پاکستان سرجیکل اور لیپروسکوپ کے جدید طریقہ کار کو سیکھنے اور اپنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ معین الحق

Moin-ul-Haq

Moin-ul-Haq

پیرس (زاہد مصطفی اعوان سے) پاکستان سرجیکل اور لیپروسکوپ کے جدید طریقہ کار کو سیکھنے اور اپنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ سفیر پاکستان جناب معین الحق نے یہ بات پروفیسر جیکوس میریزکاز جو کہ آئی آر سی اے ڈی کے بانی اور صدر ہیں سے فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں کل ہونے والی ملاقات میں کہی۔

جناب سفیر نے آئی آر سی اے ڈی انسٹی ٹیوٹ کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اور ادارے کی طرف سے دی جانے والی تربیتی سہولیات خاص طور پر سرجری، لچکدار اندرونی انڈوسکوپی اور ربوٹک سرجیکل ترکیب میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

پروفیسر جیکوس میریزکاز اور ان کی ٹیم نے آئی آر سی اے ڈی کے بارے میں جناب سفیر پاکستان کو مکمل بریفنگ دی۔ میٹنگ کے دوران ممکنہ شعبہ جاتی تعاون، آئی آر سی اے ڈی اور پاکستان کے درمیان معروف طبی سہولیات، پاکستانی سرجنز کی تربیت اور باہمی تحقیق کے بارے میں تعاون کے موضوعات زیر بحث آئے۔

1992 میں بننے والا آئی آر سی اے ڈی سنٹر سرجیکل، لچکدار اندرونی انڈوسکوپی اور ربوٹک سرجیکل ٹیکنیک میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل ادارہ بن چکا ہے۔ آئی آر سی اے ڈی پوری دنیا سے ہر سال 5,000 کے لگ بھک سرجنز کو تربیت دے رہا ہے۔

بعد میں سفیر پاکستان نے پاکستانی طبی ماہرین جو ایچ ای سی کی طرف سے یونیورسٹی آف سٹراسبرگ میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں ان سے بھی ملاقات کی اور پاکستانی ڈاکٹروں مثالی طرز عمل کی تعریف کی اور انہیں تلقین کی کہ وہ اس ادارے سے اعلی تربیت اور تحقیق حاصل کرنے کے بعد اپنے اس تجربہ کو پاکستان کے صحت کے شعبہ جات میں روشناس کرائیں۔