نگراں وزیراعظم بیرون ملک جائیدادوں کے مالک نکلے

 Nasir-ul-Mulk

Nasir-ul-Mulk

اسلام آباد (جیوڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نگراں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، نگراں وزیراعظم کے اسلام آباد میں 3 پلاٹ ہیں، فلور ملز، سی این جی اسٹیشن میں حصص کے علاوہ 10 کروڑ روپے کا بینک بیلنس ہے جبکہ وہ 3 لاکھ 80 ہزار ڈالر کے مقروض نکلے۔ سنگاپور اور برطانیہ میں ان کی جائیداد اہلیہ کے نام پر ہیں جن کے نصف فیصد حصص ان کے ہیں۔

نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس رٹائرڈ دوست محمد کا اسلام آباد میں ایک کروڑ97 لاکھ روپے مالیت کا گھر ہے، ان کے پاس15لاکھ 25 ہزار روپے مالیت کا پلاٹ ہے جبکہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب 2 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ منگل کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ نگران وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم جسٹس(ر)ناصرالملک کے نام پر پاکستان میں 14جائیدادیں موجود ہیں جبکہ وہ، ان کی اہلیہ سنگاپور اور برطانیہ میں جائیدادوں کی مالک ہیں۔ دستاویزات کے مطابق نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے اپنے اثاثوں میں سوات میں 8 مختلف اراضیاں ہیں جو گفٹ ظاہر کی گئی ہیں، ان میں 45 دکانیں بھی شامل ہیں جبکہ پشاور کی اراضی والد کی جانب سے تحفہ ظاہر کی گئی ہے۔ نگراں وزیراعظم کے پاس وفاقی دالحکومت اسلام آباد میں 3 پلاٹ ہیں۔

ان میں سیکٹر ڈی12اور جی14میں ایک، ایک کنال کے رہائشی پلاٹ جبکہ بحریہ انکلیو اسلام آباد میں 2 کنال کے پلاٹ کی قیمت 1 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ دستاویزات کے مطابق نگران وزیراعظم نے زیر تعمیر کانسٹیٹیوشن اپارٹمنٹ اراضی کی قیمت 4 کروڑ 33 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ جسٹس (ر) ناصر الملک کی اہلیہ سنگاپور اور برطانیہ میں جائیدادوں کی مالک ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ان کی اہلیہ کی سنگاپور میں واقع جائیداد کی مالیت 7 لاکھ14ہزار286 ڈالر ہے، اسی طرح برطانیہ میں 2 لاکھ 72 ہزار پاؤنڈز کی جائیداد بھی ہے، ان جائیدادوں میں جسٹس(ر) ناصرالملک کے نصف حصص ہیں۔ نگراں وزیراعظم کے فلور ملز، سی این جی اسٹیشن میں حصص کے علاوہ 4 مختلف بینکوں میں10کروڑ ، 25 لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے جبکہ ان جائیدادوں کے باوجود نگراں وزیراعظم 3 لاکھ 80 ہزار ڈالر کے مقروض نکلے ہیں۔

ایک ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ناصر الملک کے ا ثاثوں میں31 لاکھ روپے کے زیورات اور65 لاکھ روپے مالیت کا فرنیچر بھی شامل ہے۔ جسٹس (ر) ناصر الملک کی پراپرٹی پر 380، 363 ڈالر کا مورگیج موجود ہے۔ ان کی ہونڈا سوک 2012ء ماڈل کی کارکی مالیت 10 لاکھ روپے ہے جب کہ ٹویوٹا 2012ء ماڈل کی مالیت 48 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کے پاس70 لاکھ مالیت کا گھر ہے، اُنکے پاس 9 لاکھ 30 ہزار روپے کے کیش، پرائزبانڈز ہیں۔ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس 1کروڑ روپے کا بینک بیلنس ہے، نگران وزیراعلیٰ پنجاب 2 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس رٹائرڈ دوست محمد کا اسلام آباد میں 1 کروڑ97 لاکھ روپے مالیت کا گھر ہے، ان کے پاس15لاکھ 25 ہزار روپے مالیت کا پلاٹ ہے۔

نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے پلاٹوں کی مالیت انتہائی کم ظاہر کی گئی۔ نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے جی14اسلام آباد میں ایک کنال کے پلاٹ کی مالیت 4 لاکھ روپے ہے۔ نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے پاس جی17 اسلام آباد میں ایک کنال پلاٹ کی مالیت صرف69 ہزار روپے ظاہر کی گئی۔ نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختوخوا کے پاس اسلام آباد میں80 لاکھ روپے مالیت کا پلاٹ ہے۔

اس کے علاوہ ان کے پاس35لاکھ روپے کیش، ایک کروڑ 27 لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے۔ نگراں وزیراعلیٰ کے پی کے پاس23 ہزار روپے کے پرائز بانڈز بھی ہیں۔ اس کے علاوہ جسٹس رٹائرڈ دوست محمد نے ایک کروڑ31لاکھ روپے کی سالانہ آمدن ہے۔ علاوہ ازیں ذرائع کاکہناہے کہ نگران حکومت کے دیگر وزرائے اعلیٰ اور وزرا نے الیکشن کمیشن کے احکام پر عمل نہیں کیا۔ ناصرالملک، شمشاداختر، اعظم خان، دوست محمد اور حسن عسکری کے علاوہ کسی نے تفصیلات نہیں دیں۔ الیکشن کمیشن نے نگران وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کو یاد دہانی کا خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خط میں فوری طور پر اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کا کہا جائے گا۔ذرائع کے مطابق حلف اٹھانے کے 3 روز کے اندر اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا لازمی ہوتا ہے۔