پیرس کی ڈائری

Zahid Mustafa Awan

Zahid Mustafa Awan

پیرس (زاہد مصطفی اعوان) فرانس میں ہونیوالے دہشتگرد حملوں میں اب تک سرکاری طورپر ایک سو ستائیس افر اد کی ہلاکت کی بات جارہی ہے جبکہ غیر ملکی میڈیا ایک سو ساٹھ سے زائد افراد کے ہلاک اور دو سوکے قریب افراد زخمی کے ہونے کی بات کررہا ہے۔ گذشتہ ہفتے فرنچ وزیر داخلہ برنارڈ کازنیو نے کہا تھا کہ فرانس میں دہشتگردی کا خطرہ ہے لیکن اتنے بڑے لیول کی دہشتگردی کی کوئی بھی توقع نہیں کررہا تھاکہ فرانس میں بیک وقت چھ جگہوں پر دہشتگردی اور پیرس میں خود کش حملے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔گلوبل وارمنگ پر تیس نومبر سے شروع ہونے والی عالمی کانفرنس کے موقع پر دہشتگردی کا خطرہ محسوس کیا جارہا تھااسی لئے تیرہ نومبر سے تیرہ دسمبر کے درمیان سرحریں سیل کرنے کافیصلہ کیا گیا تھا۔

پیرس کے دسویں اور گیارویں ڈسٹرکٹ کے علاوہ پیرس کے مضافانی علاقے سین ڈینی میں واقع اسٹیڈیم آف فرانس کو کو نشانہ بنایا گیا۔ بٹا کلین کانسرٹ ہا ل میں امریکی بینڈ کا کانسٹرٹ جاری تھا،یہاں پر بیاسی افراد کو ہلاک کیا گیا،اسٹیڈیم آف فرانس میں چار افراد ہلا ک ہوئے ،فونٹین اسٹریٹ میںکازا نوسٹرا نامی پیزا شاپ میں پانچ افراد کو ہلاک کیا گیا،شارون اسٹریٹ میں واقع جاپانی ریسٹورنٹ میں اٹھارہ افراد کو ہلاک کیا گیا،البرٹ اسٹریٹ میں کمبوڈین کیفے میں بارہ افراد کو ہلاک کیا گیا جبکہ بلیوارڈ وولٹیر میں خود کش حملہ کو ہلاک ہوا۔

داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے،داعش نے فرنچ اور عربی زبان میں پیغام میں کہا کہ ہمارے آٹھ بھائیوں نے فرانس میں کاروائی کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ دو سو غیر مسلموں کو ہلا ک کیا گیااور یہ سب کچھ فرانس کیلئے صرف ایک وارنگ ہے۔

صدر اولاند نے کہا کہ فرانس پر دہشتگرد فوج نے جنگی اقدام کیا ہے ، یہ حملے فرانس سے باہر کے لوگوں نے کئے جن کی مدد دہشتگردوں کے ہمدردوںنے اندرسے کی ۔صدر اولاند نے بیرونی ہاتھ کی بات اس لئے کی ہے کیونکہ ایک حملہ آور کا شامی پاسپورٹ بھی پولیس کے ہاتھ لگا ہے باقی دہشتگردوں کے ڈی این اے لئے گئے ہیں اور شناخت کا عمل جاری ہے۔صدر اولاند نے کہا کہ ہم سب کو داعش کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔

ہم حالتِ جنگ میں ہیں ،یہ ہر فرانسیسی کے منہ پر یہی الفاظ ہیں داعش نے ہمارے خلاف جنگ شروع کررکھی ہے۔ اپوزیشن لیڈر نیکولا سرکوزی نے حکومت زور دیا کہ سیکورٹی کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔۔۔۔فرانس کے پندرہ سوکے قریب نوجوان جہاد کی غرض سے شام گئے ۔ ان میں سے تین سو وہیں جنگ میں ہلاک ہوئے ،دو سو کے قریب جیلوں میں ہیں اور بقیہ ایک ہزار میں کچھ فرانس میں آگئے ہیں جن کی نگرانی کی جارہی ہے اور کچھ شام میں آج بھی داعش کے ہمراہ لڑ رہے ہیں۔

فرانس بھر میں ایمرجنسی نافد کردی گئی ہے اس کے بعد تمام مشکوک افراد کی نقل وحرکت پر پابندی عائد ہوگئی ہے۔تمام اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ ہو چکی ہے ۔عوام کو گھروں میں رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔جن علاقوں میں حملے ہوئے ہیںوہاں کے گیارہ میٹرو اسٹیشن کو بند کیا گیا ہے۔تعلیمی ادارے بند، میوزیم،سینما گھر،تھیٹر،ڈانسنگ کلب اوریورو ڈزنی کو بھی عارضی طورپر بند کیا گیا ہے۔ہر قسم کے عوامی مظاہروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

پولیس اور فوج پہلے ہی اہم جگہوں کی نگرانی کررہی تھی لیکن اب حکومت نے پندرہ سو مذید فوجی اور سات ہزارپولیس اہلکارتعینا ت کردیئے ہیں۔اس وقت تمام اہم سرکاری عمارتوں، ایفل ٹاور،لوور میوزیم ،ائیر پورٹس ،ریلوے اسٹیشنوں پر فوج اور پولیس کی نگرانی اور گشت بڑھا دی گئی ہے۔یورپی ممالک سے ملحقہ تمام سرحدوں کوسیل کردی گئی ہیں ۔فرانس میں تین روز ہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے ،فرنچ پرچم سرنگوںکردیا گیا ہے۔

۔۔۔عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ دہشتگردوں کی کوشش تھی کہ کسی طرح اسٹیڈیم میں داخل ہوکر حملہ کرکے بڑی تباہی کریں مگر وہ اسٹیڈیم میں داخل نہ ہوسکے اور باہر ہی دھماکا کردیا۔ماہرین کا خیال ہے کہ فرانس نے جنگی بیڑا شارل ڈیگال شام بھیجا ہے ایسے میں داعش کے ردعمل کیلئے تیار رہنا چاہیے تھا کیونکہ دوسروں کی جنگ میں کو د آپ سکون سے نہیں رہ سکتے ۔فرنچ میں غم و غصہ عروج پر ہے جس کی وجہ حکومت سخت پریشانی اور دباؤ میں ہے۔
۔۔۔اس دہشتگردی کی وجہ سے فرانسیسی مسلمانوں کیلئے فرانس اور یورپ میں مشکلات بڑھیں گی۔مسلمان رہنماؤں کی طرف سے عالمی رہنماؤں کی طرح حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے