پاکستان کو ایک قائد کی ضرورت ہے

leader

leader

تحریر : چودھری عبدالقیوم
آج سے 40/50 سال پہلے تک سیاست قوم اور ملک کی خدمت کا ایک مشن خیال کی جاتی تھی اور اس کوعبادت کا درجہ دیا جاتا تھا۔ اپنی خدمات اور کارناموں کی سیاست کی بنا پر سیاستدانوں کو معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل تھا لیکن افسوس آج پیارے پاکستان میں سیاستدانوں کی کرپشن اور لوٹ مار کی بنا پر سیاست ایک گالی بن چکی ہے۔ ہم لوگ اکثر کہتے ہیں کہ ملک ترقی نہیں کررہا عوام خوشحال نہیں ہورہے۔ ملک تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے ۔لیکن ہم نے کبھی یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ ایسا کیوں ہے اگر ٹھنڈے دماغ سے غور کیا جائے تو اس کا جواب بڑا سادہ سا ہو گا کہہمارے ہاں قیادت کا بہت زیادہ فقدان رہا ہے بدقسمتی سے بانی پاکستان حضرت قائداعظم کے بعد ملک کو کوئی مخلص،محب وطن اور باکردار قائد نہیں ملا جو صیح معنوں میں قوم کا لیڈر ہو۔سیاست میں آنے والے سبھی لوگوں نے اقتدار کو اپنی منزل سمجھا ان لوگوں کے پاس ملک اور اور قوم کی فلاح و بہبود کا کوئی ایجنڈا نہیں رہا اور نہ ہی ان کے پاس ملک و قوم کی خدمت کا کوئی ویژن ہوتا ہے پاکستان میں کہنے کو جمہوری نظام چل رہا ہے۔لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ہمارے یہاں کی جمہوریت دنیا میں رائج جمہوری نظام سے قطعی مختلف ہے چند سیاسی جماعتوں کے علاوہ اکثر پارٹیوںکے اندر خاندانی سیاست چل رہی ہے اس کی وجہ سے ہمارے جمہوری نظام میں عام آدمی کا سیاست اور الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے علاوہ کوئی کردار نہیں ۔ہمارے ہاں اسمبلیوں میں بیٹھے سرمایہ داروں ،جایرداروں اور دولتمندوں نے جمہوریت کو اپنی ضرورت کے مطابق ڈال لیا ہے وہ اسمبلیوں میں جمہوریت اور اکثریت کو اپنے مفادات کے لیے استمعال کرتے ہیں ناکہ عوام واور ملک کی فلاح و بہبود کے لیے ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک چند خاندانوں کے لوگ ہی باری باری برسراقتدار رہے ہیں جنھوں نے اس ملک کو کچھ دینے کی بجائے لُوٹ مار کرپشن کے علاوہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔

میں ہمیشہ جمہوری نظام کے حق میں رہا ہوں اور مارشل لاء کے خلاف اور جمہویت کے حق میں قید وبند کی صعوبتیں بھی کاٹی ہیں ۔ ہم کبھی بھی نہیں یہ چاہتے کہ ملک میںپاک فوج دفاعی امور کے علاوہ کوئی اور کام یا حکمرانی کرے۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے پاکستان میں زیادہ تر ترقیاتی کام مارشل لاء کے ادوار میں ہوئے فوجی جرنیلوں میں بیشمار خامیاں ہونگی لیکن انھوں نے اتنی لوٹ مار اور کرپشن نہیں کی ہوگی۔ جسقدر سیاستدانوں نے جمہوریت کے نام پر اس ملک کو لوٹا اور برباد کیا ہے۔خاص طور پر پاکستان کی سیاست میں جنرل ضیاء مرحوم کے 1985ء میں کرائے جانے والے غیرجماعتی الیکشن میں سیاست کا ایک نیا طبقہ اور ٹرینڈ سامنے آیا چونکہ سیاسی جماعتوں نے اس الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا تو کچھ پرانے اور زیادہ تر نئے لوگ غیرجماعتی الیکشن میں سامنے آگئے جو سیاست کی ابجد سے بھی واقف نہیں تھے ان کا مقصد صرف اور صرف حکومت میں شامل ہونا تھا اس طرح اس غیرجماعتی الیکشن کے نتیجے میں وہ لوگ بھی اسمبلیوں میں پہینچے جو سیاستدانوں کے مقابلے میں کبھی کونسلر تک منتحب نہیں ہوسکتے تھے اسی کھیپ میں میاں نوازشریف کی فیملی بھی جنرل جیلانی کی وساطت سے سیاست میں داخل ہوئی جنھوں نے سالہاسال تک مرکز اور پنجاب پر حکمرانی کی حالنکہ اس سے پہلے ان کا ماضی میں سیاست سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں تھا۔

