پنجاب میں آپریشن پر سوال؟؟ ‎

Operation in South Punjab

Operation in South Punjab

تحریر : عاصم ایاز، پیرس فرانس
جنوبی پنجاب میں آپریشن ضرور کریں اور جلدی کریں. لیکن 1 ایک نہیں دو 2 آپریشن.. آج کل ہر طرف یہ بات زیر گردش ہے کہ جنوبی پنجاب دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے جہاں آپریشن کرنا چاہیے. ہم بطور محب وطن پاکستانی اور شہری ہر اس جگہ پر آپریشن کے بھر پور حق میں ہے جہاں وطن عزیز اور اسکے باسیوں کے دشمن کسی بھی صورت موجود ہیں. چاہے وہ کراچی ہو وزیرستان ہو یا ڈی جی خان.لیکن جناب جنوبی پنجاب کے ماؤنٹ ایورسٹ پہاڑ جیسے مسائل کا حل بھی وقت کی اشد ضرورت ہے دوسرا آپریشن ادھر بھی کریں.

مثال کے طور پر اگر صرف ڈی جی ڈویژن کی بات کرے جس میں چار اضلاع .لیہ. مظفرھ گڑھ.ڈی جی خان.اور راجن پور شامل ہیں کوئی حکومتی اہلکار یہ بتانا پسند کریگا یا کسی کو معلوم بھی ہے کہ ایک کروڑ انسانوں کی آبادی سے زائد ان چار اضلاع کے لیے صحت کے شعبے میں کتنے فنڈ رکھے گے صوبائی بجٹ میں. ان چار اضلاع کے لاکھوں باسیوں کے لیے کیا ایک بھی ہارٹ کا ہسپتال جیسے کارڈیولجی سنٹر کا نام دیا جاتا ہے موجود ہے کیوں یہاں کے سرکاری ہسپتال تمام مرکزی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں.

آج تک برن سنٹر تک نہ بنایا جاسکا اور ان چاروں اضلاع کے ہر مریض کو نشتر ملتان کی راہ کیوں دیکھائی جاتی ہےان چار اضلاع میں قیام پاکستان سے لیکر آج تک کتنے یونیورسٹی بنائے گے تاکہ اس خطے کے بچے بھی آعلی تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر اور انجینر بن سکے.

Tribesmen Child Education

Tribesmen Child Education

دلچسپ بات یہ کہ اس ڈویژن کے دیہی علاقوں میں موجود سکولوں پر مقامی بااثر لوگوں نے قابضہ کرکے انکو مہمان خانہ اور جانوروں کے استبل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ استانزہ کرام کو گھر بیٹھے ماہانہ تنخواہیں مل جاتی ہیں انہیں اور کیا چاہیے پنجاب کے واحد قبائلی علاقے جو کہ ڈی جی خان اور راجن پور کے قبائلی علاقہ کہلاتا ہے اس میں سیکڑوں سکول موجود ہیں مگر ان میں اکثریت بند پڑی ہے اور ان بااثر یا مالدار قبائلیوں کے بچے ملتان لاہور اور ڈی جی خان شہر میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر عام قبائلیوں کے بچے تعلیم سے محروم ہوکر بھیڑ بکریاں چرانے پر مجبور ہیں.

پنجاب کے اس واحد قبائلی علاقے میں آسی فیصد علاقے میں نہ بجلی ہے نہ گیس ہے نہ پختہ روڈز ..باقی سب کو چھوڑیے پینے کے لیے پانی آج بھی صدیوں پہلے کی طرح بارش سے بھرے گندے تالابوں کا پیا جاتا ہے جسکی وجہ سے ہر تیسرا شہری ہیپا ٹاٹیٹس اور کنیسر کے موذی مرض میں مبتلا دیکھائی دیتا ہے قبائی علاقے پر ترس کھاتے ہوئے بلاشبہ اس بار حکومت نے اس علاقے کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے جو یعقیقنن اونٹ کے منہ زیرے کے برابر ہیں مگر پھر بھی حکومت کی مہربانی جو کہ اس علاقے کے لیے کسی غنیمت سے کم نہیں لیکن صد افسوس اس خطیر رقم کو جس بے دردی سے ہڑپ کیا جا رہا اسکی بھی مثال نہیں ملتی.

