پرایئوٹ یونیورسٹیز اور طلباء کا مستقبل

Private Universities Students

Private Universities Students

تحریر : محمد نواز بشیر
محکمہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پنجاب کی 24 میں سے 18 یونیورسٹیز میں غیر قانونی و غیر منظور شدہ ڈگری پروگرامز کروائے جانے کے انکشاف کے بعد تاحال ایچ ای سی پنجاب اپنی پوزیشن واضح نہیں کر سکی کہ ایم فل پروگرامزمیں داخلہ کے خواہشمند طلباوطالبات پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے غیر منظور شدہ ایم فل پروگرامز میں داخلہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟ یاد رہے کہ محکمہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جو انکشاف کیا گیا تھا اُن میں صوبہ پنجاب میں 18 یونیورسٹیز تھی جن میں 14 یونیورسٹیاں لاہور شہر میں موجود ہیں ان یونیورسٹیز نے ایم فل پروگرامزکے داخلوں کے ساتھ ساتھ باقاعدہ طور پرایم فل کی کلاسز بھی شروع کروا رکھی ہیں۔ اس سے لگتا توکچھ یوں ہے کہ جیسے سیاسی اور سفارشی کلچر نے ان پرایئوٹ یونیورسٹیزمافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی اجازت لیئے بغیر غیر قانونی اور غیر منظور شدہ ایم فل پراگرمز کروانے کا دھندہ جاری رکھیں۔

لاہور جو پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اس شہر میں پنجاب کی ساری بیوروکریسی بشمول محکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ہوتے ہوئے بھی ایم فل پروگرامز میں غیر منظور شدہ ڈگریاں کروانے میں بڑی بڑی پرائیویٹ یونیورسٹیز کے ناموں کا سامنے آنا پنجاب حکومت اور محکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پر ایک بہت بڑاسوالیہ نشان ہے ؟یہ یونیورسٹیز طلباء کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیئے پہلے مختلف اخبارات میں جعلی اشتہارات شائع کروا کرطلبا اور اُن کے والدین کا اعتماد حاصل کرتے ہیں پھر اُن سے لاکھوں روپے کی مد میں فیس بٹورتے ہیں ۔اِس کے ساتھ ساتھ یہ مافیا طلباء کے ساتھ فراڈ بڑے ہی ٹیکنیکل انداز میں کچھ یوں کرتا ہے کہ اِن پرائیوٹ یونیوسٹیز کے ایڈمیشن آفس میں بیٹھا مافیاہر سٹوڈنٹ کو یہی کہتا ہے کہ آپ اپنی ایم فل داخلہ فیس جمع کروا دیں آپ کا داخلہ ہو گیا ہے ہماری یونیورسٹی میں ایم فل کے لیئے انٹری ٹیسٹ معنی نہیں رکھتا اسی دوران ایڈمیشن آفس میں بیٹھے یونیورسٹی کے چند دوسرے لوگ جو یونیورسٹی ایڈمیشن کی یونیورسٹی کی طرف سے ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں وہ ایم فل پروگرامز میں داخلہ لینے آئے طالبعلموں کو اِدھر اُدھر کی باتیں سنا کر طالبعلموں سے ایک اشٹام پیپر پر دستخط بھی کروا لیتے ہیں اُس اشٹام پیپر پر یہ درج ہوتا ہے کہ آپ کو ایک سال کے اندر اندر یونیورسٹی انٹری ٹیسٹ پاس کرنا ہو گا، اگر آپ یونیورسٹی انٹری ٹیسٹ پاس نہیں کر سکے تو پھرآپ کو ہر صورت Gate کا ٹیسٹ پاس کرنا ہو گا، اگرGate ٹیسٹ بھی نہیں پاس کر سکے توپھر آپ کا ایڈمیشن کینسل ہو سکتا ہے۔

