پی ٹی آئی کے پرانے چاول

PTI

PTI

تحریر : انجینئر افتخار چودھری
مجھے حیرانگی اور دکھ بھی ہوتا ہے کہ آج کل پی ٹی آئی میں پھر وہ نئی بحث چل پڑی ہے کہ میں پرانا ہوں بلکہ ایک صاحب نے تو امین ذکی کی وال پر پوسٹ بھی لگا دی۔ کوئی صاحب حاصل پور سے ہیں کہ عمران خان نیا پاکستان بنانے میں ناکام ہو چکے ہیں یقین کیجئے میں اس قسم کی گفتگو پر تڑپ اٹھتا ہوں ایسے لوگوں سے میرا سوال ہے کہ عمران خان کو کیا تین بار اقتتدار ملا جو اس نے بجلی پانی سے سے ہمیں دور کیا؟ اس نے ملک کو لوٹ کھایا۔آج کوئی کہہ رہا تھا کہ راشد خانی خط آ گیا ہے۔بھولے بادشاہو یہ معاملہ بنی گالہ کی اس جائیداد کا ہے جو اس زمانے میں دو تین لاکھ کنال سے مہنگی نہیں تھی اس کی آڑ میں ایک اینکرہ فرما رہی تھیں کہ ہم نواز شریف کی کرپشن پر چپ نہیں اس پر بھی نہیں رہیں گی۔اللہ ہدائت دے کہاں بنی گالہ کی پراپرٹی اور کہاں پانامہ لیکس میں سامنے آنے والی جائیدادیں۔بہر حال جواب اس کا بھی ملے گا اور شرمندگی کا سامنا وہاں بھی ہو گا۔

یہ ذہنی خلفشار کا شکار لوگ بس ایسے ہی تھانیداری کر کے نمبر ٹانکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس روز سی ای سی کی میٹینگ میں بھی خان صاحب کا یہی کہنا تھا کہ کچھ پرانے دوست پارٹی کو آگے نہیں بڑھنے دے رہے ذرا سی بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں میں پرانا ہوں میں نے پارٹی کو اس وقت جائن کیا جب یہ پارٹی تانگے کی سواری تھی جی ہاں میں بھی مانتا ہوں کہ آپ پرانے تھے آپ نے اس وقت پارٹی جائین کی جب پارٹی کوئی نہیں جانتا تھا مگر میرا یہ سوال بھی لیتے چلئے آپ کو اس وقت کون جانتا تھا؟میری بات نہ کیجئے میں اللہ کے کرم سے میاں نواز شریف کے معتمد رہا ہوں ان کے لئے جیلیں کاٹیں وہ مجھے ذاتی طور پر جانتے تھے ٢٠٠٢ کے الیکشن میں مجھیالیکشن لڑنے کا کہہ چکے تھے۔مان کے اس وقت پی ٹی آئی کو کا شہر میں کوئی نہیں تھا لیکن حضور کیا ہوا آپ چاولوں کی طرح بوری ہی میں بند رہے اور بند رہ رہ کر آپ کی قیمت بڑھ گئی ہاں سلام ان کو جو ہماری طرح ہر جگہ پارٹی پارٹی کھیلتے رہے سڑکوں پر جیلوں میں کارکنوں کے ساتھ احتجاج میں میری مراد ان سے ہے جو بس شامل تو ہو گئے پر شامل ہی رہے جب بھی انہیں کہا گیا کہ چلو وہاں جانا ہے مظاہرہ ہے کہہ دیا جناب آج تو میری بیٹی کے سسرال آ رہے ہیں آج پوتے کی سنتیں ہیں غرض ڈنگ ٹپائو نعرے ماریں گے واہ عمران تیری کیا بات ہے ؟اس روز ایئر پورٹ سوسائٹی پر کیمپ لگایا ایک ایک دراز ریش آ گیا کہنے لگا یہاں میری دکانداری ہے گانے نہ لگائیں مائیں بہنیں آتی ہیں میں نے اس شیطانی روح کو جواب دیا کہ مائیں بہنیں بیٹیاں تو میری آتی ہیں سودا سلف لینے تمہیں کیا تکلیف ہے اور تم تو سودا بیچتے ہو حرام خوری کرتے ہو دس کی چیز بیس میں فروخت کرتے ہو۔پھر جو میں پھٹا(قائد کہا کرتے ہیں افتخار تم پھٹ رہے ہو) تو سپیکر پر کہا کہ سب کی خواہش ہے کہ مہنگائی دور ہو کرپشن ختم ہو مگر ہم دکان نہ بند کریں ہم عمران خان کے جلسے میں نہ جائیں مرے کھپے عمران اور انجینئر افتخار عامر کیانی ہارون ہاشمی اور تم کمائو پیسے لوٹو لوگوں کے ایسے لوگوں کا گائوں مخنس لوٹتے ہیں یہ وہ زاہد ہیں جو پوری بستی کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔

اس دن مفتی کفائت اللہ کو کھری کھری سنائیں کہ جب لال مسجد کے بچے جل رہے تھے تم اور تمہارا مولوی فضل مشرف کی گود میں بیٹھا تھا اور ہم انتہا پسندی کی مخالفت کر رہے تھے اس روز خان نے کہا کہ دو انتہا پسندوں کا ٹکرائو ہوا ہے اگرلال مسجد والے زیادتی کر رہے تھے تو اسٹیٹ کا حق نہیں پہنچتا تھا کہ ان پر چڑھ دوڑتی۔(یہ تحریک انصاف کے لبرلز بھی نوٹ کر لیں)میں نے پرانے چاول کی ٹرم اس لئے استعمال کی کہ کچھ لوگ کرتے ورتے کچھ نہیں اور جیب سے کارڈ نکال لاتے ہیں میں پرانا ہوں کچھ پرانے ایسے بھی ہیں جو ہیں تو پرانے مگر پارٹی کولوٹتے رہے ویگنوں کے نام پر ڈنڈوں اور جھنڈوں کے نام پر ۔ایک محفل میں میں اشارتا کہا تو بڑے بڑے سینگوں والے میرے گلے پڑ گئے میرے ایک سینئر دوست نے کہا تھا انجینئر صاحب وقت آنے دیں ان لوگوں کی اولادیں کہیں گی once upon a time my grand father was…..میں زیادہ لکھ کر ان کا بھانڈہ نہیں پھوڑناچاہتا جو کارکنوں کی گاڑیوں کے آگے سپیکر لگا کر جعلی اعلان کراتے رہے کہ فلاں پھنے خان کی قیادت میں جلوس آ رہا ہے۔کچھ کو دعوی ہے کہ میں نے اتنے ووٹ لئے۔اسی کو لے کر اچھل رہے ہیں اور فیس بک پر اپنے چمچوں سے اعلان کروا رہے ہیں کہ فلاں خان آیا تو یہ ہو جائے گا۔

وہ ہو جائیگا خاک ہو جائیگا اپنی یو سی ہار کر اس شخص کو چیلینج کر رہے ہیں جس نے وزیر داخلہ کو پچھاڑا تھا اور اللہ بے نیاز ہے کچھ کا اللہ نے بھانڈہ پھوڑ دیا اپنی وارڈیں اور اپنی یو سییاں بری طرح ہار گئے۔کچھ ویگنیں کرائے پر دکھا کر نوٹ بناتے رہے یہ میرے نزدیک پارٹی کے وہ کدو ہیں جو ہیں ٹھنڈے مگر کھائو گروپ میں شامل رہے۔ایک صاحب کی بے بے فوت ہو گئی ختم بھی مقامی کرپٹ بندے کے نام ڈال دیا۔حیف ہے ایسے پرانے چاولوں پر۔رات کو چینیل پر یہی بحث چل رہی تھی ایک نے پوچھا آپ این اے ٥٦ سے آ رہے ہیں فیاض چوہان کے جلسے سے اگر دونوں ٹکٹ شیخ صاحب کو مل گئے تو کیا کریں گے میں نے برملا جواب دیا مل گئے تو اپنے پرانے دوست کی کمپیئن سائیکل پر بھی کریں گے۔ہم پارٹی کا فیصلہ مانتے ہیں شخصیات کا نہیں۔میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ تقابل کرو اور دیکھو کہ کون اپنے گائوں میں بھی جیتا اور کون اپنی رہائیشی علاقے میں جیتا کس کے ابے نمائیدے منتحب ہوتے رہے کس کے بیٹے بھانجے بھتیجے عوامی نمائیندگی کا حق حاصل کرتے ہیں۔اللہ کا کرم ہے ہم پرانے ضرور ہیں مگر بوریوں میں بند چاول نہیں رہے۔نوکری صرف اسد عمر بھائی نے نہیں چھوڑی احسن رشید اور انجینئر افتخار بھی چھوڑ کر آیا اور آیا بھی عمران خان کی دعوت پر۔آج آپ عمران سے کہتے ہو کہ وہ نیا پاکستان بنانے میں ناکام رہا۔

