اس سال مئی 2016ء میں پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ملا جلا رجحان رہا

Real Estate Sector

Real Estate Sector

کراچی (زمین ڈاٹ کام مارکیٹ رپورٹ) اس سال مئی 2016ء میں پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ملا جلا رجحان رہا۔ پاکستا ن کے سب سے بڑے رئیل اسٹیٹ پورٹل زمین ڈاٹ کام کی جانب سے تیار کردہ اعدادوشمار کے مطابق لاہور اور کراچی کی کارکردگی تو اچھی رہی تھی لیکن اسلام آبادکی مارکیٹ میں موثر نمو نظر نہیں آئی۔

صوبائی دارلحکومت لاہور کی پراپرٹی مارکیٹ میں بحریہ ٹاون کچھ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکالیکن دوسری جانب بحریہ آرچرڈ کی کارکردگی شاندار رہی۔ ڈی ایچ اے لاہور کے فیز VII سے IX تک منافع بخش ٹرینڈ نظر آئے جبکہ ایل ڈی اے ایونیو I کا بلندی کی جانب سفر جاری رہاہے ۔دوسری جانب وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکا۔یہا ں پر ڈی ایچ اے میں پراپرٹی کی قدر مستحکم رہی تاہم بحریہ ٹاون میں قیمتوں میں مزید کمی ہوئی اور سیکٹر بی 17 بھی سرمایہ کاروں کو متاثر کرنے میں ناکام رہا۔اگر کراچی کی جانب دیکھیں تو کراچی کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جہاں گلشن اقبال کے علاوہ کم و بیش تمام علاقوں میں شرح نمو یعنی گروتھ دیکھی گئی۔ دوسرے علاقے جیسا کہ ڈی ایچ اے سٹی کراچی، ڈی ایچ اے کراچی اور بحریہ ٹاون کراچی میںبھی زبردست گروتھ کا مشاہد ہ کیا گیا ہے۔ڈی ایچ اے کے پراجیکٹس نے پلاٹس اور گھروں کے حوالے سے ملک بھر کی پانچ مشہور علاقوں میں جگہ بنائی۔ تاہم ڈی ایچ اے کراچی کے گھر اس سے مستثنیٰ رہے۔ یہ امر حیران کن ہے کہ ایڈن کے ہاوسنگ پراجیکٹس بھی مقبول ہوئے اور لاہور کے پہلے پانچ بہترین علاقوں کی لسٹ میں نظر آئے۔

ماہِ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی لاہور کی پراپرٹی کی مارکیٹ میں کچھ عرصے کیلئے سست روی کا عنصر تاری ہو جاتا ہے تاہم اس مرتبہ امید ہے کہ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کارکردگی اور پراپرٹی قیمتوں کے حوالے سے استحکام نظر آئے۔

لاہور
لاہور کی پراپرٹی مارکیٹ کو اگر ہم غور سے دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ سرمایہ کاروں نے مئی کے مہینے میں ڈی ایچ اے لاہور کے فیز VII سےIX پر توجہ مرکوزرکھی ہے کیونکہ اِن فیزز میں ایک کنال پلاٹ کی قیمتیں 4.90 فیصد بڑھی ہیں۔ ڈی ایچ اے لاہور کے پہلے چھ فیزز میںایک جیسی کارکردگی نہیں دیکھی گئی لیکن ان کی کارکردگی قطعی ٰطور پر مایوس کن نہیں تھی۔دوسری جانب لاہور میں بحریہ ٹاون میں استحکام رہا تاہم بحریہ آرچرڈ نے ایک کنال پلاٹس کی قیمتوں میں 6.39 فیصد اضافہ کے ذریعے سرمایہ کاروں کو متاثر کیا۔

رائیونڈ روڈ پر واقع دوسرے علاقوں کی طرح ایل ڈی اے ایونیو I نے مئی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جہاں10 مرلہ پلاٹس کی قیمتوں میں 7.57 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری طرف واپڈا ٹاون صرف استحکام تک محدود رہا۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ واپڈا ٹاون اب مکمل طور پر ڈیولپڈ ہے اورجہاں سرمایہ کاری بہت کم نظر آتی ہے۔

اسلام آباد
مئی میں اسلام آباد کی رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے سرمایہ کاروںکو تھوڑا سا مایوس کیاہے ۔ ڈی ایچ اے اسلام آباد میںایک کنال پلاٹس کی قیمتوں میں صرف 0.67 فیصد اضافہ دیکھا گیا’ جبکہ اسلام آباد کے دوسرے اہم ترین علاقے بحریہ ٹاون میں سست روی کا عنصر دیکھا گیا ہے جہاں ایک کنال پلاٹس کی قیمتیں 1.82 فیصدکم ہوئی ہیں ۔شاید سرمایہ کار بحریہ ٹاون کے ملک بھر میں دوسرے پراجیکٹس میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ بحریہ ٹاون اسلام آباد/راولپنڈی کے ضمن میں حالات کا اندازہ لگارہے ۔