اسی غیرجماعتی الیکشن میں پہلی بار کاروباری طبقے اور امیر امیدواروں کیطرف سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے سرمائے کا استمعال شروع ہوا پہلے اس کی ابتداء ووٹروں کو چائے پانی اور کھانے کھلانے سے کی گئی بعد ازاں ووٹ لینے کے لیے پیسے دینے کا رواج زور پکڑتا گیا اس سے پہلے سیاستدانوں کے پاس پیسہ نہیں تھا ارکان اسمبلی غریب ہوتے تھے اور وہ لاھور و اسلام آباد اسمبلی کے اجلاسوں میںجانے کے لیے پبلک ٹراسپورٹ استعمال کرتے تھے ا کیونکہ اکثر ممبران اسمبلی کے پاس اپنی گاڑیاں نہیں تھیں پھر سیاست میں کاروباری لوگ آگئے انھوں نے سرمائے کے استعمال سے سیاست کو ایک انڈسٹری اورکاروبار بناکر رکھ دیا ۔یونین کونسل کی سربراہی حاصل کرنے کے لیے کونسلروں تک کے ووٹ خریدے گئے انھیں چھانگا مانگا سے لے کر غیرممالک کے سیرسپاٹے کرانے کا آغاز ہو ارکان اسمبلی،اور چھوٹے موٹے سیاستدانوں کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں اسلحہ بردار گارڈ رکھنے کو رواج پیدا ہوا ان خراجات کو پورے کرنے لیے ممبران اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کے نام پر کروڑوں اور اربوں روپے کے فنڈز دئیے گئے اس طرح سیاست باقاعدہ کاروباربن گیا ۔ جس نے سیاست میں کرپشن کا وہ ناسور بویا کہ اللہ کی پناہ۔سیاستدانوں نے کرپشن کے عالمی ریکارڈ قائم کیے سرے محل سے لے کر پانامہ تک کرپشن کی کہانیوںنے اتنی شہرت حاصل کی کہ پوری دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

میاں نواز شریف نے ،قرض اُتارو ملک سنوارو؛ کا نعرہ لگایا قوم نے اس میں حکومت کو اربوں روپیہ دیا لیکن آج تک نہیں پتہ چل سکا کہ قوم کے یہ اربوں روپے کہاں گئے۔سیاست کرنے والی 9 مذہبی جماعتوں کے اتحاد آئی جے آئی نے ملک میں نفاذ مصطفےٰۖ کا نعرہ لگایا لیکن کیا ہوا سب کے سامنے ہے۔1985ء کے بعد جب سیاست کمائی کا ذریعہ بن گیا تو سیاستدانوں نے اپنے بچوں کو غیرممالک میں تعلیم دلانا شروع کردی ملک کا سرمایہ دوسرے ممالک میں لے جاکر وہاں کاروبار قائم کیے اورمہنگی ترین رہائشیں بنائیں حتیٰ کہ اب سیاستدان اپنی معمولی سے معمولی بیماری کا علاج بھی امریکہ اور یورپ کے ممالک میں کراتے ہیں۔ پاکستان کیساتھ ان کا مفاد صرف اور صرف ووٹ لینے اور اقتدار حاصل کرنے کی حد تک رہ گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں میں حکمران ،وزرا، اور ممبران اسمبلی تو بہت زیادہ ہیں لیکن قوم کا لیڈر کوئی نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے ہم ہر لحاظ سے دنیا میں بہت پیچھے ہیں ۔قیام پاکستان کے بعد1968ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے صدر جنرل ایوب سے راہیں جدا کرکے اپنی پارٹی بنائی تو اس کے پاس اپنا ایک سیاسی ویژن تھا ۔جس کی بناء پر اس نے نہ صرف ملک کے اندر مقبولیت حاصل کی بلکہ دنیا بھر میں شہرت پائی پیپلز پارٹی اور بھٹو کی سیاست سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس نے اپنی سیاست کے لیے ہی سہی مگر اپنی جاگیردار کلاس کے خلاف بغاوت کرکے غریبوں کے مفاد کی بات کی روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا اور عام آدمی کو نہ صرف سیاسی شعور دیا بلکہ کئی بالکل غیر معروف لوگوں کو اسمبلیوں میں پہنچایا غریب آدمی کو وزیر مشیر بنایا ۔ اور اپنے سیاسی اصولوں کی پاسداری کی بھٹو پھانسی پا گیا لیکن اس نے اپنا فلسفہ نہیں چھوڑا پاکستان کی سیاست میں آج بھی اس کا نام زندہ ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی پارٹی بھی اپنی اقدار کھو چکی ہے اور اس کے نام اور پارٹی کو اب تک اقتدار کے حصول کے لیے کیش کرایا جارہا ہے ۔حالانکہ پیپلز پارٹی کی سیاسی وراثت بھی اب کسی بھٹو کے پاس نہیں بلکہ زرداری خاندان کے پاس ہے آج اگر دیکھا جائے تو بڑی دیر بعد سہی ملک کی سیاست میں عمران خاں کی صورت میں اپناا یک ویژن رکھنے والا سیاستدان سامنے آیا ہے۔

