پاناما انفیکشن اور وزیراعظم و فیملی

Sharif Family

Sharif Family

تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم
چلیں آج اضطرابی کیفیت میں مبتلا پاکستانی قوم کی پاناما لیکس سے جان تو چھوٹ گئی ہے کیونکہ پچھلے سال اپریل 2016 ء سے ایوانوں سے لے کر گلی محلے کے پان کے کیبن میں موجود پان سگریٹ اور ہوٹلوں میں چا ئے اور سبزی بیچنے اور بھوسی ٹکڑے لینے والوں تک کو تو پاناما لیکس کے فیصلے کا جس شدت سے انتظارتھا وہ بھی کسی سے ٹھکا چھپا نہیں ہے گزشتہ دِنوں یہ بہت اچھا ہواکہ سُپریم کورٹ نے 540 صفحات پر مشتمل پاناما لیکس کاتاریخی فیصلہ سُنا دیا ہے، یہ حقیقت ہے کہ فیصلہ جیسا بھی ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ پانا ما لیکس کا آنے والا فیصلہ صدیوں یاد رکھا جا ئے گا، اور ہماری آنے والی نسلیں اِس سے اپنے نظریئے اور اپنی ضرورت کے مطابق استفادہ حاصل کریں گیں،اِس موقع پر ہمیں یہ اُمید بھی ضرور رکھنی چاہیئے کہ آنے والے وقتوں میں اِس فیصلے کے ثمرات مُلک اور قوم پر نمایاں ہوتے جا ئیںگے کہ آج سُپریم کورٹ نے متاثرین پانا ماکے بارے میں جو فیصلہ کیا ہے اِس سے مُلکی سیاست و معیشت اور اداروں اور عوام سمیت با لخصوص ظاہر و با طن کرپشن زدہ افراد پر کیا اور کیسے اثرات مرتب ہوں گے؟؟ سب کاکچھ اچھا یا بُرا سب کے سا منے آجا ئے گا۔

تاہم سُپریم کورٹ کے پا ناما سے متعلق آنے والے فیصلے کے منظر اور پس منظر میں اِس سے کسی کو اِنکار نہیں کرنا چا ہئے کہ گزشتہ ایک سال سے پاناما اِنفیکشن سے متاثرہ وزیراعظم نوازشریف اور اِن کے فیملی ممبران سُپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے کے مطا بق تشکیل دی جا نے والی جے آئی ٹی (پامانا وائر ل کو جانچنے والی لیباٹری میں پیش ہونے کے پابند ہیں اِس طرح یہ ) ابھی تک زیرعلاج ہیں مگر پتہ نہیں کیوں وزیراعظم کی جماعت ن لیگ والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ اِن کے لیڈرکو پا نا ما وائرل سے نجات مل گئی ہے حا لا نکہ پا نا ما انفیکشن کا علاج کرنے والے پانچ افراد میں سے دوکا خام خیال یہی ہے کہ پا نا ما وائر ل نے وزیراعظم نواز شریف اور اِن کی فیملی کے افراد کو بُری طرح سے متاثر کیا ہے حتی ٰ کہ اِن کے وجود سے پانا ما وائر ل کا نکلنا بہت مشکل ہے دو کے نزدیک یہ ہے کہ پانا ما انفیکشن سے چھٹکارہ اِسی صورت ممکن ہے کہ بس وزیراعظم اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوجا ئیں تو سب کی جان پانا ما انفیکشن چھوٹ سکتی ہے اور سب اپنی نارمل لائف میں واپس جا سکتے ہیں جبکہ پاناما وائر ل کا علاج کرنے والے پانچ میں سے تین کا قوی خیال یہ ہے کہ نہیں ابھی وزیراعظم کو تمام تحقیقات تک اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دینا چاہئے بلکہ ابھی وزیراعظم اور اِن کی فیملی کو ایک اور موقعہ دیا جا ئے تاکہ اِس ریلیف کا فا ئدہ اُٹھا کر وزیراعظم اور اِن کی فیملی کے افراد فرداََ فرداََ پاناما وائرل کی چانچ پڑتال کرنے والی لیباٹری میں(جے آئی ٹی کے سامنے) حاضر ہوں اور جہاں یہ سب حضرات یہ بتا ئیں کہ اِنہیںپانا ما انفیکشن کیسے اور کہاں سے لگا ؟؟ جس کے بعد آنے والی رپورٹ بتا ئی گیں کہ اِن کی دی ہوئی معلومات کی روشنی میں اِن سب حضرات کا درست طریقے سے دائمی علاج کیا اور کیسے کیا جائے۔

