پیرمحل کی خبریں 27/8/2016

Pir Mahal News

Pir Mahal News

پیرمحل (نامہ نگار) سانحہ کوئٹہ کے شہدا کے لیے پیر محل بار کے وکلا کا تعزیتی اجلاس شہدا کے لیے قران خوانی اور بلند درجات کیلیے دعائیں کی گئیں اور اس افسوس ناک سانحہ دہشت گردی میں وکلا اور صحافیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والوں کی پر زومذمت کرتے ہوے حکومت سے مطالبہ کیا گیاکہ سفاک دہشت گردوں کے قلع قمع کے لیے افواج پاکستان کی موثر کاروائیوں کا دائرہ دہشت گردوں کے آخری ٹھکانہ تک وسیع کیاجائے صحافیوں اور وکلاکو فول پروف سیکورٹی دی جائے تاکہ پیشہ ورانہ فرائض بہتر انداز میں انجام دیے جا سکیں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہدا کے لواحقین سے دلی رنج وغم کا اظہار کیاگیا اور دعا کی گئی اللہ تعالی شہدا کے گھر والوں کو صبر و جمیل عطا کرے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔اجلاس کی قیادت سردار شوکت خان گجر میاں نثار احمد طالب حسین جعفری نے کی اور قیمتی جانوں کے نقصان پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اس موقعہ پر وکلا کا کہنا تھا کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں ہم عدل و انصاف اور وطن عزیز کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گئے اجلاس میں مہر فلک شیر نکیانہ میاں زاہد تھیم میاں محمد طاہر لیاقت علی بھٹی راو نعمان عاقل رانا امجد علی راو غلام مرتضٰی سجاد حیدر کھرل رانا شاہد عابد کھوکھر نذر سیال رانا شہباز عابد چوہدری سلیمان گوانس سلیم رضا عامر بھٹی فیصل چوہدری فاروق لطیف احمد جہانگیر گل اکرم نوناری محمد حسین فراز رائے شہباز احمد ایڈووکیٹس اور کلرک ایسوسی ایشن کے اللہ دتہ نوناری ، خان شوکت بلوچ موجود تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیرمحل( نامہ نگار )چار تحصیلوں پر مشتمل ضلع ٹوبہ ٹیک تعلیمی یونیورسٹی سے محروم ضلع ٹوبہ ٹیک میں زرعی یونیورسٹی کا سب کیمپس ضلع بھر کے لاکھوں طلبہ طالبات کی تعلیمی ضروریات پور اکرنے سے قاصر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف پنجاب کے سرسید ڈاکٹر فرید بخش کے کالج کو یونیورسٹی کاد رجہ دلوائیں تفصیل کے مطابق ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ جو تاریخی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اس ضلع کی چار تحصیلیں جن میں پیرمحل تحصیل کمالیہ تحصیل گوجرہ تحصیل ٹوبہ ٹیک سنگھ تحصیل شامل ہے لاکھوں طلبہ وطالبات ضلع بھر میں کسی بھی قسم کی تعلیمی یونیورسٹی نہ ہونے کے باعث فیصل آبا دلاہور جانے پر مجبور ہے بعض اوقات وسائل نہ ہونے کے باعث طلبہ وطالبات مزید تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عارضی طورپر زرعی یونیورسٹی فیصل کا سب کیمپس بنایا گیا جو طلبہ وطالبا ت کی تعلیمی ضروریات پورا کرنے سے قاصر ہے قیام پاکستان سے قبل کا فرید بخش ڈگری کالج جوکہ پنجاب کے سرسید احمد خان ڈاکٹر فرید بخش نے اپنی کوششوں سے چک333گ ب فریدآباد میں قائم کرکے اس علاقہ میں علم کی شمع روشن کی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کسی بھی قسم کی تعلیمی یونیورسٹی سے محروم ہے علاقہ کے مکینوں چوہدری محمد اسلم تاج ، محمد اعظم مغل ، راحیل گجر ، نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف ، گورنر پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور گورنمنٹ فرید بخش ڈگری کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ لاکھوں طلبہ وطالبات اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیرمحل ( نامہ نگار ) جمہوریت بچانے کا واویلا کرنے والے اپنے جموروںکے ذریعے دوسری سیاسی جماعتوںکااستحصال کررہے ہیںسیاسی جماعتوںکی اولین ترجیح اقتدار بچانانہیں پہلی ترجیح ریاست کو بچانا ہے ریاست ہوگی تو سب جماعتیں ہوں گی ان خیالات کا اظہار خان شوکت علی بلوچ سابق امیدوار پنجاب اسمبلی نے اپنے بیان میں کیا انہوںنے کہا جب بھی کوئی بحران آتا ہے تو کہتے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے69سالوں میںپاکستان کے عوام کو اس جمہوریت سے کیا ملاجمہوریت جمہور (عوام )کے لئے ہوتی ہے مگر سیاسی جموروںنے نسل درنسل 18کروڑ عوام کا استحصال کرکے جمہوریت کولوٹ مار کا مشن بنالیا 68سال تک جمہور کو کچھ نہیں ملا، آمروں کے دور میں جمہوریت کو نچلی سطح پر پہنچایا گیا مگر بدقسمتی سے جمہوری دورمیں ایسا نہیں ہوا،جمہوری حکومتوں نے نچلی سطح تک جمہوریت نہیں دی۔ ملک میں ہم جمہوریت کواپنے انداز میں چلانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر جمہوریت بھی نہیں رہتی حکومت کو اگر پاکستان کو بچانا اور معاشی طور پر مضبوط بنانا ہے تو اپنی انا کو ایک جانب رکھ کر ایک قدم پیچھے ہٹنے میں کوئی مضائقہ نہیں انہوںنے کہا کہ پاکستان کی بقاء اور ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو صبر وتحمل کا مظاہر ہ کرتے ہوئے موجودہ بحران کو حل کرنا چاہیے تاکہ ملک دشمن عناصر سیاسی جماعتوں کی اندرونی چپقلس سے فائدہ اٹھاکر خدانخواستہ ملک کو نقصان نہ پہنچاسکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیرمحل ( نامہ نگار ) ذیابیطس کے مریض کو نارمل زندگی گذارنے کے لیے صحت بخش غذااور متحرک رہنے والی زندگی بنیادی کردار کی حامل تدبیریں ہے اگر طرز زندگی بہتر کرنے سے بھی گلوکوز کی مقدار ہموارنہ ہو تو پھر معالج سے مریض کو رجوع کرنا چاہیے ان خیالات کا اظہارڈاکٹر ہارون مجید سینئر میڈیکل آفیسر نے عوامی آگاہی کے سلسلہ میں اپنے بیان میں کیا انہوںنے کہا کہ گولیوں ٹیکوں کا استعمال غذاکو بہتر بنانے اور متحرک رہنے کے متبادل کے طور پر نہیں کیا جاسکتا یہ ایک دوسرے کے مددگار ہے متبادل نہیں غذائی ضروریات اوراثرات مریض پر اپنا اثر رکھتے ہے لہذا کسی مستندمعالج سے مشورہ کرتے رہنا مریض کے لیے خود مخصوص غذائی معمول ترتیب دینا زیادہ بہتربات ہوتی ہے ذیابیطس کے علاج کے لیے مخصوص گولیاں لینے سے گلوکوز کی سطح ہموار تورہتی ہے مگر مستند معالج کے مشور ہ کے باعث شاید مریض کوانسولین لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے ذیابیطس ایک بڑھنے والی خطرناک موذی بیماری ہے جس میں کبھی کبھار ایسا موقع بھی آسکتا ہے کہ گلوکوز کی مقدار ہموار رکھنے کے لیے کی گئی کوشش ناکام ہوسکتی ہے جوجان لیوا ہوسکتی ہے ذیابیطس صرف بہترغذااور ورزش سے کنٹرول کرنے کے لیے کھانے پینے کے لیے مخصوص وقت کاتعین کرنا اور پھر اس پرسختی سے عملدرآمد ضروری ہے پیٹ بھرکھانے کی بجائے تھوڑے تھوڑے وقفے سے کھانا بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیرمحل ( نامہ نگار ) گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین پیرمحل میں ایم اے /ایم ایس سی کی کلاسز شروع کی جائیں دیہاتوںمیں سیکنڈری گرلز ہائی سکو ل بننے کے ساتھ ساتھ ہزاروں طالبات ایم اے /ایم ایس سی کی تعلیم کے لیے بڑے شہروں میں جانے پر مجبور گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین پیرمحل میں برسہابرس سے اہم مضامین کے اسسٹنٹ پروفیسرز ، لیکچرارز ایسوسی ایٹ پروفیسر ز کی آسامیاں خالی فی الفور گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین پیرمحل کو اپ گریڈ کرکے طالبات کو سینکڑوں میل پر تعلیم حاصل کرنے سے بچایا جائے تفصیل کے مطابق تحصیل پیرمحل کی لاکھوں نفوس پر مشتمل آبادی کی ہزاروں طالبات جو سیکنڈری اور گریجوایشن کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد تحصیل بھر میں ماسٹر ڈگری کی تعلیم کا انتظام نہ ہونے کے باعث تعلیم جاری رکھنے کی بجائے گھر بیٹھنے پر مجبور جاتی ہے پرائیویٹ سیکٹر کے کچھ کالجز نے ایم اے /ایم ایس سی کی کلاسز کا اعلان تو کررکھا ہے ان کی فیسیں اور پڑھائی کامعیار غیر معیار ی ہونے کے باعث طالبات گھر بیٹھنے کو ترجیح دیتی ہے محکمہ تعلیم کی طرف سے کچھ چکوک میں ہائر سیکنڈری سکول کی تعلیم کا انتظام کردیاگیا مگر ماسٹر ڈگری کی تعلیم کے لیے تحصیل بھر میں کوئی بندوبست نہ کیا گیا گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین پیرمحل میں زنانہ اساتذہ کی خالی آسامیوں وٹیچنگ سٹاف کی کمی سے تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں کئی اہم مضامین کی اسسٹنٹ پروفیسرز کی کئی آسامیوں سمیت کئی دیگر آسامیاں طویل عرصہ سے خالی ہونے سے طالبات سخت پریشانی کا شکار ہیں مذکورہ کالج میں گریڈ 19، گریڈ 18 اور گریڈ 17کی کئی ایسوسی ایٹ پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسرز ، لیکچررز کی کئی آسامیاں عرصہ دراز سے خالی چلی آرہی ہیں ان خالی آسامیوںکی بھرتی سمیت گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین پیرمحل میں ایم اے /ایم ایس سی کی کلاسزکا اجراء کرنے سے ہزاروں طالبات جو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ چکی ہے کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا سماجی فلاحی حلقوںنے خادم اعلیٰ محمد شہباز شریف ، چیف سیکرٹری ، صوبائی وزیر تعلیم ، مشیر تعلیم ہائر ایجوکیشن ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ، ڈائریکٹر کالجز فیصل آباد ڈویژن ، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز اور دیگر ارباب اختیارسے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفورگورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین پیرمحل میں ایم اے /ایم ایس سی کی کلاسزکا اجراء کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیرمحل (نامہ نگار) برائلر مرغیوں کی غلاظت اکھٹی کرنے والی گاڑیاں شہریوں کے دردسر بن گئی تعفن سے شہری سانس کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا مرغیوں کا کچرا اکھٹا کرنے کے لیے کھلے ڈرم او رموٹرسائیکل رکشہ پر کھلے عام رکھے ہوئے ڈرم سرعام بیماریاں پھیلانے لگے تعفن اور بدبو سے شہریوں کی زندگی اجیرن تفصیل کے مطابق پیرمحل شہر اور اردگرد دیہاتوں میں لگائے گئے برائلر سیل سنٹروں سے کھلے منہ والے ٹرالر ، موٹرسائیکل رکشے آلائشیں غلاظت ، اکھٹاکرکے انہیں اپنے گھروں میں رکھے ڈرموں میں رکھ لیتے ہیں جس سے نہ صرف ان راستوں کے مکین سخت تعفن کا شکار ہوجاتے ہیں جہاں جہاں سے یہ گاڑیاں یا موٹرسائیکل رکشے گذرتے ہیں بلکہ ان محلہ جات کے مکین سخت مشکلات کا شکار ہے جن گھروں میں یہ آلائشیں محفوظ کی جاتی ہے سماجی فلاحی حلقوںنے ڈی سی اوٹوبہ ٹیک سنگھ سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور شہریوں کو برائلر کی آلائشیں اکھٹی کرنے والی گاڑیوں سے نجات دلائی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیرمحل (نامہ نگا ر) محکمہ مال ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آٹھ سا ل سے پٹواریوں کی آسامیاں آٹھ سال سے پابندی کی نظر تقرری کے منتظر 50پٹواری انتظار کی سولی پر لٹک گئے تفصیل کے مطابق ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل ٹوبہ میں15تحصیل گوجرہ میں13جبکہ تحصیل کمالیہ میں 8پٹواریوں کی آسامیاں خالی ہے 2005 ء کے بعد پٹواریوں کی بھرتی نہ کی جاسکی جس سے آٹھ سال گذرنے کے باوجود 50سے زائد بھرتی کے منتظرپٹواری ضلعی انتظامیہ کے رحم وکرم پر ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ خالی آسامیوں پر بھرتی کی بجائے ریٹائرڈ پٹواریوں اور عارضی تقرری کے منتظر پٹواریوں سے کام چلارہی ہے جبکہ کوٹہ پر بھی عملدرآمد نہ ہونے سے 50کے قریب پٹواری اپنی بھرتی کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پرمجبور ہے بھرتی کے منتظر پٹواریوںنے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف ، صوبائی وزیر مال ، کمشنر فیصل آباد ، ڈی سی اوٹوبہ ٹیک سنگھ سے مطالبہ کیا کہ فی الفور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں خالی آسامیوں کو پر کرکے تقرری کے منتظر پٹواریوں کو بھرتی کیاجائے تاکہ ا ن کو روزگار میسر آسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیرمحل (نامہ نگا ر) پاکستان میں موجود ٹکرائو کی سیاست سے قومی تضاد پیدا ہوتا ہے طاقت اقتدار کی جمہوری تقسیم کے مسئلہ کے باعث جمہوریت پسند قوتوں کے اس مسئلے کو درست طریقے سے پیش نہ کرنے کے باعث ملک بحرانوں کاشکارہواان خیالات کا اظہاررانا محمدشفیق ہاکی اولمپئین فاتح ورلڈکپ سابق امیدوارپنجاب اسمبلی نے اپنے بیان میںکیاانہوںنے کہا کہ ریاستی بحرانوں نے عوامی انقلابی تحریکوں کے ابھرنے کے امکانات پیداکیے عوامی تحریکوں میں میں طاقت ہوتی ہے کہ وہ موجود سیاسی توازن کوتبدیل کرکے محنت کش قیادت کو موقع فراہم کرتی ہیں پھر وہ سیاسی قیادت سیاسی تحریک کو نیا رخ فراہم کرتی ہے غیر جمہوری قوم پرستی کو ملک میں جاری عوامی جدوجہد نے بے نقاب کردیادرحقیقت جمہوریت کی کامیابی اس وقت تک ناکام ہوتی رہے گی جب تک محنت کش کسان شاگرد مزدور خواتین مرد متحد ہوکر تحریک کے ذریعے عوام کی قیادت میں تبدیلی نہیں لاتے محنت کش طبقے کی سیاسی قیادت کے بغیر سماج کے مظلوم لوگوں کی اس تحریک کا حصہ کوئی اورنہیں بن سکتا کیونکہ عوامی مسائل قومی جبر نجکاری بے روزگاری طبقاتی تعلیمی نظام وڈیرہ شاہی مہنگائی نسل پرستی اور خود سرمایہ داری کا شکار ہم سب ہیں اگر ریاست کے مختلف حصوں میں موجود تضادات کو عوام کے مفاد میںتیز کیا جائے تو پاکستان کی تاریخ کے بدترین حکمران کاتختہ الٹایا جاسکتا ہے بحرانوں کے خاتمہ کی تمام تحریک کی قیادت محنت کش قوتوں میںتبدیل ہونے کے آثار نظرنہیں آتے کیونکہ وڈیر ہ شاہی اور فوجی بیوروکریسی کو اپنے بچائو کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ مل جاتا ہے ریاستی بحرانوں نے عوامی انقلابی تحریکوں کے ابھرنے کے امکانات پیداکیے عوامی تحریکوں میںمیںطاقت ہوتی ہے کہ وہ موجود سیاسی توازن کوتبدیل کرکے محنت کش قیادت کو موقع فراہم کرتی ہیں پھر وہ سیاسی قیادت سیاسی تحریک کو نیا رخ فراہم کرتی ہے۔