سیاست

Politics

Politics

تحریر : پیر توقیر رمضان
سیاست میں کوئی لفظ حرف آخر نہیں ہو تا ہمارے سیاستدان بڑے فخر سے کہتے ہیں ہم سیاست کوخدمت سمجھ کر کرتے ہیں اورہمارے سیاستدان بالکل ٹھیک فرماتے ہیں کہ وہ سیاست کو خدمت ہی سمجھ کر کرتے ہیں لیکن صرف اپنی اپنے خاندان کی نہ غریب عوام کی، پہلے دور میں سیاستدان اپنی عوام کی خدمت کرتے تھے خود روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرلیتے ہیں وطن کی آزادی کے لیے جیلوں کو برداشت کرنا معیوب نہیں سمجھتے تھے ملکی معاملات، حکومت کے نشیب و فراز، جہانداری اور جہاں بانی، آئین و قوانین کوحرف عام میں سیاست کہتے ہیں جس طرح شرف انسانی کی تکمیل کے لئے ہر علم کا جاننا ضروری ہوتا ہے اسی طرح علمی اور نظریاتی حیثیت سے سیاست کے رموز سے آگاہ ہو نا ملک و ملت کی بھلائی کے لیے سیاست میں عملی طور پر حصہ لینا کوئی بری بات نہیں ہے۔

ہمارے سیاستدان خود اپنی سیٹ سے لطف اندوز ہوتے ہیں نہ کہ عوامی خدمت کرتے کسی دور میں کیا زمانہ تھا جب لوگ سیاست میں حصہ لے کر عوام کی خدمت کرنے کے شوقین ہوتے تھے اور وہ جس جذبہ سے سیاست میں حصہ لیتے ہیںاور ان پر عوام کی جو امیدیںہوتی تھیں وہ ا ن پر پورا اترنے کی بھر پور کوشش کرتے تھے لیکن آج کے سیاستدان کو اپنی فلاح ،اپنے خاندان کی بہتری اور دولت مند بننے کیلئے سیاست کا سہارا لیتے ہیں، ہمارے حکمران سیاستدانوں نے تو لوٹ مار اس قدر انتہا کی کہ ان پر کرپشن ثابت ہو رچکی ہے ،سیاست کسی دور میں لوگ کرتے تھے اور بڑے شوق سے اپنے علاقے کی فلاح کیلئے کوشش کرتے تھے اور اہلیان علاقہ کے حقوق کی آواز کو ابھارتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دور بھی بدل گیا نئے رسم و رواج جنم لینے لگے جن کے ساتھ سیاست بھی بدل گئی۔

لوگ سیاست لفظ کو معانی تک بھول چکے ہیں ہمارے سیاستدانوں کو ابھی اس بات کا علم نہیں ہے کہ لفظ سیاست کا مطلب کیا ہے لوگ سیاستدان کیوں بنتے ہیں ؟ آج کل کے سیاستدان تو صرف اپنے آپ کو ،اپنے خاندان کو، اپنی اولاد کو مستحکم کرنے کے لئے کچھ پیشہ نہ ملنے پر سیاستدان بن جاتے ہیںجس کا دن چاہتا ہے وہ اپنی قیادت میں ایک نئی پارٹی تشکیل دے کر وزیر اعظم بننے کے لیے الیکشن میں حصہ لے لیتا ہے۔جو پاکستانی قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

Quaid e Azam

Quaid e Azam

سیاستدانوں کو چاہیے کہ پانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاست دیکھیں ایسے بابائے قوم جنہوں نے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کے حصول کیاں کچھ نہیں کیا ۔ہمارے سیاستدانوں کے قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاست مشعل راہ ہے۔ آج کل کے سیاستدانوں سے اپنے سے کسی بڑے سیاستدان کے آگے بولا نہیں جاتاوہ اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں خواہ وہ صیح ہو یا غلط لیکن بابائے قوم نے کبھی ایسا نہیں کیا وہ حق بات کو حق کہ کر اس پر ڈٹ جاتے تھے لیکن وہ اپنی سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے قانون کی خلاف وزری کے مخالف تھے۔

ان کی وکالت کے دو ر میں ایک انگریز میئر آکر وکلاء کی کرسی پر بیٹھ گیا کرسیاں وہ صرف وکلاء کی تھیں اور پھر قائد اعظم جیسے عظیم المرتبت انسان کیلئے کوئی کرسی بھی خالی نہیں تھی آپ نے چپڑاسی کو حکم دیا کہ اس میئر کو اٹھا کر کرسی خالی کر و ایک انگریزاور دسرا میئر چپڑا سی بیچارہ گھبرا گیا اور جر ت نہ کر سکا قائد اعظم نے دوبارہ چپڑا سی کو گرج دار لہجے میں کہا ہے کہ اس انگریز کا اٹھا کر بتا ئو یہ کرسیاں وکلاء کی ہیں یہ سن کو وہ خود ہی کرسی چھوڑ کر کھڑا ہو گیا وہ انگریز اصول و ضوابط کا باپند شخص تھا اس لیے اس نے برا نہیں منایا بلکہ با بائے قوم کے جرات کو داد دی۔ لیکن وہ ہمارے سیاستدان بول بھی نہیں سکتے ہیں جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔سیاستدانوں کو چاہیے کہ قائد اعظم کی سیاست سے سبق سیکھیں جو ان کے مشعل راہ ہے اور اپنی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے توڑ پھوڑ اور قانون کی خلاف ورزی کرنا ممنوع قرار دے کر یک جان ہو کر ملکی ترقی کے لیے کوشاں ہو جائیں اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو ناکوں چنے چبوائیں۔

Pir Tauqeer Ramzan

Pir Tauqeer Ramzan

تحریر : پیر توقیر رمضان