پاکستان پر بھارتی الزام اور چینی حمایت

China Foreign Ministry Spokeswoman

China Foreign Ministry Spokeswoman

تحریر: سید توقیر زیدی
چین نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مودی سرکار کو دوٹوک جواب دیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی ایک ملک یا مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا، عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی گراں قدر قربانیوں کا احترام کرے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوچو ینگ نے پریس بریفنگ کے دوران بھارتی وزیر اعظم مودی کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کاگڑھ قرار دینے سے متعلق سوال پر سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھارت دہشت گردی کا شکار ہے وہاں پاکستان بھی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر چین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، یہ چین کی مستقل پالیسی ہے، بین الاقوامی برادری کو انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون بڑھانا ہو گا۔

انہوں نے کہاکہ تمام ملکوں کی سلامتی اور استحکام یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ بھارت کے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا جو ردعمل ظاہر کیا گیا’ وہ چین کے پاکستان کا دوست اور خیر خواہ ہونے کا ایک اور واضح اظہار ہے’ اس امر کا ثبوت کہ ہمارا یہ پڑوسی ملک ہر حال میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چین نے بھارت کو جو جواب دیا’ وہ پاکستان کی جانب دارانہ حمایت سے زیادہ اس کا (چین کا) اصولی موقف ہے۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے پاکستان کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پوری عالمی برادری ان کوششوں کا اعتراف کرتی ہے۔ کسی ملک کا کوئی رہنما پاکستان آئے یا پاکستان کو کوئی حکومتی عہدے دار بیرونی دورے پر جائے’ آپریشن ضرب عضب اور اس کے نتائج و اثرات کا ذکر ضرور ہوتا ہے اور پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاک فوج کی ان کاوشوں کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں دہشت گردی پر قابو پانے کے سلسلے میں اچھی خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔

India

India

اس کے مثبت اثرات پاکستان کے اندر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں’ لیکن اگر محسوس نہیں ہو رہا تو بھارت کو۔ دوسری طرف بھارت میں دہشت گردی کا کوئی چھوٹا موٹا واقعہ بھی رونما ہو جائے تو فوراً واویلا شروع ہو جاتا ہے کہ یہ حملہ پاکستان نے کرایا ہے’ جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی فنڈنگ میں بھارت پیش پیش ہے اور اس سرمایہ کاری کا مقصد پاکستان کو کمزور کر کے اپنا دست نگر بنانے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت امریکہ اور اقوام متحدہ کو پیش کیے گئے’ لیکن افسوس کہ دونوں کی جانب سے اس پر مناسب ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ بھارتی سوچ کے برعکس چین نہیںچاہتا کہ اس خطے میں کشیدگی بڑھے اور تصادم کی صورتحال پیدا ہو’ کیونکہ وہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ تصادم کا مطلب تباہی ہے اور کسی بھی نوعیت کا تصادم نہ صرف متحارب ممالک کو تباہی سے دوچار کر دیتا ہے’ بلکہ اس پورے خطے میں ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔

چین کا بھارت کو جواب اسی تناظر میں ہے اور چند روز قبل چین نے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے ثالثی کی جو پیش کش کی ‘ اس کا مقصد بھی پاکستان اور بھارت کے مابین تنائو کو کم کرنا ہی تھا’ جو ایک بڑی اور ہولناک ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ چین کی جانب سے اس اخلاقی جرا? ت کا مظاہرہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا کہ قبل ازیں امریکہ اور برطانیہ اس معاملے میں ثالثی کا کردار قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر چکے تھے کہ دونوں ملک (پاکستان اور بھارت) اپنے معاملات اور مسائل باہمی بات چیت سے حل کریں۔ چینی دفتر خارجہ کی جانب سے اس ردعمل کا تیسرا تناظر وہ اقتصادی کوریڈور ہے’ جو پاکستان میں تعمیر کی جا رہی ہے اور جس سے اس پورے خطے کی ترقی وابستہ ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ چونکہ یہ اقتصادی راہ داری پاکستان میں تعمیر ہو رہی ہے’ اس لیے اس سے صرف پاکستان کو فائدہ ہو گا’ لہٰذا اس کی جانب سے اس کی شدید مخالف کی جا رہی ہے۔

pakistan and Iran

pakistan and Iran

بھارت کی یہ سوچ درست نہیں’ کیونکہ چین نے اس منصوبے میں بھارت کو شامل کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ ایسی ہی پیش کش پاکستان کی جانب سے بھی کی گئی اور چین کی خواہش تھی کہ ایران بھی اس میں شامل ہو جائے تاکہ پورے خطے کی ترقی کا عمل ایک ساتھ شروع ہو اور اس کے مثبت اثرات تمام ممالک تک پہنچیں’ لیکن افسوس کہ بھارت نے اس منصوبے کی اہمیت کا ادراک کرنے کے بجائے چاہ بہار بندرگاہ کو ترقی دینے کے لیے الگ سے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی’ جس کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانا اور خطے کو اس کے مثبت اثرات سے محروم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔بی این پی کے مطابق اب بھی وقت ہے کہ مودی پاکستان دشمنی میں جلنے کے بجائے اس کے ساتھ مل کر ترقی کی اگلی منزلیں طے کرنے کا قصد کر لیں۔ وہ اگر تیزی سے بدلتے ہوئے حالات و واقعات کے مطابق آگے نہیں بڑھیں گے تو وقت ان کی خاطر رکے گا نہیں۔ بھارتی قیادت اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں تغافل جاری رکھے گی تو اس مسئلے کے حل کی ضرورت ختم نہیں ہو جائے بلکہ کسی روز یہ لاوا زیادہ شدت کے ساتھ پھٹے گا اور پورے خطے کا امن دائو پر لگ جائے گا۔

چین نے بھارت کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ پیغام محض بھارت کے لیے نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے بھی ہے کہ تمام ملکوں کی سلامتی اور استحکام یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششیں کی جانی چاہئیں۔ کسی ملک کو یہ اجازت یا جرات نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے اور وہاں دہشت گردی بڑھانے کے لیے سازشیں کرے۔ بھارت کو بھی پاکستان کے خلاف یہ سازشیں ترک کرکے ترقی کی منزل کی جانب اس کا ہم سفر بننا چاہیے۔

Syed Tauqeer Zaidi

Syed Tauqeer Zaidi

تحریر: سید توقیر زیدی