انجام

Jang

Jang

تحریر: شیخ توصیف حسین
گزشتہ روز میں حسب عادت اپنے صحافتی فرائض کی ادائیگی کے بعد ایک ہوٹل پر چائے پینے کیلئے پہنچا تو وہاں پر چند ایک بزرگ افراد چائے پینے کے دوران آ پس میں گفتگو کرنے میں مصروف تھے ایک بزرگ شخص دوسروں کو مخا طب کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ جتنی بھی تحصیلیں ضلع جھنگ سے جدا ہوئی وہ سب کی سب تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہو کر رہ گئی جس کے نتیجہ میں وہاں کی عوام خوشحال زندگی گزارنے لگی جس کا واضح ثبوت فیصل آ باد ہے جو ضلع جھنگ سے جب سے جدا ہوا تعمیر و ترقی کی راہ پر اس قدر گامزن ہوا کہ آج فیصل آ باد ڈویژن بننے کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا کاروباری مراکز بن کر رہ گیا ہے جہاں پر امیر اور غریب خوشحال زندگی گزار رہے ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ سب کچھ وہاں کے سیاست دانوں کی دن رات کی انتھک کاو شوں کا نتیجہ ہے لیکن افسوس کہ ضلع جھنگ کے سیاست دان جو ڈریکولا کا روپ دھار کر نہ صرف ضلع جھنگ بلکہ یہاں کی عوام کا خون چوس رہے ہیں جس کے نتیجہ میں ضلع جھنگ لاوارث ضلع بن کر صرف اور صرف تحصیل شورکوٹ اور تحصیل جھنگ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جبکہ یہاں کی عوام ان مفاد پرست سیاست دانوں جو لسانی و مذہبی فسادات کی پلاننگ کے ماسٹر ماہنڈ ہیں کی زد میں آ کر ایک دوسرے کی نفرت کا شکار ہو کر رہ گئی ہے جس کے نتیجہ میں ضلع جھنگ کے مفاد پرست سیاست دان جن میں متعدد ایسے سیاست دان بھی شامل ہیں جن کے بزرگوں نے کبھی یکمشت پانچ ہزار روپے نہیں دیکھے تھے آج ضلع جھنگ کے تمام کے تمام تعمیر و ترقی کی مد میں ملنے والے فنڈز از خود ہڑپ کر کے اربوں روپوں کے مالک بن کر یہاں کی عوام کو اپنا محکوم سمجھتے ہیں۔

یہی کافی نہیں درحقیقت تو یہ ہے کہ یہ وہ ناسور ہیں جن کی لگائی ہوئی مذہبی آگ کی زد میں آ کر نجانے کتنے گھروں کے چراغ گل ہو گئے اور نجانے کتنے بند سلاسل افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ یہ از خود قاتل بھی ہیں اور از خود منصب بن کر ضلع جھنگ پر عرصہ دراز سے راج کرنے میں مصروف عمل ہیں ان کے تکبر اور ظالمانہ نظام کا یہ عالم ہے کہ یہ اپنے سیاسی مخا لفین پر جھوٹ پر مبنی الزامات لگا کر انھیں اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور جب متاثرہ افراد دادرسی یا پھر معافی مانگنے کیلئے لوٹ مار سے تیار کردہ عظیم الشان ڈیرے پر پہنچتے ہیں تو یہ اُن کے ساتھ ہتک آ میز رویے کے ساتھ گفتگو اپنا آئینی و قانونی حق سمجھتے ہیں جس کے نتیجہ میں متاثرہ غریب افراد منہ لٹکائے دل ہی دل میں اپنے آپ کو گالیاں دیتے ہوئے واپس آ جاتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ ہم جائے تو جائے کہا ہمیں ان کے مقابلے میں انصاف کون دے گا۔

