چین کیلئے ایک مرکزی بندرگاہ بنانے کا خواہا ں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے گوادر کی جلد آباد کاری کیلئے سال 2017 تک مختلف پراجیکٹ کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ان پراجیکٹس میں کوئلے،سورج اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے متعدد منصوبے بھی شامل ہیں۔پاکستان کو گوادر پورٹ کے عمل میںآنے سے کثیر وسائل روزگار کے علاوہ اربوں ڈالر کی آمد ن حاصل ہوگی۔

Gwadar

Gwadar

چین ، گوادر میں شنگھائی فری ٹریڈ زون کے ماڈل کو دہرانا چاہ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے اپنی اقتصادی اور سماجی اصلاحات کو آزمانے کیلئے ابتدا میں چین کے اندر بھی سب سے پہلے شنگھائی فری ٹریڈ زون کا تجربہ کیا جو کہ چین کی اقتصادی ترقی کیلئے بے حد کامیاب ثابت ہوا۔شنگھائی فری ٹریڈ زون میں مختلف صنعتی و تجارتی شعبوں کیلئے متعدد رعائتیں اور سہولتیں فراہم کی گئی تھیں۔بیرونی سرمایہ کاروں کووہاں تین ماہ کے اندر پندرہ فیصدی سرمایہ لگانے کی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا ۔ گوادر کے فری ٹریڈ زون میں بھی بیرونی سرمایہ کاروں کوایسی ہی رعائتیں فراہم کی جائیں گی، جس سے گوادر بیرونی سرمایہ کار ی کا گڑھ بن جائے گا۔توقع ہے کہ سپیشل اکنامک زوون، فری ٹریڈ زون اور ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کی تشکیل کے بعد گوادر میں پاکستان کی ہنر مند اور غیر ہنر مند افرادی قوت کیلئے لاتعداد وسائل روزگار پیدا ہونگے جس سے یہاں عوام کے طرز زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔سرمایہ کاری کے چینی منصوبوں کے مطابق گوادر کی ترقیاتی سرگرمیوں38 فیصدی حصہ بلوچستان کا ہے۔ ایک منصوبے تحت اس ضمن میں مقامی لوگوں کو پیشہ وارانہ تربیت اور ارزاں قرضے بھی فراہم کئے جائیں گے تاکہ صوبے میں چھوٹے کاروباروں کا ایک ایسا جال بچھ سکے جو بڑی صنعتوں کیلئے وینڈر انڈسٹری کا کردار انجا م دے سکے۔
چین نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے عالمی تناظر میں رونما ہونے والی کسی بھی تبدیلی کے باوجود چین پاکستان کے سا تھ روائتی دوستی کو قائم رکھتے ہوئے اپنے تمام معاہدوں پر پورا اترے گا۔

اسی طرح پاکستان بھی چین کے ساتھ دوستی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون سمجھتا ہے۔لیکن بدلتے ہوئے جغرافیائی اور دفاعی ماحول میں دونوں ملکوں کو متعدد علاقائی اور عالمی چیلنجوں کا سامنا ہے۔لہٰذاہ، وقت کا تقاضہ ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت پاک چین دوستی کی تاریخی روایات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں۔ جبکہ ازلی دشمن بھارت سمیت پاکستان کے کھلے اور چھپے دشمن پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو نقصان پہنچانے کے درپہ رہتے ہیں ۔ لیکن ا ب ان شاء اللہ پاکستان کی ترقی کا سفر رکنے والا نہیں۔اہل پاکستان ، پاکستان کے خلاف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ ڈالیں گے ، ہر سازش کو ناکام بنادیں گے۔ 14اگست 1947ء بمطابق 27رمضان المبارک بروز جمعہ ، لیلتہ القدر کی رات معرض وجود میں آنے والا مملکت خداداد پاکستان اللہ کا انعام ہے۔ اور نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اس خطہ کی جانب رخ کرکے فرمایا تھا ”مجھے خراسان سے ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے” واضع رہے کہ اس وقت کے خراسان میں پاکستان شامل ہے۔

Rana Aijaz

Rana Aijaz

تحریر: رانا اعجاز حسین
ای میل:ranaaijazmul@gmail.com
رابطہ نمبر:03009230033