جب یونیورسٹی کی طرف سے طالب علم کو ایڈمیشن کینسل ہونے کا بتایا جاتا ہے تو طالبعلم ذہنی مریض بن کے رہ جاتا ہے کہ میں اب کیا کروں میں تو فیس بھی جمع کروا چُکا ہوں اور یونیورسٹی بھی اُس وقت تک ایم فل کے اُس طالبعلم سے ہزاروں روپے فیس وصول کر چُکی ہوتی ہے۔خیر طالبعلم اپنے تحفظا ت یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس لے کر جاتا ہے کہ مجھے ایڈمیشن آفس کی طرف سے تو یہ کہا گیا تھاکہ ایم فل کے لیئے انٹری ٹیسٹ ہماری یونیورسٹی میں کوئی معنی نہیں رکھتا، تولاچار اوربے بس طالبعلم کو ایڈمیشن آفس سے جواب ملتا ہے کہ آپ نے اشٹام پییر پر ہمیں لکھ کر دیا ہے کہ میں ایک سال کے اندر اندرانٹری ٹیسٹ پاس کروں گا ،یہ وہی اشٹام پیپر کی بات ہوتی ہے جس پر یونیورسٹی انتظامیہ جانے انجانے فیس جمع کروانے سے پہلے طالبعلم سے اشٹام پیپر پر دستخط کروا لیتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرپرایئوٹ یونیوسٹیز نے ایم فل کے لیئے انٹری ٹیسٹ لینا ہی ہے تو وہ بچوں سے داخلہ ہونے سے پہلے کیوں نہیں لیتے ؟اس کا جواب کچھ ماہر تعلیم یوں دیتے ہیں کہ اگر پرایئوٹ یونیوسٹیز انتظامیہ ا یم فل کے طالبعلموں سے انٹری ٹیسٹ داخلے سے پہلے لے لیں تو بعد میں یہی پرایئوٹ یونیورسٹیز ان طالبعلموں سے لاکھوں روپے نہیں بٹور سکتی ۔ اس لیئے یہ مافیا ایم فل انٹری ٹیسٹ بچوں کا داخلہ ہو جانے کے بعد کنڈکٹ کرواتاہے تاکہ جو بچے ایک سال میں انٹری ٹیسٹ پاس نہیں بھی کر سکیں تو اُن بچوں سے لاکھوں روپے فیس کی مد میںکمائے جا سکیں۔یہ تو حکومت وقت اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کا فرض بنتا ہے کہ ان پرایئوٹ یونیوسٹیز کو پابند کریں کہ اگر ان یونیورسٹیز نے ایم فل کے لیئے انٹری ٹیسٹ لینا ہی ہے تو سرکاری جامعات کی طرح پہلے ایم فل انٹری ٹیسٹ لیں اور جو بچے انٹری ٹیسٹ میں کامیاب ہو جائیں صرف اُن بچوں کو ایم فل میںداخلہ کے لیئے چالان فارم ایشو کیئے جائیں۔

اب اُن طلبہ کی بات کرتے ہیں جو اِن پرائیوٹ یونیورسٹیز سے ہائیرایجوکیشن کمیشن سے غیر منظور شدہ ایم فل کی ڈگری حاصل کر لیتے ہیں ۔ تو پھر وہی طلبہ کل کو اپنی ایم فل کی ڈگری مکمل کر نے کے بعد ڈگری کی تصدیق کے لیئے ہائیرایجوکیشن کمیشن کے آ فس جاتے ہیںاُدھر سے پتہ چلتا ہے کہ اِس یونیورسٹی کی یہ ایم فل کی ڈگری جو آپ کر چُکے ہیں ہائیرایجوکیشن کمیشن سے تو منظور ہی نہیں ہے لیکن اُس وقت تک طالبعلم پرائیوٹ یونیورسٹیز انتظامیہ کو وہ ڈگری حاصل کرنے کے لیئے لاکھوں روپے فیس دے چُکا ہوتا ہے اور اُس فیس کے بدلے طالبعلم کو صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا حاصل ملتا ہے جو صرف کاغذا کا ٹکڑا ہی ہوتا ہے۔اور ایسا اکثرلاہور میں ہر سال دیکھنے کو ملتا ہے کبھی لیڈز یونیورسٹی کے ایم فل طالبعلموں کے ساتھ تو کبھی بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے ایم فل طالبعلموں کے ساتھ۔ اور پھر یہی طالبعلم تھکے ہارے لاہور کی اہم شاہرئوں کا رخ کرتے ہوئے سڑکوں کو بلاک کر دیتے ہیں۔اس سارے عمل میں طالبعلموں اور ان کے والدین کا بھی برابر کا قصور ہوتا ہے کیونکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب نے جن یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز کو غیر منظور شدہ قرار دیا تھا اُن یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز میں طالبعلموں نے داخلہ کیوں لیا؟لیکن پھر بھی حکومت وقت اورمحکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب پر یہ ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے کہ سرکاری یونیورسٹیز میں ایم فل کے داخلے بند ہونے کے بعد پرایئوٹ یونیورسٹیز نِت نئے اندازاور مختلف اخبارات میں اشتہارات د ے کر طالبعلموں کو دھوکے میں لا کر لوٹتے ہیں۔ اب بھی پنجاب سمیت لاہور میں بہت سی جامعات ہیں جو ایم فل کی کلاسز ہفتے میں صرف دو دن کرواتی ہیں۔

