پانامہ کے بعد نئی ایکشن فلم پیراڈائز

Paradise Leaks

Paradise Leaks

تحریر : روہیل اکبر
ابھی پاناما لیکس کے حوالہ سے فلم جاری ہے کہ لوٹ مار اور کرپشن سے بھر پور نئی ایکشن فلم آئی سی آئی جے نے ایک اور بڑا دھماکا کردیا اور ‘پیراڈائز لیکس’ کے نام سے مزید خفیہ دستاویز جاری کردیں جس میں دنیا کی معروف شخصیات اور کمپنیوں کے نام شامل ہیں۔پیراڈائز پیپرز میں شامل سب سے بڑا بین الاقوامی نام برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم کا ہے۔

دستاویز کے مطابق ملکہ الزبتھ نے آف شور کمپنیوں میں کئی ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی۔ دستاویز میں جن بین الاقوامی شخصیات کے نام آئے ہیں ان میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن، امریکی وزیر تجارت ولبر راس، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 13 قریبی ساتھی، کینیڈین وزیراعظم کے قریبی ساتھی و مشیران، اردن کی سابق ملکہ نور، یورپ میں نیٹو کے سابق کمانڈر ویزلے کلارک بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ مائیکروسافٹ، ای بے، فیس بک، نائیکی اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کے حوالے سے بھی اہم انکشافات کیے گئے ہیں جبکہ گلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو کی بھی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔پیراڈائز پیپرز میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کے حوالے سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے میڈیکل اور کنزیومر لون کے شعبے میں کام کرنے والی آف شور کمپنیوں میں کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

دستاویز کے مطابق ملکہ برطانیہ کی ذاتی اسٹیٹ کمپنی ڈچی آف لنکاسٹر نے 2007 تک کے مین آئی لینڈز کے ایک فنڈ میں سرمایہ کاری کی جس نے آگے ایک پرائیوٹ ایکوئٹی کمپنی میں سرمایہ کاری کرتی تھی۔ یہ کمپنی غریب افراد کو ادھار پر گھریلو اشیاء فراہم کرتی تھی جس پر شرح سود 99.9 فیصد تک تھا۔اس کے علاوہ اردن کی سابق ملکہ نور کا نام بھی سامنے آیا ہے جو جرسی نامی جزیرے میں دو ٹرسٹوں کی استفادہ کنندہ (بینیفیشری) کے طور پر سامنے آئی ہیں۔یورپ میں نیٹو کے سپریم کمانڈر رہنے والے سابق امریکی جنرل ویزلے کلارک بھی ایک آن لائن گیمبلنگ کمپنی کے ڈائریکٹر تھے اور اس کمپنی کی ذیلی آف شور کپمنیاں بھی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ مائیکروسوفٹ کے شریک بانی پال ایلن اور ای بے کے بانی پائری اومیڈیار کا نام بھی سامنے آئے ہیں اور ان کی جانب سے بھی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا انکشاف ہوا ہے۔معروف امریکی گلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو نے بھی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔ اس کے علاوہ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے قریبی ساتھی اور مشیر اسٹیفن برونفمین کا نام بھی پیراڈائز پیپرز میں ہے جبکہ موجودہ امریکی وزیر تجارت ولبر راس نے بھی روسی بااثر شخصیات کے لیے کام کرنے والی ایک کمپنی سے مالی فائدے حاصل کیے۔ انہوں نے کے مین آئی لینڈز میں موجود متعدد کمپنیوں کے ذریعے نیویگیٹر ہولڈنگ نامی جہاز رانی کی کمپنی میں سرمایہ کاری کی۔

پیراڈائز پیپرز میں دنیا کی بڑی کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس بچانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق فیس بک نے اربوں ڈالر کا منافع آئرلینڈ کے ذریعے ’کے مین‘ آئی لینڈ منتقل کیا جہاں ٹیکس شرح صفر فیصد ہے۔ فیس بک کچھ ملکوں میں اشتہارات سے ملنے والے منافع پر ٹیکس ادا نہیں کرتی۔کھیلوں کی ملبوسات بنانے والی کمپنی نائیکی جیسی بڑی کمپنی نے ہالینڈ میں ایسا سیٹ اپ بنا رکھا ہے جس کے ذریعے یورپ اور مشرق وسطیٰ سے ملنے والے منافع کے بڑے حصے پر ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔ اس خطے سے ملنے والا منافع تقریباً ساڑھے 8 ارب یورو تک پہنچتا ہے۔ کمپنی نے امریکا سے باہر تقریباً 12.25 ارب ڈالر جمع کیے جن پر 2 فیصد سے بھی کم ٹیکس دیا۔دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے حوالے سے یہ تفصیلات آئی ہیں کہ یورپی یونین کے کمیشن نے گزشتہ سال ایپل کو حکم دیا تھا کہ وہ ٹیکس کی مد میں 13 ارب یورو آئرلینڈ کو ادا کرے۔ یہ مقدمہ اب بھی یورپی عدالت انصاف میں زیر سماعت ہے۔

پیراڈائز پیپرز میں جن پاکستانیوں سمیت بین القوامی شخصیات کے نام آئے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں سابق وزیراعظم شوکت عزیز ،این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی،ملکہ الزبتھ دوئم،گلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو،اردن کی سابق ملکہ نور،سابق امریکی جنرل ویزلے کلارک،مائیکروسوفٹ کے شریک بانی پال ایلن،کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے مشیر اسٹیفن برونفمین،امریکی وزیرخارجہ ٹلرسن،تین سابق کینیڈین وزراعظم ،جاپان کے وزیراعظم،قطری شہزادے حماد بن جاسم الثانی،سعودی شاہ سلیمان بن عزیزاور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاناما کی طرح پیراڈائز کے متاثرین کے خلاف بھی کسی قسم کی کوئی کاروائی عمل میں لائی جائیگی یا بس ایک کان سے سنا اور دوسرے سے نکال دیا والا محاورہ کام کرجائیگا کیونکہ جب ہم کسی بھی چیز کو بار بار دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں تو پھر اسکی اہمیت ختم ہوجاتی ہے جیسے ہم نے آج تک سیاست میں ایسے افراد کو چنا جو بار بار ہمار خون چوستے رہے اور ہم سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی انہی افراد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ووٹ دیتے رہے جنہوں نے ہمیں روٹی کپڑا اور مکان سے ہی فارغ کردیا اور ایسے افراد کی ہمارے معاشرے میں بھر مار ہے جنہوں نے راتوں رات پیسہ کمایا اور ارب پتی بن گئے ابھی تو صرف ایک شریف فیملی کا کھاتہ کھلا ہے جو بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہاجبکہ باقی کے سیاستدانوں اور انکے حواریوں کے متعلق بھی کرپشن کی ایسی ایس ہوش اڑانے والی داستانیں موجود ہیں جو ابھی تک تو لوٹ کے مال سے مزے لے رہے ہیں سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کے حوالی سے کرپشن کی جو داستانیں منظر عام پر ہیں اور انہوں نے کہاں کہاں مال اور جائیدادیں بنا رکھی ہیں اسکی تفصیل کل لکھوں گا۔

Rohail Akbar

Rohail Akbar

تحریر : روہیل اکبر
03004821200