وعدے کی ہمیت

Promise

Promise

تحریر: بائو اصغر علی

قران مجید کی سورة الاحزاب کی آیت نمبر 15 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں ”اللہ سے عہد کرنے کی باز پرس ہوگی ”یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ کسی سے کوئی وعدہ کر کے اپنے وعدے سے مکر جاتے ہیں وعدہ نہیں نبھاتے تو آپ کا شمار منکروں میں ہوتا۔ وعدے کے متعلق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو وعدہ وفا نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے ”کتنا واضح اور شفاف بتا دیا گیا ہے کہ وعدہ کی کتنی اہمیت ہے اور وعدہ خلافی کے نتیجہ میں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ ہم میں سے نہیں ہے ”ارے نادان دنیا والوں ۔۔ ذرا غور کرو اگر ہم وعدہ وفا نہیں کرتے تو پھر اس پیاری ہستی سے تعلق قائم رکھنے سے بھی قاصر ہیں پھر غور کیجئے ”وہ ہم میں سے نہیں ہے ” اللہ اللہ ۔ ”وہ ہم میں سے نہیں ہے ”دنیانادان ہے یہا ں لوگ کئی قسم کے وعدے کرتے ہیں اور اپنا مطلب نکال کر وعدے بھول جا تے ہیں ، ہمارے پیار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پاک کے پیارے محبوب سے جہل منکرلوگ وعدہ کرتے تھے کہ آپ فلاںکام کر کے دیکھائے تو ہم آپ پر پھر یقین کریں گے اور دین اسلام پر ایمان لائے گے جب ان کا کہا کام ہو جاتا تھا تو اپنے وعدے سے مکر جاتے تھے اور آج بھی جو اپنے وعدے سے مکر جاتے ہیں ان کا شمار آخرت میں منکروں میں ہی ہو گا یہ وہ تلخ خقیقت ہے جسے ہم جانتے بوجھتے نظر انداز کرتے ہیں۔

سورة البقرہ کے شروع میں اللہ تعالی فرماتا ہے ”اس کتاب میں کوئی شک و شبہ والی بات نہیں ”اسی طرح رب کائنات کاقرآن مجید فرقان حمید کی سورة العصرآیت نمبر دومیں فرمان مبارک ہے ” بے شک انسان گھاٹے میں ہے ”انسان ساری زندگی اس گمان میںاپنے شب و روز کرتا ہے کہ وہ دوسروں کیلئے بہت اہم ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ، آپ چار دن منظر سے غائب ہو کر دیکھیں لوگ آپ کا نام تک بھول جائیں گے۔

یہاں تک کہ مر جانے سے بھی کسی کی زندگی پر کوئی فرق نہیں آئے گا یہی لوگ ریسٹ ان پیس اور فیلنگ سیڈ یا برون کا سٹیٹس دے کر اپنی اپنی زندگی کی رعنائیوں میں گم ہو جائیں گے کیونکہ انسان دنیا کی رنگینیوں کا دلداد ہ ہے اور یہی رنگینیاں انہیں پسیتوں میں لانے کا باعث بھی ہیں لیکن حضرت انسان نے بھول کا روزہ رکھا ہوا ہے یہ روزہ کب کھلے گا نہیں معلوم ،آئو لوگوں ابھی بھی وقت ہے اللہ پاک کے حضور توبہ کا دروازہ کھولا ہے توبہ کر لواور اپنی زندگی کو اللہ پاک کے راستے میں وقف کیجئے کیونکہ اسلام کے اصول سنہری اور لازوال ہیں جب تک ہم اسلام کے ان سنہری اصولوں کو اپنا نصب العین نہیں بناتے تب تک ہم دین کے ہیں نہ دنیا ہے اور آخرت جو ایک اٹل حقیقت ہے وہاں بھی ہمارا ٹھکانہ جہنم کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔

رب کائنات سورة النصر کی آیت نمبر تین میں فرماتے ہیں ”اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے اور اس سے معافی مانگئے بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے”یعنی اپنے خالق کی حمد بیان کریں اس سے معافی کی درخواست کریں کیونکہ رب کائنات توبہ قبول کرنے والا ہے اللہ پاک کیلئے خود کو جہالت سے نکال کر حق اور سچ کی طرف لوٹ آیئے یہ دنیا ایک رنگین سپنا ہے جو بہت جلد ٹوٹ جائے گا اس میں خود کو تباہ نہ کیجئے ،سورة لقمان میں اللہ تعالی فرماتے ہیں ”پھر دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے ” آیت نمبر 33،سبحان اللہ ہمیں بتا دیا گیا ہے کہ دنیا کی جو عارضی زندگی ہے یہ ہمیں دھوکے میں ڈال سکتی ہے اس دھوکے سے بچنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ ہم صراط مستقیم پہ چلیںیہاں اپنی جھو ٹی شان و شوکت کیلئے کتنے کتنے جھوٹ بولے جاتے ہیں، کیا کیا بیس بنائے جاتے ہیں ۔کئی تنظیمیں بنی ہیں جن کو چلانے والوں کا کہنا ہوتا ہے کہ ہم غریبوں کیلئے یہ سب کر رہیں ہیں مگر غریبوں کے حصے چوتھائی بھی نہیں آتا بس سب اپنے پیٹ بھر رہے ہیں اور غریبوں کا مال کھا کر آخرت میں ذلت و رسوائی کا سامان بنا رہے ہیں خدا کیلئے دنیا کے فریب اور جھوٹ سیجان چھڑائیں اورآخرت کا سوچیں کچھ وقت اللہ پاک کی عبادت کیلئے نکالیں اسی میں دنیا اور آخرت کا سامان چھپا ہوا ہے۔

Bao Asghar Ali

Bao Asghar Ali

تحریر: بائو اصغر علی