بنیادی طور عمران خان بھی سیاستدان نہیں ایک کرکٹر ہے جس نے پاکستان کو کرکٹ کے عالمی چمپئین کا اعزاز لے کر دیا ملک میں کینسرجیسی موذی بیماری کے لیے شوکت خانم میموریل ہسپتال اور عام آدمی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے نمل یونیورسٹی جیسے منصوبے مکمل کیے۔کچھ عرصہ سے وہ ملک کی سیاست میں ہے اس نے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ملک میں انصاف اور تبدیلی کا نعرہ لگایا ہے۔ یہ عمران خاں کا ایک ویژن ہے جس سے بہت لوگوں اور سیاسی جماعتوں کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے البتہ اس نے اپنے اس نعرے سے لوگوں کو ایک شعور دیا اور یہ حقیقت ہے کہ اس کے تبدیلی اور انصاف کے نعرے نے عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے ۔میرا یہاں کسی کی وکالت اور حمایت کرنا مقصود نہیں۔بس اتنی خواہش اور دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم اور ملک کو کوئی محب وطن ،باکردار اور اچھا لیڈ عطاکردے ۔جو پیارے پاکستان اور اس قوم کو ترقی اور خوشحالی کی منزلیں دلائے اس ملک میں امن قائم ہو اانصاف کا بول بال ہو۔ پاکستان کو حضرت قائد اعظم حضرت علامہ اقبالکے خوابوں کی تعبیر بنا دے ۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جوکسی قوم اور ملک کو لیڈکرتا ہے ۔کسی قوم اور ملک کو لیڈ کرنے والے کو اقتدار اور حکمرانی کا لالچ نہیںہوتا وہ اپنے لیے نہیں دوسروں کے لیے سوچتا ہے اپنی قوم اور ملک کے لیے سوچتا ہے بدقسمتی یہ بھی ہے اس دھرتی پر رہنے اور اس کے وسائل سے عیاشیاں کرنے والے کچھ بدبخت سیاستدان اسی پاک سرزمین کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو اپنے مفاد اوراقتدار کے علاوہ اور کوئی بات سوجھتی ہی نہیں وہ ملک کے ان غداروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتے ۔ہمارے سیاستدانوں کی ہوس اقتدار اور لالچ نے قائد اعظم کے پاکستان کو دو ٹکڑے کیا َ دوسری طرف ہمارا ازلی دشمن بھارت ہم سے کہیں بہت زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا بہت بڑا ملک ہے اور وہاں کئی علیحدگی پسند تنظیمیں بھی بھارت کے خلاف سرگرم ہیں لیکن دشمن ملک کے سیاستدان اپنے ملک کیساتھ مخلص اور وفادار ہیں وہ ہر طریقے اور سختی کیساتھ بھارت کے خلاف کام کرنے والے علیحدگی پسندوں کو کچل دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ مقبو ضہ جموں وکشمیر میں آزادی کے لیے لڑنے والے مجاہدین کی جدوجہد آزادی کی تحریک کو کچلنے میں مصروف ہیں اورہمیشہ پاکستان کے وجود کیخلاف سرگرم رہتے ہیں۔اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے عوام دشمن ملک کے عوام سے کہیں زیادہ محب وطن ہیں اور پاکستان کی حفاطت اور دفاع کے لیے ہمیشہ اپنی بہادر فوج کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔

ملک میں کرپشن اور لوٹ مار کرنے والے سیاستدانوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن یہ لوگ اقتدار کے ایوانوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور ان لوگوں نے اسمبلیوں میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر آئین،قانون اور جمہوریت کو اپنے مفادات کے تابع بنا رکھا ہے۔سیاستدانوں کی اکثریت محب وطن اور بے لوث ہے لیکن وہ ملک میں جاری سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی وجہ سے اقتدار کے ایوانوں اور اسمبلیوں میں داخل نہیں ہوسکتیورنہ ملک میں سیاستدانوں کی اکثریت محب وطن اور ملک و قوم کی وفادار ہے ۔ملک کو ایسے قائد کی ضرورت ہے جو اس ملک کی تقدیر بدلنے کا پروگرام اور ویژن رکھتا ہو جو اپنی ولولہ انگیز قیادت سے صیح معنوں میں حضرت قائداعظم کی جانشینی کا حق ادا کرے اور پاکستان کو ان کے خوابوں اور خواہشات کی تعبیر بنائے۔ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا قائد ضرور ملے گا کہ یہ ملک ،پاکستان کا مطلب کیا ۔لاا لہ الااللہ کے نعرے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کا حامی و ناصر ہے۔پاکستان کے بدخواہ اور دشمن ہی ذلیل و خوار ہونگے۔پاکستان زندہ باد کا نعرہ ہمیشہ گُونجتا اور بلند ہوتا رہے گا۔

Abdul Qayum

Abdul Qayum

تحریر : چودھری عبدالقیوم