اسلام آباد میں سیکٹر ای11 اورایف 11 بھی کچھ زیادہ مختلف نہیںجہاں قیمتیںبالترتیب 0.16 فیصد اور 0.96 بڑھیں۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ سیکٹرز بڑی حد تک جینوئن خریداروں اور بیچنے والوں کو خدمات پہنچاتے ہیں کیونکہ اب اِن کے پاس کچھ ہی پلاٹس رہ گئے ہیں۔

کراچی
کراچی کی منافع بخش رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے اپنی بہترین کارکردگی کی مدد سے سرمایہ کاروں کو اپنی طرف پوری طرح متوجہ کیاہوا ہے ۔ ڈی ایچ اے کراچی میں قیمتیں پچھلے کچھ مہینوں سے مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ مئی 2016 میں اِدھر 500مربع گزپلاٹس کی قیمتوں میں1.07فیصد کنٹرولڈ اضافہ دیکھا گیا اور مستقبل میں مزید گروتھ کا پوٹینشل نظر آرہا ہے۔

بحریہ ٹاون کراچی بھی پرجوش سرمایہ کارانہ کارکردگی کے ساتھ دوڑ میں شامل رہا جہاں 500مربع گز پلاٹس کی قیمتوں میں2.86 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ گلشن اقبال اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکا جہاں500 مربع گز پلاٹس کی قیمتوں میں صرف 0.24 اضافہ ہوا۔

تجزیہ
ڈی ایچ اے لاہور کے فیز VIII ا ور فیزVII کے منتخب بلاکس میں بہت جلد قبضہ دیئے جانے کا امکان ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار اِن میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔پرزم 9 میں ترقیاتی کام شروع ہوگیا ہے اور توقع ہے کہ یہ پراجیکٹ سرمایہ کاروں کو مایوس نہیں کرے گا۔فیز VII سے فیز IX میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ بحریہ ٹاون لاہور میں قیمتیں کئی بار بڑھی ہیں جس کی وجہ سے اب سرمایہ کار بحریہ آرچرڈ پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ ایل ڈی اے ایونیو I میںاب قیمتیں بڑ ھ جائیں گی، دوسری طرف واپڈا ٹاون کم و بیش اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے یہ علاقہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا مرکز نہیں بن سکا ہے ۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جو سرمایہ کار اپنا پیسہ اسلام آباد کی مارکیٹ میں لگارہے ہیں ان کو نپے تلے قدم اٹھانے چاہئیں۔ بحریہ ٹاون اسلام آباد/راولپنڈی میں قیمتوں میں کمی کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہآج کل سرمایہ کارملک بھر میں بحریہ ٹاون کے دوسرے پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کررہے ۔اسی طرح بلاک ڈی میں زمین سے متعلق مسائل کے حل کے بعد سیکٹر بی 17میں بہتر سرمایہ کاری نظر آئیگی۔ ڈی ایچ اے اسلام آباد میں حالیہ دنوں قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اگرچہ یہ ٹرینڈ سست روی کا شکار ہوا جس سے یہ تاثر ملا کہ یہاں قیمتوں میں استحکام ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کو خائف نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ یہاں شرح نمو کیلئے بہت موقع موجود ہے ۔دوسری طرف جوں ہی ترقیاتی کام مکمل ہوا ڈی ایچ اے ویلی میں لازمی طور پر قیمتیں بڑھینگی۔

شہر قائد کراچی کا پراپرٹی سیکٹر پچھلے کچھ مہینوں سے بہترین کارکردگی کامظاہرہ کررہا اور موجودہ ٹرینڈز سے لگتا ہے کہ ڈی ایچ اے سٹی کراچی اس وقت سرمایہ کاری کے لیئے سب سے بہتر ہے۔ اس کے علاوہ بحریہ ٹاون کراچی میں بھی سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے اگرچہ سرمایہ کاروں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ یہاں قیمتیں اتار چڑھاو کا شکار رہینگی۔

زمین ڈاٹ کام کے چیف ایکزیکیٹیو آفیسرذیشان علی خان کا کہنا ہے: “اتار چڑھاو رئیل اسٹیٹ کاروبا ر کا اہم جزو ہے اس لیئے سرمایہ کاروں کو اسلام آباد میں قیمتوں میں حالیہ کمی سے خائف نہیں ہونا چاہیئے۔مجھے لاہور کی پراپرٹی سیکٹر میں کافی زیادہ سرمایہ کاری کا پوٹینشل نظر آرہا ہے اور میرا یہ یقین ہے کہ لاہور رِنگ روڈ کے جنوبی حصے کے ساتھ والے علاقوں میں قیمتیں بڑھینگی۔جہاں تک کراچی کا تعلق ہے تو مجھے امید ہے کہ شہر مستقبل میں بھی سرمایہ کاروں کو پرجوش رکھے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ماہِ رمضان میں خرید و فروخت میں کمی آئے گی جو بعد میں معمول پر آئے گی۔ آخرکار یہ وقت سب بشمول پراپرٹی مارکیٹ کے لیئے اپنی درستگی، امن اور آشتی کا ہے۔”