پیرس ادبی فورم کے زیر اہتمام جنگل میں قندیل کی رسم اجراء

پیرس ادبی فورم: گذشتہ اتوار کی شام پیرس ادبی فورم کی جانب سے جرمنی سے تشریف لائی ہوئی شاعرہ، افسانہ نگار اور صحافی ڈاکٹر عشرت معین سیما کے شعری مجموعے جنگل میں قندیل کی تقریب ِ رونمائی پیرس کے ایک مقامی ریسٹورینٹ انڈین وے میں منعقد کی گئی۔ تقریب کا آغاز منہاج القرآن کی سابقہ صدرمحترمہ ستارہ ملک کی خوبصورت قراءت سے ہوا اور اس کے بعد ثومیہ عثمان نے اپنی خوبصورت آواز میں نعت رسول مقبول پیش کی ۔ بعد ازاں فورم کی جانب سے سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے پیرس ادبی فورم کی چئیر پرسن سمن شاہ نے مہمانوں سےعشرت معین سیما کا تفصیلی تعارف کروایا اور ان کے شعری مجموعے کی اشاعت پہ مبارکباد پیش کی اور بتایا کہ پیرس ادبی فورم صرف فرانس ہی میں نہیں بلکہ یورپ میں بھی اردو ادب کی ترقی و ترویج کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مشاعروں کے انعقاد سے لیکر کتابوں کی تقریب ِ اجراء اور محفل موسیقی کا انعقاد اس فورم سے کئی بار کامیابی کے ساتھ پیش کیا جا چکا ہے۔ چار سال سے یہ ادبی تنظیم کئی اہم موضوعات پر سیمینار اور ادبی دانشوروں سے ملاقات کا اہتمام کرچکی ہے۔ غیر رسمی طور پر اس فورم کے اراکین پچھلے پندرہ سالوں سے اردو ادب و زبان کی خدمت کر رہے ہیں ۔سمن شاہ خطاب کے بعد پیرس ادبی فورم کی جانب سے ناصرہ فاروقی نے مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عشرت معین سیما کی پچھلی نثر کی کتابوں کے حوالے سے بتایا کہ ان کا افسانوں کا مجموعہ گرداب اور کنارے یورپ میں اردو کی جدید بستی میں افسانہ نگاری کے میدان میں ایک نادر حیثیت رکھتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے افسانوں کے زریعے جرمنی میں بسنے والے پاکستانیوں اور دیگر غیر ملکیوں کے حالات و واقعات کا جائزہ پیش کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کا اٹلی کی جانب گامزن نامی سفر نامہ بھی اٹلی میں ان کے تجربات کا رابطہ جرمنی اور پاکستان سے جوڑتا ہے جو کہ اردو ادب میں ایک خاص حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک عورت کے سفر کی داستان اور اس کے تجربات کے حوالے سے بھی اردو سفر نامے میں ایک تاریخ رقم کرتا ہے۔انہوں نے عشرت معین سیما کو ان کے پہلے شعری مجموعے پہ مبارکباد دیتے ہوئے کتاب کی رونمائی مہمانوں اور دیگر فورم کے اراکین کے سامنے پیش کی اور عشرت معین سیما سے اس مجموعے سے اشعار و غزلیں و نظمیں سنانے کی درخواست کی۔ عشرت معین سیما نے بتایا کہ وہ اپنے جذبوں کے اظہار کو نظم میں براہ راست پیش کرتی ہیں انہوں نے اپنے ادبی و شعری سفر کی یادداشت پیش کرتے ہوئے اپنی کتاب سے کئی نظمیں اور اشعار پیش کر کے سامعین و حاضرین سے داد وصول کی۔ اس کے بعد محفل موسیقی کا آغاز ہوا۔ ہندوستانی سنگیت کار بنٹو بنگر اور ان کے ساتھیوں نے محفل کے آخری حصے میں بہترین غزل گائیکی اور ثقافتی موسیقی پیش کرکے محفل کا رنگ دوبالا کر دیا۔ اس پر وقار تقریب کے اختتام پر پیرس ادبی فورم کی جنرل سیکریٹری ناصرہ خان نے تقریب کے اختتامی کلمات پیش کئے اور عشرت معین سیما کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں قیمتی الفاظ سے نوازا اور اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ آئندہ تقاریب میں بھی شرکت کے لیے آتی رہیں گی اس کے بعد عشرت معین سیما کو پیرس ادبی فورم کی جانب سے تحائف پیش کیئے گئے اور مہمانوں کی چائے و پاکستانی اسنیکس کے ساتھ تواضع کی گئی۔اور یوں یہ پروقار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony

Ceremony