غریب پینشنر اور پی ٹی سی ایل انتظامیہ کی ہٹ دھرمی

PTCL Pensioners-Protest in Lahore

PTCL Pensioners-Protest in Lahore

تحریر : محمد ارشد قریشی
پاکستان ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون (ٹی اینڈ ٹی) موجودہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹیڈ کہلانے والی کمپنی جو مختلف بہانوں سے اپنے غریب ریٹائیرڈ ملازمین کی پینشن کو ناجائز طریقے سے روکے ہوئے ہے ہر سال بجٹ میں حکومت کی اعلان کردہ پینشن میں اضافے کو یکسر مسترد کر کے اپنی من مانی کررہی ہے اور اعلان کے کئی ماہ بعد اپنی مرضی سے پینشن میں معمولی سا اضافہ کر دیتی ہے جو آٹے میں نمک برابر بھی نہیں ہوتا۔ پی ٹی سی ایل ملازمین کو کئی دفعہ رضا کارانہ ریٹائیرمنٹ اسکیم کے نام پر دھوکا دیا گیا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ان ریٹائیرمنٹ اسکیموں کو بظاہر رضاکارانہ کا نام دیا جاتا ہے۔

ملازمین کے مستقبل کے تحفظ کی ضمانت دی جاتی ہے خوب سبز باغ دیکھا کر ساتھ ڈرایا دھمکایا جاتا ہے پچیس سال کمپنی کو اپنی خدمات پیش کرنے والوں کو ایک لیٹر میں فارغ ملازم دیکھا یا جاتا ہے بار بار خوبصورت اشتہاروں کے ذریعے معصوم ملازمین کو جال میں پھنسایا جاتا ہے اور اگرملازمین اس اسکیم کو استمال نہ کریں تو انہیں شدید زہنی اور مالی طور پریشان کیا جاتا ہے دور دراز علاقوں میں تبادلے کر دیئے جاتے ہیں اور احتجاج کرنے پر کہا جاتا ہے کہ کمپنی قوائد و ضوابط کے تحت معمول کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں لیکن وہ تبادلے پچیس سال تک نہیں ہوتے صرف اسکیم لینے سے انکار پر ہوتے ہیں۔

جب ٹی اینڈ ٹی جو کہ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کی طرح ایک ادارہ تھا تو اسے تمام انڈے بیک وقت حاصل کرنے کی خاطر فروخت کیا گیا ادارے کی فروخت میں وہ بندر بانٹ ہوئی کہ خدا کی پناہ بہتی کنگا میں سب نے ہاتھ دھوئے اور ملازمین ادارے کے ساتھ تباہ و برباد ہوتے چلے گئے جہاں ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز کے کوٹے پر بھی ٹیلیفون کا کنکشن لینا محال تھا اب سڑکوں پر دکان لگا کر بیچا جارہا ہے پھر بھی کامیابی حاصل نہیں ہو رہی اور اس کا نزلہ ملازمین پر گرایا جا رہا ہے۔

PTCL

PTCL

کچھ عرصے پہلے خوب شور سنائی دیا کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری میں شدید بے ضابطگیاں ہوئی ہیں کرپشن بھی کی گئی ہے بیس سے پچیس ارب روپے سالانہ منافہ دینے والے ادارے کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیئے بیچ دیا گیا جس سے نہ صرف ملازمین اور ادراے کو شدید نقصان پہنچا بلکہ وطن عزیز کو بھی نا قابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا،لیکن وہ شور بھی بس محض سیاسی مقاصد کے حصول کے لیئے تھا جو جھاگ کی طرح بیٹھ گیا نہ کوئی ایکشن نہ کوئی انکوائری نہ کوئی رسمی کمیٹی ہی بنی۔ پی ٹی سی ایل کو خریدنے والی کمپنی ایتصلات نے اوائل میں تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ اپنی مرضی سے کرنا شروع کر دیا جس پر ملازمین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں کا رخ کیا جس پر ملک کی اعلی ترین عدالت نے قوانین کی باقاعدہ تشریح کر کیپی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی کو اپنے ملازمین اور پینشنروں کو وہی اضافہ دینے کا حکم صادر فرمایا جو فیڈرل گورنمنٹ اپنے ملازمین اور پینشنروں کو دیتی ہے۔

اس فیصلے کے باوجود انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی اس کے بعد بھی یکے بعد دیگرے ایسے کئی فیصلے عدالتوں سے آئے جسے انتظامیہ نے یکسر مسترد کر دیا یہاں سب سے حیران کن امر یہ ہے کہ آج تک کسی بھی عدالت نے انتظامیہ کے خلاف سوموٹو اقدام نہیں اٹھایا اور نہ ہی اپنے فیصلوں پر من و عن عملدارآمد نہ کرنے پر انتظامیہ کے خلاف کوئی بھی حکم صادر فرمایا۔

ایک تو یہ ریٹائیرڈ ملازمین پینشن نہ بڑھنے اور روز بروز مہنگائی سے پریشان حال ہیں تو دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے انہیں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر میسر ہیں اگر کسی ملازم یا اس کے بیوی بچوں کو کوئی خطرناک بیماری ہوجاتی ہے تو انتظامیہ کی جانب سے یا تو کہا جاتا ہے کہ اس بیماری کا علاج کمپنی قوانین کے تحت کمپنی کی زمہ داری نہیں ہے یا پھر کہا جاتا ہے کہ اس کے علاج کے اخراجات پچاس فیصد پینشنر کو برداشت کرنے ہونگے اور پچاس فیصد کمپنی دے گی اب ان سے کوئی پوچھے کہ جس پینشنر کی پینشن کئی سالوں سے نہ بڑھائی گئی ہو وہ کہاں سے طبی اخراجات برداشت کرے گا۔

یہاں ایک بہت اہم بات قارئین کے گوش گذار کرتا چلوں کہ ملازمین کی جانب سے آج تک جتنی درخواستیں جمع کروائی گئی ہیں اور ان پر عدالتی فیصلے آئے ہیں انہیں مختلف طریقوں سے حکم امتناعی کے حصول اور ملازمین کے خلاف کیسز میں انتطامیہ نے ہر سال جتنا سرمایہ استمال کیا وہی اگر اپنے پینشنروں کو روکے گئے اضافے کی صورت میں ہی دے دیتی تو شائید کچھ گھروں کے چولھے جل جاتے۔

Muhammad Arshad Qureshi

Muhammad Arshad Qureshi

تحریر : محمد ارشد قریشی