ان جعلی لیڈروں سے میرا سوال ہے کہ عمران خان کب وزیر اعظم بنا جو نیا پاکستان بنا سکتا۔اس کو ایک حکومت صوبے میں ملی جائو جا کر دیکھ لو کہ پولیس جنگلات محکمہ صحت اسکول بدلے یا نہیں۔میرا خدا گواہ ہے میں بنیادی طور پر ہزارے وال ہوں میرا گائوں بدل گیا ہے ویلیج کونسلیں بہت کچھ کر رہی ہیں کہتے ہیں کے پی کے پولیس پہلے سے بہتر تھی شرم آنی چاہئے پولیس کی ٹرینننگ انسداد دہشت گردی کی وارداتیں بتا دے گیں کی کے پی کے پولیس کہاں کھڑی ہے جنگلات کے محافظ بکریوں اور انسانوں کی جنگلاتی دہشت گردی کو روک چکی ہیں درختوں کی سونامی کے پی کے کو بدل چکی ہے۔بس کیجئے اور گھروں سے نکلیئے دھوپ میں کارکنوں کی مدد کو نکلیں آج سردار ناصر کا فون تھا وہ ایبٹ آباد گئے ہوئے تھے ان کی ایک کال پر ہمارے ساتھ سہیل عبداللہ عباسی کو پولیس اسٹیشن بھیجا کسی کا بل زیادہ آیا ہوا تھا ایس ڈی او سے ملا کسی کو پانی چاہئے تھا ٹینکر والے کو کہا ۔روز دس بیس کام کرتا ہوں کسی کی نوکری ہو کسی کو گائیڈ کرنا ہو حتی کے چھوٹے موٹے کام ۔میری ٹیم ہر وقت سر گرام رہتی ہے یہ پی پی ٦ یا این اے ٥٢ ہی نہیں جہاں کہیں بس چلتا ہے دوستوں کی مدد کی جاتی ہے۔

پی ٹی آئی کے کارکن اس فن کو سمجھنے کی کوشش کریںکسی ایک شخص کے روزگار کا بندوبست کرنا سمجھیں اس کی پوری فیملی کو سہارا دیا ہے آج سے بڑی دعائوں کا خزانہ ان لوگوں کی جانب سے ہے۔برسوں پہلے نوید نے میڈم شیرین مزاری کو جاب فیئر کا آئیڈیا تھا اللہ کے کرم سے کے پی کے گورنمنٹ نے اس پر عمل کیا۔ہمیں جاب سیل بنانے ہوں گے پیپلز پارٹی کا کمال یہ تھا کہ اس نے لوگوں کو نوکریاں دیں جو آج بھی ان کے مددگار ہیں۔ہمیں بھی لائق لوگوں کو ملازمتیں دینا ہوں گی۔میرے لئے آج بھی لوگ حرم میں دعائیں کرتے ہیں۔ایک صاحب نے موبائل حرم کی چوکھٹ پر رکھا اور کہا چودھری صاحب دعا منگئے میرا موبائل اللہ کے گھر کے دروازے سے مس ہے۔میرے نصیب یہ وہ لوگ تھے جنہیں اپنے قیام سعودی عرب میں نوکریاں دلوائیں۔ناغی موٹرز کے سینکڑوں ملازم ہیں کسی ایک سے پوچھ لینا کہ یہاں کوئی پاکستانی انجینئر افتخار چودھری بھی رہ کر گیا ہے؟ساری زندگی میں ملازمتوں کے دوران پاکستانیوں کو ترجیح دی جس کمپنی میں ایک گیا بیسیوں چھوڑ کر نکلا میں سلام پیش کرتا ہوں گجر خان کے چودھری عبدالزاق گجر کا جو جنرل موٹرز کے انتہائی اعلی عہدے پر رہے انہوں نے بوٹے لگائے نوید کی صورت میں جو کراچی سے تعلق رکھتے ہیں۔اور انہوں نے پاکستانیوں کو فٹ کیا اور ہم نے چراغ آگے جلائے۔مجھے نوید نے مدینہ میں اے ڈی اے الحسینی میں جاب دلوائی جو خاقان عباسی شہید کی تھی میں نے کہا کوئی خدمت کہنے لگے بس چراغ سے چراغ جلائے رکھنا۔میں کوئی بڑا آدمی نہ تھا لیکن اس کام میںبڑا تھا۔جدہ میںچھ ہندسوں میں تنخواہیں لینے والے بھی تھے مگر پاکستانیوں سے ہاتھ ملاتے انہیں گن آتی تھی ہم چھ نہیں پانچ والے تھے اللہ کے کرم سے مزدور کو سینے سے لگا کر نوکری پر کھڑا کرتے تھے یہی کچھ پاکستان میں کیا غریب کی انگلی پکڑی۔پرانے چاولو خدا کا خوف کرو لوگوں کو پارٹی میں خوش آمدید کہو اور خان کے ہاتھ مضبوط کرو۔جو کام میں کیا کرتا تھا وہ مرحوم احسن رشید کو بھی اللہ نے ایسی صلاحیت دے رکھی تھی اور ذوالقرنین علی خان بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں۔میں ان پرانے چاولوں سے درخواست کرتا ہوں بوریوں سے باہر نکلیں اور لوگوں کی زندگی آسان بنائیں۔

Engineer Iftikhar Chaudhry

Engineer Iftikhar Chaudhry

تحریر : انجینئر افتخار چودھری