رونا اور ہنسنا منع ہے

Parliament

Parliament

تحریر : راجہ وحید احمد
ایک بات پر انسان یا تو رو سکتا ہے یا ہنس سکتا ہے لیکن مجھ میں ایک بیماری ہے میں کئی دفعہ ایک بات پر پہلے روتا ہو ں پھر ہنسنا شروع کر دیتا ہوں اب آپ یہ نہ سُوچنا شروع کر دیں کہ یہ انسان تو پاگل ہے پہلے تو آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھ کو انسان سمجھا کیوں کہ آج کل ہم سب میں بھی ایک بیماری ہے کہ ہم نے ایک دوسرئے کو انسان سمجھنا ہی چھوڑ دیا ہے اس میں ہمار ا کوئی قصور بھی نہیں کیوں کہ ہماری تربیت ہی اس طرح ہوئی ہے کہ ہم کو انسانوں سے زیادہ فرشتے پسند ہے وہ والے فرشتے نہیں جو نظر نہیں آتے اور نظر آئے بغیر ہی ملک میں موجود حکومت کی ہڈی پسلی ایک کر دیتے ہیں بلکہ وہ والے فرشتے جو اس وقت ظاہری طور پر ہم پر حکومت کر رہے ہیںلیکن لگتا ہے آہستہ آہستہ اب یہ فرشتے بھی غائب ہوتے جائیں گے جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوںخبر ملی ایک فرشتہ جو ہم سے پیسے لے کر ملک کا خزانہ بھرنے پر مامور تھا رخصت ہوا۔

رخصت ہونے کا مطلب آپ نے کچھ اور نہیں لینا بلکہ وقتی طور پر آنکھ سے اوجھل ہو ا لیکن آپ نے گھبرانا نہیں کیوں کہ آپ کی خدمت کے لیے اُن کی جگہ کوئی اور فرشتہ لے لے گافرق ہو گا تو صرف نام کا باقی غریبوں سے پیسے نکلوانے کا ہنر وہ پہلے فرشتے سے بھی بہتر جانتا ہوگا سننے میں آ رہا ہے کہ پہلا ظاہری فرشتہ صرف نظرنہ آنے والے فرشتوں کے خوف میں مبتلا ہو کرآنکھ سے اوجھل ہوا اب تو آپ نے مجھ کو واقعی پاگل سمجھنا شروع کر دیا ہوگا کہ یہ بندہ بات تو کر رہا تھا اپنی بیماری کی اور کہانی شروع کر دی فرشتوں کی تو آپ ناراض نہ ہو میں آپ کو پہلے اپنی بیماری کے متعلق ہی بتا دیتا ہو ں ویسے بھی ہم کو فرشتوں سے کیا لینا دینا ہم کو تو اپنے آپ سے بھی زیادہ دوسروں کی بیماریوں میں دلچسپی ہے سُننے میں یہ بھی آیا ہے کہ جو فرشتہ آنکھ سے اُوجھل ہوا ہے وہ بیمار نہیں ہے بس بیماری تو ایک بہانہ ہے لیکن اگر وہ ملک میں رہتے تو اُن کے حقیقت میں بیمار ہونے کے مواقع بھی زیادہ تھے کیوں کہ گورنمنٹ کا خزانہ بھرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنا خزانہ بھی بھرتے رہے اب پتانہیں بیماری کا بہانہ اُنھوں نے خود بنایا ہے یا کسی شریف فرشتے نے بنایا ہے کیوں کہ حالات بتا رہے ہے کہ شریف فرشتے کو بھی دائو پیچ وہ ہی سکھاتے رہے ہے کہ خزانہ کس طرح بھرا جاتا ہے۔

ملک کا نہیں اپنالے میں پھر فرشتوں کے چکر میںپھنس گیا ویسے سچی بات یہ ہے مجھ کو بھی فرشتوں کے متعلق بات کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے کیوں کہ کیا پتا کس وقت باطنی فرشتے اور ظاہری فرشتے یک جاں اور دو قالب کی پوزیشن میں واپس آ جائے اور بھگوڑئے فرشتے ایک بار پھر اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے ملک میں واپس تشریف لے آئیں اور میرئے اندر سے باہر نکلنے والے انقلابی جذبات کودونوں مل کر ہمیشہ کے لیے اندر ہی دفن کر دیںلیکن جذبات دفن اُن کے ہی ہوتے ہیں جن کو اپنا خزانہ بھرنے کا شوق ہوجیسے آج کل شریف فرشتے کے جذبات دفن ہو رئے ہیںاس لیے مجھ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن پھر بھی پتا نہیں کیوں ڈر لگتا ہے اپنی بیماری سے وہ ہی بیماری جس کے متعلق میں آپ کو بتا رہا تھا کہ میں ایک ہی بات پر پہلے رونا اور پھر ہنسنا شروع کر دیتا ہوں اور آجکل یہ بیماری مجھ پر پور ی طرح قابض ہو چکی ہے اب سے کچھ دن پہلے کی بات ہے میں رات کو ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ خواجہ سعد رفیق صاحب ٹی وی پر نمودار ہوئے اور فرمانے لگے کہ اب سیاستدانوں میں بھی شعور پید ا ہو چکا ہے اُن کو بھی پتا ہے کہ مشکل وقت میں بے وفائی کرنے والوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے تو یک دم پہلے میں نے رونا شروع کر دیا اور پھر اس ہی بات پر ہنسنارونا اس لیے شروع کیا کیوں کہ مجھ کو پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑئے ہونے والے کچھ لوگ یاد آ گئے لاہور میں جب مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کو بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی تھی اُس وقت شاہ جمال لاہور میں ایک کوٹھی تھی سردار ذولفقار کھوسہ کی جو مسلم لیگ (ن) کی جاہ پناہ تھی پتا نہیں آج کل سردار صاحب کہاں ہے حالانکہ وہ تو مشکل وقت میں وفادار رہے خواجہ صاحب کو یاد ہو گا۔