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ملک میں یونیورسٹیز کو کنٹرول کرنے والے ہائیر ایجوکیشن کمیشن جیسے خود مختار ادارے کے ہوتے ہوئے بھی پرائیویٹ یونیورسٹیز ایک طاقت ور مافیا کی شکل اختیار کرچُکی ہیں،اور اِسی مافیا نے ایم فل کی تعلیم کو اب مارکیٹ میں صرف ڈگری فروخت کرنے کی حد تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ۔دیکھا جائے تو جب سے اِن پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے تعلیم کو دکانداری سمجھا ہے اس وقت سے لے کر اب تک پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار تیزی سے گر رہا ہے، اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں پر سوالیہ نشان بھی لگ رہا ہے ۔کیونکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق ان پرایئوٹ یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلوں کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں جن میں طلباء کی تعداد ضوابط سے کئی گنا زیادہ اور مستقل فیکلٹی کا پی ایچ ڈی نہ ہونا سرفہرست ہے۔

بتایا یہ جا رہا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے جن بتیس یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز کوغیر منظور شدہ قرار دیا ہے ان میں اکثر یونیوسٹیز کے پاس ایک بھی مستقل پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبر نہیں ہے۔اور نہ ہی ان پرائیوٹ یونیورسٹیز میں ایم فل کلاسز کے دورن سکالر زکے لیئے ملٹی میڈیا، ریسرچ لیبز،انٹرنیٹ کی سہولت میسرہوتی ہے ۔ان تمام وجوہات کی بنا پرہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے بتیس یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز کو غیرمنظور شدہ قرار دیا ہے ۔اس لیئے یہ کہنا درست ہو گا کہ آج بھی سرکاری یونیورسٹیز میں تعلیمی معیار اور داخلے کی شرائط شفاف اور میرٹ پر ہوتی ہیں۔ اگر ہم دوسری طرف پرائیوٹ یونیورسٹیوں کی بات کریں تو اِن یونیورسٹیوں میں ہو ہر اُس شخص کو داخلہ مل جاتا ہے جوفیس بھر سکتا ہو۔لہذاہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کو چاہیئے کہ ایم فل پروگرامز کے داخلوں کے وقت باقاعدہ طور پر ٹی وی ،اخبارات اور دیگر ذارئع ابلاغ میں اشتہارات کے ذریعے ایم فل کے طالبعلموں اور اُن کے والدین کو مکمل طور پر آگاہ کریں کہ کن کن پرایئوٹ یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز محکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب سے منظورشدہ اور رجسٹرڈ ہیں۔ باقی تمام پرایئوٹ یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز غیر قانونی ہیں اس لیئے کوئی بھی طالبعلم ان پرایئوٹ یونیورسٹیز میں ایم فل کرنے کے لیئے داخلہ نہ لے۔پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے منہاج یونیورسٹی سمیت اُن تمام یونیورسٹیز کو الگ الگ وارننگ لیٹرز جاری کرتے ہوئے ہدایات جاری کر دی ہے کہ مذکورہ یونیورسٹیز اپنے غیر منظور شدہ ڈگری پروگرامز کے متعلق پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کو جواب جمع کروایں۔

Nawaz Bashir

Nawaz Bashir

تحریر : محمد نواز بشیر
nawaz.fm51@yahoo.com