اگرچہ اِس بات کا شا ئد خود وزیراعظم اور اِن کی جماعت ن لیگ والوں کو بھی ابھی تک احساس نہیں ہوا ہے کہ ابھی پا نا ما اِنفیکشن سے وزیراعظم کی جان نہیں چھوٹی ہے اور اِنہیں ابھی پانا ما وائرل سے نجات نصیب نہیں ہوئی ہے تب ہی تو جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے مگر پھر بھی یہ بڑی تعجب کی بات ہے کہ خود وزیراعظم نوازشریف اور اِن کی فیملی والوں سمیت اِن کی پارٹی کے جانثار اور چا ہنے والے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ جیسے وزیراعظم مکمل طور سے پاناما وائرل چھٹکارہ پاچکے ہیں تب ہی اِنہوں نے پچھلے دِنوں ایک دوسرے کو منوں میٹھائیاں کھلا ڈالی ہیں حالا نکہ بات درحقیقت یہ ہے کہ ابھی تک وزیراعظم اور اِن کی فیملی والوں کی جان پا ناما انفیکشن سے نہیںچھوٹی ہے آج خوشیا ں منانے والوں کو اتنی سی یہ بات ضرور سوچنی چا ہئے کہ ابھی تو پاناماوائر ل سے شدیدمتاثر ہونے والے وزیراعظم نواز شریف اور اِن کے خاندان کے افراد(حُسین نواز اور حسن نواز) کا فرداََ فرداََعلاج تو اَب شروع ہوا ہے۔

بہرحال ، پچھلے دِنوں سُپریم کورٹ نے ایک لمبے عرصے تک متاثرین پاناما اور ساری پاکستانی قوم کو شدید اضطرابی کیفیات سے دوچار رکھنے والے پانا ما لیکس کا فیصلہ سُنا دیا ہے اِس سے قطعاََ انکار نہیں کہ جس انداز سے یہ فیصلہ سُنایا گیاہے قوم کو ایسی ہی اُمید یںوابستہ تھیںکہ سُپریم کورٹ نے پاما نا متاثرین کا جب بھی کوئی فیصلہ سُنا یا اُس کی نوعیت کچھ اِس فیصلے سے مختلف نہیںہوگی چلیںاچھا ہوا کہ پاناما لیکس کا جیسا بھی فیصلہ آیا ؟؟ آتو گیاہے،تاہم کچھ کے نزدیک (جوخاص متاثرین ِ پاناما اور اِن اِدھر اُدھر کے چاہنے والے ہیں وہ یہ سمجھ رہے ہیںکہ )یہ فیصلہ اِن کے حق میںہے اور بعض کا خیال یہ ہے کہ سُپریم کورٹ نے جو فیصلہ صادر فرمایا ہے پاناما وائر ل سے متاثرین کا دامن پہلے سے زیادہ داغ دارہوتا جائے گا کیونکہ اِن کے پاس ایسے شواہدموجود نہیں ہیں جو یہ اپنا سینہ چوڑا کرکے جے آئی ٹی کے سامنے پیش کرسکیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کریں کہ اِنہیں پاناما لیکس کے معاملے میں ایوئیں گھسیٹا گیاحالانکہ اِن کے پاس جو شواہد ہیں وہ حق اور سچ پہ مبنی اور صاف و شفاف ہیں اور اَب جیسے جیسے وقت گزرتا جا ئے گا پاناما سے گھائل افراد کے کرتوت سامنے آتے جا ئیںگے کہ اَب یہ خودپاناما کے جال میں پھنستے چلے جائیں گے۔

تاہم آج جو لوگ سُپریم کورٹ کے آنے والے فیصلے کے بعد یہ سمجھ رہے ہیںکہ وزیراعظم نوازشریف اور اِن کی فیملی ممبران پاناما لیکس کے اسکینڈل سے نکل چکے ہیںتو اِنہیں یہ بات بھی اچھی طرح ذہن نشین ضروررکھنی چا ہئے کہ اَب تک اِن کے سر سے پاناما کا بوجھ اُترانہیںہے بلکہ اَب تو اِن پر یہ اور زیادہ ذمہ داری عائد ہوگئی ہے کہ یہ پانامالیکس کو چانچنے والی جے آئی ٹی ( لیباٹری) میں پیش ہوں اور خود سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پا نی ایک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ آئندہ مُلک سے کرپٹ اور کرپشن کے ناسور وں کو پروان چڑھانے والوںکا قلع قمع کیا جا سکے یعنی یہ کہ اَب جے آئی ٹی میں شامل نیب ، ایف بی آر، آئی ایس آئی،ایم آئی اور دیگر قومی اداروں کے گریڈ 19کے سرکاری افسران وزیراعظم نوازشریف کی اہلیت کا فیصلہ کریں گے اِس سے اُن لوگوں پر یہ واضح ہوجانا چا ہئے جنہوں نے 20اپریل 2017ءبروز جمعرات دن 2بجے سُپریم کورٹ کے پانچ ججزکے 540صفحات پر مشتمل آنے والے پانا ما متاثرین کے فیصلے کے بعد اپنی خود ساختہ خوشی کا اِظہارگلی گلی بھنگڑے ڈال کراور منوں مٹھائیاں لوگوں میں تقسیم کرکے کیا حالانکہ ابھی پاناما کا داغ کلیئر/صاف نہیں ہوا ہے۔ (ختم شُد)

Azam Azim Azam

Azam Azim Azam

تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم
azamazimazam@gmail.com