ایسے علاقوں میں سولر سسٹم دیے جارہے ہیں جہاں پینے کا پانی کا ایک کین یا ڈبہ بھرنے کے لیے میلوں کا سفر کیا جاتا ہے اگر محض چند لاکھ کے منصوبے شفاف طریقے سے اور سخت چیک اینڈ بیلنس کے زریعے خرچ کیے جاتے یا کیے جائے تو پانی ان قبائلیوں کو گھر میں میسر کی جاسکتی ہے لیکن وہاں پانی جو انسان کی زندگی کی بنیاد ہے اسکی بجائے چار چار انرجی سیور دیے جارہے تاکہ قبائلی روشنی میں جاکر پانی ڈھونڈے. پھر کمیشن اور ٹھیکدار مافیا کروڑوں کہاں سے کمائے.کہتے ہیں کہ یہاں مدارس بہت زیادہ ہیں اسکی وجہ یہاں کے لوگ انتہائی غریب ہیں.

Terrorist

Terrorist

ہر شخص بچوں کی تعداد اوسطا پانچ سے زیادہ ہے جسکی وجہ سے انکی پرورش بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتی اور جب انہیں کوئی کہتا ہے کہ اپنے بچوں کو مدرسے میں داخل کراو کم سے کم روٹی کھانا کپڑے رہائش اور دینی تعلیم تو فری ملیگی جس کی وجہ سے مدارس کی تعداد بھی بڑھ گی درس لینے والوں کے ساتھ ساتھ.چار اضلاع کے لیے واحد ائیر پورٹ ڈی جی خان میں تھا جس ان چار اضلاع کے علاوہ دیگر دس اضلاع کے شہری بھی مستفید ہوتے تھے مگر گزشتہ حکومت میں اس کا بھی حشر نشر کردیا گیا جہاں ایک ہفتے میں دس دس فلائٹ آتی تھی اب صرف دو فلائٹ آتی ہیں نشتر ہسپتال کی طرح اس ڈویژن کے سمندر پار رہنے والے آنے جانے کے لیے ملتان کا طویل سفر کرنے پر مجبور ہیں مختصر آپریشن ضرور کریں لیکن جناب ہسپتالوں کی حالت بہتر بنائے سکولوں میں استانزہ کی حاضری کو یعقینی بنایا جائے.

قبائلی علاقے میں ہزاروں قبائلیوں کی صاف پانی کی فراہمی یعقنی بنایا جائے ایک دو اچھے یونیورسٹیز اور کالج اگر بن جائے ائیر پورٹ کی حالت زار پر ترس کر کے فلائٹس کی تعداد بڑھائی جائے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائے تو یعقین کرے پہلے آپریشن کی ضرورت ختم ہوجائیگی .یہاں کے باسی دہشت گرد نہیں ہیں لیکن کھچ کو غربت و افلاس اور جہالت نے دہشت گردوں کے ہاتھے ضرور چڑھا دیا جسکا فائدہ وہ ظالم لوگ آٹھا رہے ہیں.

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس علاقے پر ترقیاتی کاموں کے حوالے سے اگر فوکس دیا گیا اور یہاں کی نوجوان نسل کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکول و کالج و یونیورسٹی کی سہولت دستیاب ہوئی تو وہ بھی ہڑھ لکھ کر ڈاکٹر و انجنیر بن کر ملک و قوم کی خدمت کرسکے گے .خدا ہمارے ملک عزیز پر اپنا کرم و سایہ کرے اور ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ کرے آمین.پاکستان زندہ باد..غربت بھوک افلاس جہالت دہشت گردی مردہ باد.

Asim Ayaz

Asim Ayaz

تحریر : عاصم ایاز، پیرس فرانس