امن و تحفظ کیلئے پولیس نظام و کلچر کی اصلاح ناگزیر ہو چکی ہے۔ جی کیو ایم

Karachi

Karachi

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کے دیہی علاقوں میں خواتین کا استحصال ‘ زنا بالجبر اور غیرت کے نام پر قتل کوئی انہونی یا غیر معمولی بات نہیں مگر کراچی سے ترقی و تمدن یافتہ شہر میں غیرت کے نام پر بیوی کو قتل کئے جانے والے واقعات اور گزرتے وقت کے ساتھ ان میں اضافہ یقینا حیرت ‘ تشویش اور فکر انگیز ہے۔

گجراتی قومی موومنٹ کے سربراہ گجراتی سرکار امیر سولنگی عرف پٹی والا المعروف سورٹھ ویر نے غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کے واقعات پر تشویش و مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیک سروے کے تحت ہر سال پاکستان میں ایک ہزار خواتین غیرت کی بھینٹ چڑھ کر سانسوں اور زندگی سے محروم ہوجاتی اور قتل ہونے والی خواتین کی اکثریت انصاف سے صرف اسلئے محروم رہتی ہے۔

پاکستان کے استحصال اور کرپشن زدہ نظام میں قاتل گرفتاری اور سزا سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ طاقتور اور دولتمند کا ساتھ دینااور مجرموں کو قانونی نقائص کا سہارا دیکر سزا سے بچانا اور غریب و کمزور کو بے جرم و خطا سولی لٹکادینا اور اس کی کھال اتارنے کے ساتھ گھر کے برتن بھانڈے تک بکوادینا استحصالی نظام کی روایت ہے۔

اسلئے پولیس نظام اور کلچر کی اصلاح خواتین سمیت ہرشہری کو تحفظ کی فراہمی اور استحصال و ظلم سے بچانے کیلئے ضروری ونا گزیر ہے۔