یہاں کے بیوروکریٹس بھی ان کے در کے غلام بن کر رہ گئے ہیں وہ ہمیں انصاف کب دے گے لیکن میں ان کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کوئی یقین کرے یا نہ کرے لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہاں پر تعنیات بیوروکریٹس یہاں پر اپنے فرائض و منصبی صداقت امانت اور شرافت کا پیکر بن کر ادا کرنے میں محض اس لیے قاصر ہیں کہ وہ ان ناسوروں کے سامنے بے بس ہیں جس کی واضح مثال یہ ہے کہ اگر کوئی آ فیسر یہاں پر اپنے فرائض و منصبی ایمانداری اور فرض شناسی سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ سب ناسور اکھٹے ہو کر اس کے خلاف انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس یا پھر سیکرٹری ہیلتھ سیکرٹری بلدیات وغیرہ کے پاس پہنچ کر جھوٹ پر مبنی الزامات لگا کر اُسے ضلع بدر کروا دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں مذکورہ آ فیسر در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے جس کی ایک چھوٹی سی مثال میں آپ کو سابق ای ڈی او ہیلتھ جھنگ ظفر عباس خان اور ڈاکٹر ظفر پاتو آ نہ کی دے رہا ہوں کوئی مجھے یہ بتائے کہ ان کا قصور کیا تھا کہ جو انھیں تحصیل جھنگ سے نکالا گیا جہاں تک میری سوچ کا تعلق ہے کہ ڈاکٹر ظفر پاتوآنہ کے بھائی نذر حیات پاتوآنہ نے سابقہ بلدیاتی الیکشن کے دوران ان مفاد پرست سور مائوں کو بُری طرح شکست دیکر چیرمین بلدیہ کا چارج سنبھالا تھا بس یہی ڈاکٹر ظفر پاتوآنہ کا قصور ہے جبکہ دوسری جانب سابق ای ڈی او ہیلتھ جھنگ ڈاکٹر ظفر عباس خان کو محض اپنے فرائض و منصبی ایمانداری سے ادا کرنے کے پاداش میں جھنگ سے ٹوبہ تعنیات کروا دیا گیا یہی کافی نہیں اُسے وہاں سے بھی متعدد بار یہاں کے مفاد پرست سورمائوں نے تبدیل کروانے کی کوشش کی لیکن بالآخر خداوند کریم نے اپنے ایماندار بندے کی دعا سن لی جس کے نتیجہ میں آج مذکورہ آ فیسر فیصل آ باد میں بطور ای ڈی او ہیلتھ تعنیات ہے اگر حقیقت کے آ ئینے میں دیکھا جائے تو یہ مفاد پرست سیاست دان وہ ناسور ہیں کہ جہنوں نے اقتدار کی کرسی سنبھالنے کیلئے ضلع جھنگ کو آگ اور خون میں نہلا دیا تھا جس کی تپش نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک میں بھی محسوس ہوئی تھی یہاں مجھے بزرگوں کی ایک کہاوت یاد آ گئی کہ کانچ کی ہانڈی آ خر کب تک جلتی ہے۔

بالآ خر اُسے ٹوٹنا ہوتا ہے جو اب 2018کے الیکشن میں اس کانچ کی ہانڈی کو عوام از خود اپنے ہاتھوں سے توڑ دے گی چونکہ اب تمام مکاتب و فکر سے تعلق رکھنے والی عوام یہ بخوبی سمجھ چکی ہے کہ ہمارا اور ہمارے ضلع کی تباہی و بر بادی کا ذمہ دار کون ہے بس اسی لیے عوام اس کانچ کی ہانڈی کو توڑنے کا منظم ارادہ رکھتی ہے اور وہ یہ بھی جانتی ہے کہ ان مفاد پرست سیا ست دانوں نے عوام کی طاقت کو کمزور کرنے کیلئے اور بالخصوص اپنے سیاسی مخالفین کو ہرانے کیلئے متعدد ضمیر فروش بااثر افراد کے ضمیر خرید کر انھیں 2018 کے الیکشن میں لڑانے کی کوشش کرے گے لیکن یہ ان کی بھول ہے چونکہ ضلع جھنگ کی باضمیر عوام نے بھی ایک فیصلہ کر کے ایک نعرہ لگایا ہے کہ جان رب دی اور ووٹ مفاد پرست سیاست دانوں کے مخالفین کا خواہ وہ کوئی بھی کیوں نہ ہو اُس بزرگ کی ان باتوں کو سننے کے بعد میں سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر یہ سوچتا ہوا واپس آ گیا کہ ہر بُرے کام کا انجام بُرا ہی ہوتا ہے کہ اگر ضلع جھنگ کی عوام جو کہ ایک طاقت رکھتی ہے نے ان مفاد پرست سیاست دانوں کو 2018کے الیکشن میں ہرانے کا منظم فیصلہ کر لیا ہے تو یقینا جیت عوام کی ہو گی نہ کہ ان مفاد پرست سیاست دانوں کی۔

بالآ خر کٹ ہی جائے گی یہ ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی زنجیریں
میں تو بے رحم وقت کی تقدیر کو بدلنے کیلئے چلا ہوں

Touseef Hussein

Touseef Hussein

تحریر: شیخ توصیف حسین