جب مشرف دور میں شہباز شریف لاہور تشریف لائے تو خواجہ صاحب نیلا گنبد کے علاقے میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پولیس سے لاٹھیاں کھا رہے تھے اُس وقت جہلم سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت راجہ محمد افصل خان اُن کا بیٹا ایم این اے راجہ محمد اسد خان اور جہلم سے ہی اُن کے ایم پی اے چوہدر ی سعید اقبال بھی تشدد سہہ رہے تھے تینوں شخصیات آج کس حالت میں ہیںحالانکہ تینوں شخصیات مشکل وقت میں مسلم لیگ (ن) کی ساتھ وفادار رہی اور پھر میں نے خواجہ صاحب کے بیان پر ہنسنا شروع کر دیا کیوں کہ میری آنکھوں کے سامنے طلال چوہدری،ماروی میمن، دانیال عزیز،ہمایوں اختر ،زاہد حامد اوربہت سے ایسے چہرئے نمودار ہو گئے جن کی اُس مشکل وقت میںبھی پانچوں اُنگلیاں گھی میں تھیں اور آج بھی ان کے سر کڑاہی میں ہیں دوسرا بیان بھی خواجہ سعد رفیق صاحب کا ہی ہے جس سے مجھ کو پکا یقین ہو گیا کہ میں واقعی اس بیماری کا شکار ہو گیا ہوںخواجہ صاحب نے جب پارلیمنٹ میں فرمایا کہ ہم لوہے کے چنے ثابت ہو گے تو میں نے رونا شروع کر دیا کہ کاش یہ بیان اُس وقت دیا جاتا جب اے پی ایس میں بچوںکو شہید کیا گیا یا تربت میں غریب اور نہتے نوجوانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیایا جب دو دن پہلے شہادت کے درجے پر فائز ہونے والے میجراسحاق صاحب کی بیوی اُن کے تابوت کے ساتھ لپٹی ہوئی تھی تواُس وقت خواجہ صاحب کی طرف سے اس ملک کے دشمنوں کو للکار ا جاتا لیکن پتا نہیں خواجہ صاحب کس کو للکار رہے تھے لیکن پھر ساتھ ہی میں نے ہنسنا شروع کر دیاکیوں کہ میرئے دماغ میں یہ بات گونجنے لگی کہ پانچ سو روپے چوہدری ظہور الہی سے وظیفہ لینے والے لوگ ارب پتی بن کر لوئے کے چنے تو اس ملک کے لیے ثابت ہوئے ہیں۔

جب پارلیمنٹ سے یہ بل مسترد ہوا کہ ایک نااہل شخص اس ملک کی حکمراں جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا تو اُس وقت سے کبھی میں رونے لگ جاتا ہوں اور کبھی ہنسنے اب تو آپ کو بھی یقین آ گیا ہو گا کہ میں واقعی بیمار ہوںکیوں کہ جوممبران پارلیمنٹ آئین کی پاسداری کا حلف لیتے ہیں جب وہ ہی آئین کے ساتھ کھلواڑ شروع کر دیں تو کیا میر ا رونا بنتا نہیں اور ہنسنا بھی تو میر ا بنتا ہے نا کیوں کہ ان ہی کھلواڑ کرنے والوں کو ہم صادق اور امین سمجھ کے، ملک کا محسن سمجھ کے ،اپنا ہمدرد اور غمگسار سمجھ کے،فرشتہ سمجھ کے اپنے قیمتی ووٹ کی طاقت سے ممبرپارلیمنٹ بناتے ہیں اور یہ ہمارئے جذبات کے ساتھ کھیل کر صرف ایک شخص کی ذات کو مدنظر رکھ کر اس طرح کے قوانین کو پاس کرنے میں مدد کرئیں تو پھر مجھ کو اپنی بے وقوفی پر رونا اور ہنسناتو چاہئیے بلکہ میر ا تو آپ سب کو مشورہ ہے کہ آپ لوگ بھی اس بیماری میں مبتلا ہو جائیں ان کی باتوں پر ، ان کی حرکتوں پر، ان کے کرتوتوں پر غور کریں اور پھر ایک ہی بات پر پہلے روئے اور پھر ہنسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Raja Waheed Ahmed

Raja Waheed Ahmed

تحریر : راجہ وحید احمد